58

اسے پرواز کرنے دو!‏

 ‏12 جولائی 1997ء کو سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں ایک روشن خیال جوڑے کے گھر ایک بچی نے جنم لیا تو کسی کو گمان تک ‏نہیں تھا کہ یہ لڑکی بڑی ہوکر دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت اور پہچان کا حوالہ بنے گی۔ بچی کی پیدائش پر اس کے دادا اور خاندان کے دیگر افراد ‏نے کسی قسم کی مسرت کا  اظہار نہ کیا لیکن اس بچی کی آنکھوں اور چہرے میں ایک ایسی کشش تھی کہ جو اسے دیکھتا بے ساختہ اُسے گود میں ‏اٹھانے اور پیار کرنے پر مائل ہوجاتا۔ اپنے ماں باپ کے لئے یہ معصوم بچی ناقابل بیان خوشی اور مسرت کا سندیسہ لے کر آئی تھی۔ وقت ‏گزرنے کے ساتھ ساتھ اس لڑکی کی فطری ذہانت اور انفرادی خوبیاں نمایاں ہونے لگیں۔ ابھی وہ نو یا دس برس کی تھی کہ اس کے دادا نے ‏اس کے والد کے لئے  دعا کی کہ ’’خدا تمہارے گھرانے کو ایسی خوشیوں سے نوازے جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہوں اور نہ کانوں نے سنی ‏ہوں۔‘‘ اس دعا کو رب العالمین نے شرفِ قبولیت بخشا اور یہ لڑکی آج دنیا بھر میں ملالہ یوسف زئی کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ ‏

 غیرمعمولی ذہانت اور شعور کی مالک ملالہ نے  کن حالات میں بی بی سی کی اردو سروس کے لئے مراسلات اور بلاگز لکھنے کا آغاز کیا اور ‏اکتوبر 2012ء میں طالبان نے جس طرح اس کی جان لینے کی کوشش کی اس کی تفصیلات سےپاکستانیوں کی  اکثریت آگاہ ہے۔ 17 برس کی عمر ‏میں اس بہادر لڑکی کو نوبل پرائز ملنا ہر باشعور پاکستانی کے لئے مسرت اور فخر کا باعث ہے۔ ملالہ پاکستان سمیت دنیابھر کے پس ماندہ ممالک میں ‏لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کی عَلم بردار اور جہالت کے خلاف برسرپیکار ہے۔ پاکستان کو بداَمنی کی آماج گاہ بنانے کے خواہش مند انتہاپسندوں ‏کی آنکھ میں ملالہ یوسف زئی کی روشن خیالی کانٹے کی طرح چبھتی رہتی ہے اور وہ اس نڈر لڑکی کے خلاف پروپیگنڈے کا کوئی موقع ہاتھ سے ‏جانے نہیں دیتے۔ ‏

 خالقِ کائنات نے انسانوں  کو عزت اور زندگی دینے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے وگرنہ علم دشمن انتہاپسند ہر روشن خیال لڑکی کو موت ‏کی نیند سلاچکے ہوتے۔ انتہاپسندی ہمیشہ نفرتوں کوجنم دیتی ہے۔ جو معاشرے انتہاپسندی کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، وہاں  لوگوں کی قوتِ ‏برداشت یعنی ٹالیرنس لیول میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان فکری اور عملی طور پر انتہاپسندی کی ‏لپیٹ میں آچکا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سنا، اس سے اختلاف اور اُسے برداشت بھی کیا جاتا تھا لیکن اب ایسی ہوا چلی ‏ہے کہ اختلاف رائے کرنے یا مختلف انداز سے سوچنے والوں کو واجب القتل سمجھا جانے لگا ہے۔ انتہاپسندی کی آگ کو بھڑکانے اور پھر اسے ‏ہوا دینے والوں سے ہماری قوم پوری طرح واقف ہے لیکن اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس انتہاپسندی کا خاتمہ کیسے کیا جائے کیوں کہ پاکستان کی ‏ترقی، خوش حالی، امن و امان اور اقتصادیات کا دارومدار اسی اتنہاپسندی کے سدباب پر ہے۔ وطنِ عزیز سے انتہاپسندی کو صرف علم کے فروغ ‏سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے اور موجودہ حالات میں لڑکیوں  کی تعلیم اشد ضروری ہے کیوں کہ پڑھی لکھی مائیں ہی پڑھی لکھی قوم کی ضامن ہوتی ‏ہیں۔ دنیا کی کل 7.9 بلین آبادی میں 49.6 فی صد آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین کی  آبادی کا تناسب اتنا ہی ہے لیکن ‏ہمارے ملک میں تقریباً 60 فی صد سے زیادہ عورتیں اور لڑکیاں اَن پڑھ یا ناخواندہ ہیں۔ ہم اگر آج کے ترقی یافتہ اور  خوش حال ملکوں کے ماضی ‏اور حال کا مشاہدہ اور مطالعہ کریں تو یہ حقیقت بہت واضح ہوکر سامنے آئے گی کہ جن قوموں نے اپنی خواتین کو سو فی صد تعلیم یافتہ بنایا اور کسی ‏تعصب کے بغیر ہر شعبے میں انہیں ترقی کے مواقع فراہم کئے، وہ قومیں آج ہر اعتبار سے خوش حال ہیں۔ برطانیہ میں 1918ء سے پہلے تک ‏عورتوں کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا اور اس  وقت خواتین میں خواندگی کی شرح بھی صرف 30 سے 40 فی صد کے درمیان  تھی۔ انگلینڈ ‏میں 1928ء میں 21 سال سے بڑی عمر کی خواتین کو ووٹ دینے کا حق دیا  گیا جب کہ اس سے پہلے خواتین ووٹرز کی کم سے کم عمر 30 برس مقرر ‏تھی۔ معلوم نہیں پاکستان کا مذہبی طبقہ خواتین کی تعلیم کے اس قدر خلاف کیوں ہے؟ حالاں کہ علم صرف مَردوں کی میراث نہیں  ہے۔ ملالہ ‏یوسف زئی پاکستان اور دیگر غریب ملکوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے جس مشن اور مقصد کے لئے سرگرم عمل ہے، اسے پوری  ‏دنیا میں سراہا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا  ہے۔ آفرین ہے اس دلیر لڑکی پر جس نے زندگی اور موت کی کش مکش کے سانحے سے گزرنے کے ‏باوجود علم کی روشنی پھیلانے کے عزم کو زائل نہیں ہونے دیا اور ثابت قدم رہی بلکہ ستائش کے اصل حق دار توملالہ کے والدین ہیں جنہوں ‏نے مینگورہ میں رہ کر بھی اپنی بیٹی کی تربیت اس شان دار طریقے سے کی کہ وہ پورے اعتماد کے ساتھ زندگی اور ترقی کی منزلیں طے کر رہی ‏ہے۔

 کچھ عرصہ پہلے ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی کی آٹو بائیوگرافی ‏Let Her Fly‏ کے نام سے شائع ہوئی تھی جسے انہوں نے ‏لوئس کارپینٹر کے اشتراک سے ترتیب دیا تھا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ معروف ادیب اور صحافی فضل ربی راہی نے کیا ہے۔ ترجمہ انتہائی عمدہ ‏اور سلیس ہے اور کتاب کے اصل متن کے مطابق ہے۔ اردو میں اس کا نام ’’اسے پرواز کرنے دو‘‘ رکھا گیا ہے۔ مصنف نے کتاب کا انتساب ‏اپنے والد کے نام کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’یہ کتاب میرے عظیم والد روح الامین کی نذر، جنہوں نے میرے لئے  ہمیشہ ایک ہی دعا مانگی: ‏‏’’ضیاء الدین! خدا تمہیں علم و حکمت کے آسمان پر درخشندہ سورج کردے۔ اگرچہ میں ایک دیا بھی نہ بن سکا مگر مجھے روشنیوں  سے پیار  ‏ہوگیا۔‘‘ اس کتاب کا پیش لفظ ملالہ نے لکھا ہے جس میں وہ کہتی ہے: ’’میرے والد نے مجھے محبت کا درس محض الفاظ کے ذریعے نہیں دیا بلکہ ‏اپنے عمل سے محبت اور مہربانی کرکے دکھائی۔ میں نے اپنے والد کو کسی کے ساتھ بد تہذیبی اور بے انصافی پر مبنی سلوک کرتے نہیں دیکھا۔ ‏میرے لئے ان کی محبت ہر برائی اور شر سے تحفظ اور ڈھال کا کام دیتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جومجھے ایک عورت کی حیثیت سے اپنے ‏مستقبل کے لئے پُرمسرت تحفظ فراہم نہیں کرتا، میں پاکستان میں  اپنی کلاس کی دوسری لڑکیوں، پڑوس کی سہیلیوں اور سوات کی دیگر لڑکیوں ‏سے مختلف نہیں تھی لیکن مجھے اپنے والد کی  حوصلہ افزائی میں پرورش پانے کا اَن مول موقع ملا۔ ایسا نہیں تھا کہ میرے والد مجھے روزانہ لمبے ‏لمبے لیکچر یا مشورے دیتے بلکہ ان کے اخلاق، سماجی تبدیلی کے لئے سچی لگن، دیانت داری، کشادہ دلی، بصیرت اور طرزِ عمل نے مجھ پرگہرا اثر ‏ڈالا۔ میرے والد ہمیشہ مجھ پر فخر کرتے تھے۔ انہوں نے مجھ پر خود سے زیادہ اعتماد کیا جس سے مجھے حوصلہ ملا کہ میں کچھ کرسکتی ہوں بلکہ سب ‏کچھ کرسکتی ہوں۔ بڑی ہوکر مجھے معلوم ہوا کہ میرے والدین کتنے مختلف ہیں۔ جب میرے آس پاس کی لڑکیوں کو یا تو سکول جانے سے روک ‏دیا جاتا تھا یا انہیں ایسے مقامات پرجانے کی اجازت نہیں تھی جہاں ہجوم  میں مرد اور لڑکے بھی  شامل ہوں۔ ہم اس قسم کے معاشرے میں ‏بہت ساری خواتین اور لڑکیوں کو ضائع کردیتے ہیں جہاں مرد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ خواتین کو کس طرح رہنا چاہئے اور انہیں کیا کرنا چاہئے۔‘‘‏

 ‏’’اسے پروازکرنے دو‘‘ ایک معلوماتی اور دل چسپ کتاب ہے جو ملالہ کے والد کی خودنوشت اور آپ بیتی ہے مگر اس میں ملالہ کے ‏گھر کے ماحوال اور ابتدائی عمر سے لے کر اس کی زندگی کے مختلف مراحل کے بارے میں شان دار معلومات رقم کی گئی ہیں۔ اس کتاب کو ‏پڑھنے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ والد کی روشن خیالی اور کشادہ دلی سے کی گئی تربیت کی وجہ سے بیٹیوں کو وہ خوش گوار اعتماد میسر آجاتا ہے جو ‏زندگی بھر اُن کے کام آتا ہے۔ اللہ کرے کہ ملالہ کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہو کہ ہمارے ملک کی تمام لڑکیوں کو تعلیم اور علم کی وہ روشنی فراہم ‏ہوجائے جس کے سبب وہ اعتماد کےساتھ اپنی زندگی کے سفر کوجاری رکھ سکیں۔ ملالہ یوسف زئی پس  ماندہ ملکوں سے جہالت کے خاتمے کے ‏لئے اپنے حصے کے چراغ روشن کر رہی ہے۔ ہمیں اس کام میں اس کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں