128

پاکستان کا ازلی دشمن کون؟

پاکستان بننے کے فورا بعد انڈیا اور برہمن ذہینیت رکھنے والوں نے اپنی سازشوں کا آغاز کر دیا تھا، قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں ہی کچھ نادیدہ قوتوں نے کام دکھانا شروع کر دیا تھا اور انکی وفات کے بعد نوابزادہ لیاقت علی خان کو بھی زندہ دیکھنا گوارہ نہ کیا اور انہیں شہید کرنے کے لیے ایسی منصوبہ بندی کی گئی کہ قتل کا راز آج تک افشاں نہ ہو سکا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ایران پڑوسی برادر ملک ہوتے ہوئے بھی انڈیا کی سازشوں کا براہ راست یا بالواسطہ سہولت کار بنا رہا ہے۔

‏جنرل یحیٰی کے آنے بعد تو مزید آسانیاں پیدا ہو گئیں اور ملک کے اندر موجود مختلف طبقات میں سے غداران وطن نے سر اٹھانا شروع کر دیا اور بنگلہ دیش میں مغربی پاکستان کے متعلق نفرت پیدا کرنے کے لیے وہاں کے مختلف سیاستدانوں کو اپنا آلہ کار بنا لیا گیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن اور مولانا بھاشانی جیسے مہروں کو آگے لایا گیا، سونے پر سہاگا یہ ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو بھی اقتدار کی ہوس میں اندھا ہو گیا اور اقتدار حاصل کرنے سے پہلے ہی حکومتی معاملات میں مداخلت شروع کر دی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتدار شیخ مجیب الرحمٰن کے حوالے کرنا خود کشی کے مترادف تھا کیونکہ شیخ مجیب الرحمٰن بلا شک و شبہ انڈینز کے ہاتھوں کھلونا بن چکا تھا لیکن بھٹو کی جلد بازی نے جلتی پر تیل کا کام کیا دوسری طرف انڈیا نے مکتی باہنی اور اپنی فوج کی مدد نے مشرقی پاکستان میں موجود پاکستانی فوج کو قید کر لیا اور ایران نے پاکستان سے نامعلوم دشمنی کا بدلہ لیتے ہوۓ انڈیا کا بھر پور ساتھ دیا، الغرض پاکستان دولخت ہو گیا کثیر تعداد میں فوج قید ہو گئی۔

انڈیا اپنی ریشہ دوانیوں سے پھر بھی باز نہ آیا اور دھیرے دھیرے جال بچھاتا رہا۔ضیاء الحق کی موت کے بعد اسے سنہری موقع ملا اور اس نے نواز شریف کو گریٹر پنجاب کا خواب دکھا کر پاکستان کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی ٹھان لی۔اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کے گریٹر پنجاب کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کر دیں لیکن کرپشن پر آنکھیں بند کر لیں۔ پرویز مشرف نے انڈیا سے بدلہ لینے کے لیے کارگل کے محاذ کو چنا۔ کچھ احباب کا خیال ہے کہ نواز شریف نےامریکہ کے دباؤ میں آکر فوج کو واپس بلایا جبکہ میرا خیال ہے کہ کارگل میں کامیابی نواز شریف کے گریٹر پنجاب کی موت تھی، وہیں سے فوج اور نواز شریف کے درمیان نفرت کا آغاز ہوا۔ پھر گوادر میں بندر گاہ ایران کو پسند نہ آئی، سو ایران اور انڈیا نے بلوچستان کے نیشنلسٹ کو ساتھ ملا کر بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا منصوبہ بنایا، ایک طرف بیرونی دشمن اپنی سازشوں میں مصروف تھے تو دوسری طرف بلوچستان کا الگ ہونا نواز شریف کے لیے باعث اطمینان تھا تاکہ گریٹر پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے، لیکن رب عظیم کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں سو پاکستان کے لیے درد رکھنے والی قوتوں کے لیے اب یہ معاملہ ناقابل برداشت ہو گیا تھا لیکن نواز شریف کے خلاف انتہائی قدم اٹھانا مشکل کام تھا کیونکہ بلوچستان کے نیشنلسٹ اور دیگر ایسے عناصر جن کے مفادات انڈیا سے وابستہ تھے وہ سب نواز شریف کا ساتھ دے رہے تھے اور وہ انھیں آخری قدم اٹھانے پر مجبور کرسکتے تھے، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔ اللہ کی غیبی مدد سے نوازشریف ذلیل ہوکر نہ صرف وزیراعظم کے منصب سے اتر گیا بلکہ ملک چھوڑ کر اب لندن میں بھگوڑوں کی سی زندگی گزار رہا ہے پاکستان کے دشمنوں سے مل رہا ہے اور دوسرا الطاف حسین بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ انڈیا آج بھی کسی نہ کسی طرح مملکت خداداد کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے اور اس کے زرخرید غلام بدستور زہر افشانی کر رہے ہیں، پاکستانی قوم کو محتاط رہتے ہوۓ غدار وطن اور محب وطن کے درمیان تمیز کرنا پڑے گی تاکہ پاکستان دشمنوں کو بےنقاب کیا جاسکے۔

‏⁧#حبیب_خان⁩

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں