57

سید علی شاہ گیلانی کی زندگی پر ایک مختصر تحریر حصہ اول

سید علی گیلانی کی داستان حیات خود تحریک آزادی کے آغاز سے بھی پہلے سے شروع ہوئی ہے۔ 13جولائی 1931 کو جب سری نگر سنٹرل جیل کے احاطے میں غاصب ڈوگرہ مہاراجہ سے بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں گرفتار نوجوان عبدالقدیر کے مقدمے کی سماعت کے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر ڈوگرہ سامراج کی پولیس کی فائرنگ سے 22فر زندان اسلام نے جام شہادت نوش کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کا افتتاح کیا تھا۔ سید علی گیلانی ابھی دو ہی برس کے تھے کہ ۱۹۳۱ء میں سری نگر سنٹرل جیل کے احاطے میں ۲۲ فر زندان توحید نے اپنے خون سے تحریک آزادی کشمیر کے پہلے باب کی رسم افتتاح ادا کی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک دور و نزدیک تک پھیل گئی ۔سید علی گیلانی نے شعور کی آنکھ کھولی تو آزادی کی تحریک جوبن پر تھی ۔ڈوگرہ استعمار کے خلاف بغاوت کے الائو ہر سو دھک رہے تھے۔

تکبیر کے نعرے تھے اور آزادی کے ترانے تھے ۔علی گیلانی بھی اپنا ننھا ہاتھ بلند کر کے توتلی زبان میں نعرۂ تکبیر بلند کرتا تھا ۔آزادی ان کو گھٹی میں پلائی گئی ۔بچپن اور لڑکپن کا دور انہوں نے اس تحریک میں ایک کارکن کی حیثیت سے شریک ہو کر گزارا۔سید علی گیلانی نے ابتدائی تعلیم پرائمری سکول بوٹنگو ، سوپور سے حاصل کی ۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول سوپور سے کیا۔اس کے بعد آپ نے حصول تعلیم کے لیے لاہور کا سفر اختیار کیا اور اسلامیہ کالج لاہو ر سے ادیب عالم کا امتحان پاس کیا ۔ادیب فاضل اور منشی فاضل کی ڈگریاں کشمیر یونیورسٹی سری نگر سے حاصل کیں ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ ریاست کے محکمہ تعلیم سے بطور استاد وابستہ ہو گئے۔

1947ء کا سال جہاں برصغیر پاک و ھند کے باشندوں کے لیے آزادی کا پیغام لایا اور ہندوستان اور پاکستا ن کے نام سے دو بڑی طاقتیں آزاد حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھریں وہاں یہ سال بد قسمت ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے لیے ایک نئی ، تازہ دم اور سفاک تر غلامی کا پیش خیمہ ثابت ہو ا ۔آزادی کی منزل ،جس کے لیے ایک عرصے سے اسلامیان وطن قربانیاں دیتے آئے تھے ، اندھیروں میں گم ہو گئی تو نو عمر سید علی گیلانی پر اس سانحے کا بڑا گہرا اثر ہوا۔

کیا کشمیر اب دوسرا اندلس بنے گا؟کیا اب یہاں سپین کی تحریک دہرائی جائے گی؟کیا بخارا اور سمر قند کی طرح یہاں سے بھی اسلام اور مسلمانو ں کو دیس سے نکال دیا جائے گا۔مستقبل کے پر دوں میں چھپے ہوئے ان مہیب خطرات کی آہٹیں سید علی گیلانی کے اندر کی دنیا کو زیرو زبر کئے ہوئے تھیں ۔ان خطرات کا مقابلہ کون کرے گا؟لڑکپن اور جوانی کے سنگھم پر کھڑے سید گیلانی کے لیے یہ اضطراب انگیز سوال چیلنج بن گیا ۔وطن کے جن اصحاب اخلاص پر نگاہ رکتی تھی اور اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی امید کی جا سکتی تھی ، وہ ریاست سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے تھے ۔ان میں چودھری غلام عباس اور میر واعظ مولوی محمد یوسف شاہ جیسی قد آور سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں ۔

اسی دوران تحریک اسلامی جموں و کشمیر کے درویش صفت امیر جنا ب مولانا سعد الدین سے ان کی ملاقات ہوئی ، تو وہ سید مودودیؒ کے لٹریچر کے بعد مولانا سعد الدین کے فیضان نظر سکے قتیل ہو گئے ۔ یوں جنا ب سید علی گیلانی اس قافلہ عشاق میں شامل ہو گئے ، جسے جماعت اسلامی کہا جاتا ہے ۔جماعت اسلامی میں شمولیت کے ساتھ ہی سید علی گیلانی کو اپنے تمام سوالوں کا جواب مل گیا ۔وہ جماعت اسلامی کی انقلابی دعوت اور اسلامی نظام حیات کے قیام کے لیے دیوانہ وار سرگرم عمل ہو گئے ۔

ـ”میں بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کو نہیں مانتا۔میں بھارتی سامراج کا باغی ہوں اور اس بغاوت کے جرم میں مجھے پھانسی کے پھندے کو بھی چومنا پڑا تومیں اسے اپنی سعادت سمجھوں گا”۔

جناب سید علی گیلانی کی یہ جرأت اور بیباکی بھارتی حکمرانوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی چلی گئی۔۲۸ اگست ۱۹۶۲ء کو پہلی بار انہیں گرفتار کر کے پس دیوار زندان پہنچا دیا گیا۔جہاں وہ ایک سال ایک ماہ تک مقید رہے۔یہ دارو گیر کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا نقطہ آغازتھا۔اس کے بعد تو جیل سید علی گیلانی کا مسکن، ہتھکڑی زیور اور زنجیر کی کھنکھناہٹ آزادی کا ترانہ بن گئی ۔اور ان کی سیاسی زندگی کا ہر دوسرا دن جیل میں گزرنے لگا۔

یہ عرصہ گیلانی صاحب کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔مولانا حکیم غلام نبی کے علم و تقوی نے آپ کی زندگی میں گہرے نقوش ثبت کئے۔اسی اسیری کے عرصے میں آپ کے والد گرامی کی وفات ہوئی، لیکن آپ کو والد ماجد کا آخری دیدار کرنے کی اجازت بھی نہ دی گئی۔وہ اپنے محبوب باپ کے جنازے کو کندھا بھی نہ دے سکے۔

(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں