54

سید علی شاہ گیلانی کی زندگی پر ایک مختصر تحریر حصہ دوم

کہتے ہیں جب اچھا انسان کسی مصیبت میں ہو تو اللہ اس کے دل کی سکون کے لئے کوئی نہ کوئی راستے بنا ہی لیتا ہے۔ جیسے سید علی گیلانی مرحوم کے لئے اللہ نے بنائی جیل میں ایل اور مرد درویش جناب حکیم مولانا غلام نبی (فاضل دیوبند) بھی موجود تھے جو بعد میں امیر جماعت اسلامی (مقبوضہ) جموں و کشمیر بھی رہے ان کی قربت نے سید علی گیلانی کی پیاس بجھائی اور انہیں عمل کے اسلحے سے لیس کیا یہ عرصہ گیلانی مرحوم کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا ۔ مولانا حکیم غلام نبی کے علم وتقوی نے اپ کے زندگی میں گہرے نقوش ثبت کئے اور یہی وجہ تھی کہ گیلانی صاحب ایسے ابھرے کہ ہر کشمیری کے دل میں اذادی کی چھنگاری جلادی۔

جیل سے رہائی کے بعد آپ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے سیکرٹری جنرل بنا دیے گئے۔جیل کی سختیوں اور قید و بند کی صعوبتوں نے آپ میں بھارتی تسلط کے خلاف بغاوت کے جذبات کو اور بھی بھڑکا دیا تھا۔اب وہ پہلے سے زیاوہ بلند آہنگ میں آزادی کی صدا بلند کرنے لگے۔و ہ پوری یکسوئی سے ہندوستانی استعمار سے رائے شماری کرانے کا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔عوام کو آپ نے حق خودارادیت کے حصول کے لیے تیار،بیدار اور ہوشیار کرنا شروع کیا۔
۱۹۶۵ء میں پاکستان کے مشہور زمانہ”آپریشن جبرالٹر “سے کچھ ہی عرصہ پہلے ۷ مئی ۱۹۶۵ء کو سید علی گیلانی کو پھر گرفتار کر لیا گیا۔باور کیا جاتا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کو اپنے خفیہ اداروں کے ذریعے اس آپریشن کی بھنک پڑچکی تھی ۔ان کے خیال میں پاکستانی حملے کی صورت میں سید علی گیلانی ہی پاکستانی کمانڈوز کو اندرون کشمیر ہر ممکن مدد فراہم کر سکتے تھیـ’ـلہٰذاـ”آپریشن جبرالٹر “کو ناکام بنانے کے لیے جناب گیلانی کی گرفتاری ضروری تھی۔

”آپریشن جبرالٹر “کی ناکامی کی وجوہ میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں رائے عامہ کو بیدار اور منظم کر کے مجاہدین کی پشت پر لا کر کھڑاکرنے والی قیادت میسر نہ تھی ۔سید علی گیلانی میدان میںموجود ہوتے تو اس کمی کو احسن انداز سے پورا کر سکتے تھے۔لیکن آپریشن جبرالٹر کے “شاہ دماغ”منصوبہ سازوں کو شاید صورت حال کے اس پہلوکی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا ۔

سید علی گیلانی کی رہائی ۱۹۶۷ء میں اس وقت عمل میں آئی جب آپریشن جبرالٹر کا طوفان تھم کر حالات بظاہر پر سکون ہو گئے تھے۔رہائی کے فوراََبعد سری نگرمیں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں سید علی گیلانی نے ایک بار پھر اپنے عزم آزادی کا بیانگ دہل اظہار کر کے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دیں۔

پریس کانفرنس میں آپ نے فرمایا:
“بھارت نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ میںتسلیم کر لیا ہے اور ہماری بھی کوشش یہی ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی انداز میں ہی حاصل کیا جائے۔خود بھارت کا مفاد بھی اسی میں ہے۔—لیکن اگر بھارتی حکمرانوں نے مزید ٹال مٹول سے کام لیا تو کشمیری کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔”

پاکستان کی طرف سے آزادی کی مسلح کوشش کی ناکامی کے بعد شیخ عبد اللہ اور اس کے حواری بتدریج رائے شماری کے مطالبے سے پسپائی اختیار کرنے لگے۔شیخ نے ۱۹۷۳ء میں اندرا گاندھی کے ساتھ گٹھ جوڑکر کے بھارئی قبضے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ۔یوں وزارت اعلیٰ کی کرسی کے عوض کشمیریوں کے حق آزادی کا سودا کر کے “شیر کشمیر”غدار چہرے کے ساتھ سامنے آگیا۔

قو مے فرو خشد وچہ ارزاں فرو خشد
اب شیخ عبد اللہ اور اس کے مصاحبین کے تیورہی بدل گئے تھے۔ جو کل تک رائے شماری کے لیے لڑنے مرنے کی قسمیں کھاتے تھے ، اب کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو”اٹل حقیقت “اور کشمیر کو بھارت کا “اٹوٹ انگ ــ”ثابت کر انے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے ۔اس موقع پر بھی سید علی گیلانی نے ہی قوم کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کیا۔

انھوں نے بھارتی حکمرانوں پر واضح کیا:
ـ”اگر تم نے شیخ عبد اللہ اور مرزا افضل بیگ کو خرید لیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ قوم اپنے مطالبہ حق خود ارادیت سے دست بردار ہو گئی ہے۔”

شیخ عبد اللہ اور اس کے حواریوں نے گیلانی صاحب کو بھارت کے ساتھ الحا ق کو ـ”حقیقت ـ”سمجھ کر تسلیم کرنے کا “مخلصانہ “مشورہ دیا—کہا گیا:

“گیلانی صاحب!حق خود ارادیت کا وقت گزر چکاہے۔قوم بھارت کے ساتھ رہنے پر”راضی ـ”ہے—اب تو دریائے جہلم میں بہت پانی بہہ چکاہے۔آپ بھی اب “آزادی “کی بے وقت کی راگنی ترک کر دیں۔ــ”

سید علی گیلانی کا جرأت مندانہ اور پر عزم جواب یہ تھا:
“دریائے جہلم سے پانی ہی تو بہا ہے ‘قوم کا حق آزادی تو نہیں بہہ گیا ۔انسانی حقوق تو نہیں بہہ گئے ۔تو پھر ہم اپنے بنیادی حق سے دستبردار کیوں کر ہو جائیں؟”
وہ شیخ عبداللہ اور اس کے حواریوں کو ہمیشہ پورے اعتماد کے ساتھ کہتے رہے :
“تمہارے خیا ل میں اگر قوم نے بھارت کے ساتھ رہنا منظور کر لیا ہے تو یہ تمہاری بھول ہے ۔یہ بجا کہ تمہارے بھارتی آقائوں نے جبر سے ان کے سروں کو جھکا لیا ہے ‘لیکن تمہارے ان الفاظ کاجواب تمہیں اس وقت ملے گا جب آج مائوں کی گودوں میں پلنے والے بچے جوان ہوں گے اور اگر موجودہ نسل نے میرا ساتھ نہیں دیا “تو وہ میرا ساتھ ضرور دیں گے”

اندرا عبداللہ گٹھ جوڑ کے خلاف ریاست میں جو طاقت ور آواز ابھری ، وہ سید علی گیلانی ہی کی تھی۔جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں کے ذریعے کشمیریوں عوام نے شیخ عبداللہ کی اس قوم فروشی پر اپنے غیض و غضب اور نفرت کا اظہار کیا ۔سید علی گیلانی نے ہی اس موقع پر عوامی جذبات کو زبا ن دی ۔اسی سلسلے میں ۱۳ فروری ۱۹۷۵ء کو سو پور میں سید علی گیلانی کے ایک کارکن جناب غلام محمد بلہ کو پولیس نے گرفتا ر کر لیا۔

اس پر اندرا عبداللہ گٹھ جوڑ کے خلاف لوگوں کو اکسانے اور بینر آویزاں کرنے کا الزام تھا۔ سری نگر سنٹرل جیل میں رات بھر ان پر تشدد کے پہاڑتوڑے جاتے رہے۔غلام محمد بلہ اس بد ترین ریاستی تشدد کی تاب نہ لا کر شہید ہو گیا۔غلام محمد بلہ کی شہادت پر سید علی گیلانی نے بھارت اور اس کی کٹھ پتلی ریاستی انتظامیہ کے خلاف عوامی بغاوت کا ایک طوفان اٹھا دیا ۔ سوپور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کھل کرعوام سے کہا:
ـ ـ ـ”اپنا سامان تعیش ‘زیور ات ، کھیت و باغات ‘یہ سب کچھ بیچ دو اور اس کے بد لے بھارتی استعمار سے فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لیے اسلحہ خریدو۔ مجھے نظر آتا ہے کہ جلد یا بدیر ہمیں اسی راستے کا انتخاب کرنا ہو گا، کیونکہ اس کے علاوہ آزادی کا کوئی راستہ نہیں۔
(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں