59

آزادی کی قیمت

ہم تو سا ل میں ایک بار 14 اگست کو یوم آزادی کے طور پر منا کر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ کہیں ہم نے آزا دی کی قیمت ادا کردی مگر ایسا نہیں۔ آزادی کی بھا ری بہت بھا ری قیمت ہے جو صرف جشن منانے سے کبھی ادانہیں ہوتی ۔ ہمیں پاکستا ن بنا بنایامل گیا اس لئے ہمیں آج نہ پاکستان کی قدرہے اور نہ ہی آزادی کی قیمت کاکوئی اندازہ۔پاکستان کی قدر اورآزادی کی قیمت توکوئی اپنے ان بزرگوں سے پو چھیں جو قیام پاکستان کے لئے آگ وخون کے دریا عبورکرکے انڈیاسے پاکستان آئے۔جنہوں نے ملک بنانے کے لئے نہ آگ کے بلندہوتے شعلے دیکھے اور نہ خون کے بے رحم وبے کر م دریا ۔ 14اگست کے ایک دن انڈین گانوں پر ناچنے والے ہمارے جیسوں کوآزادی کی قیمت اور پاکستان کی قدر کاکیا پتہ اور کیا علم۔؟ آج جس ملک ،وطن اور مٹی پر آزادی سے سانس لیکر ہم سکون کی زند گی گزار رہے ہیں یہ ملک، یہ وطن اور یہ مٹی گورے انگریزوں اور کالے ہندوئوں سے یو نہی آزاد نہیں ہو ئی ۔اس ملک اور وطن کو غیر وں سے آزاد کرا نے کے لئے حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہمارے بزرگ و اسلاف نے قر بانیوں کی وہ تاریخ رقم کی کہ جس کی مثال آج بھی دنیا پیش کر نے سے قاصر ہے ۔

اس ملک اور وطن کی آزادی کے لئے ہمار ے بزرگ واسلاف کو کن کن مراحل ،مصائب اورمشکلات سے گزرنا پڑا ۔ اس کا صرف ذہن میں خیال لاکے بھی انسان کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔اس ملک اور مٹی کی خا ظر ہی توہزاروں اور لاکھوں مسلمانوں کو چاقو ئوں،خنجروں اور چھریوں کے وار سے زخمی اور ذبح کیا گیا ۔ معصوم اور دودھ پیتے بچوں کوان کی مائوں کی گود سے چھین کر آگ میں زندہ جلایا اور خون میں نہلایا گیا ۔اس ملک ہی کی خاطر ہزاروں ولاکھوں مائوں سے ان کی ممتا چھیننے کے ساتھ ہزاروں ولاکھوں مائوں ،بہنوں اور بیٹیوں کے دوپٹے بھی نوچے گئے۔کئی کی عزتیں تار تارہوئیں ۔لاکھوں نوجوانوں کے ٹکرے ٹکرے کرکے انہیں شہید کر دیا گیا ۔ ہزاروں مسلمان مائیں ،بہنیں، بیٹیاں، بھائی اور بچے عمر بھر کے لئے ایک دوسرے سے بچھڑ گئے جوپھرآج تک کبھی مل نہ سکے۔ اس وطن کے لئے ہمارے بزرگ واسلاف نے مال بھی قربان کیا اوراولاد بھی ۔بزر گوں نے اپنے گھر بھی چھوڑے اور بار بھی ۔ جرات،ہمت،بہادری اور مٹی سے وفا کی ایک لازوال اور بے مثال تاریخ رقم کرنے کے بعد 14اگست 1947کو پھر ،،پاکستان،، کے نام سے یہ ملک معر ض وجود میں آیا ۔ 14اگست وہ تاریخ ساز دن ہے جس دن حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک آزاد اور خود مختار،،پاکستان ،،کی شکل میں اس کی جرات،بہادری اور نیک نیتی وخلوص کاثمر ملا۔ اس دن ہی شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو اس کے ایک عظیم خواب کی تعبیر ملی۔

پاکستان بنانے کا مقصد مسلمانوں کے گلے سے غلا می کے طوق کو اتار پھینکنا تھا تاکہ مسلمان آزاد فضائوں اور ہوائوں میں اپنے رب کو یادکرسکیں ۔ اس لئے یہ نعرہ لگا کہ پاکستان کامطلب کیا لاالہ الاللہ۔زند گی تو مسلمان متحدہ ہندوستان میں بھی  گزارتے تھے ۔ شب وروزتو مسلمانوں کے گورے انگریزوں اور کالے ہندوئوں کے سائے میں بھی گزررہے تھے لیکن انگریزوں اور ہندوئوں کی غلامی میں مسلمان آزادی کے ساتھ نہ تو اللہ کی عبادت کرسکتے تھے نہ دین کی خدمت اور نہ ہی اپنی زندگی گزار سکتے تھے۔ غلامی آخر غلامی ہوتی ہے پھر گورے انگریزوں اور کالے ہندوئوں کی غلامی سے تو اللہ ہر مسلمان کو بچائے ۔آمین۔آج بھارت میں مسلمان تعداد کے اعتبار سے کالے ہندوئوںاورسکھوں سے کو ئی کم نہیں لیکن اس کے باوجود انڈیا میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے ۔؟ یہ پوری دنیا کے سامنے ہے ۔آج بھارت میں مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ اللہ کو یاد کرنے اور دین کی تبلیغ کرنے کی بھی اجازت نہیں ۔یہی وہ خوف،خدشے اور اندیشے تھے جس نے حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کو مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک بنانے کی سوچ،غوراورفکرکر نے پر مجبور کیا۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناح سمیت بانیان پاکستان کو بہت پہلے سے اندازہ تھا کہ ایک الگ ملک اور وطن کے بغیر مسلمان کبھی اپنی زندگی نہیں گزار سکیں گے نہ یہ گورے اور کالے ان کوکبھی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے دیں گے۔یہ وہ وجوہات تھیں جس نے حضرت قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں مسلمانوں کو انگریزوں اور ہندوئوں سے اپنے لئے ایک الگ تھلگ ملک بنانے پر مجبور کیا۔ جب تک ،،پاکستان ،،کے نام سے مسلمانوں کے لئے الگ ملک نہیں بنا تھا تب تک قائداعظم محمدعلی جناح،علامہ محمد اقبال،علامہ شبیراحمد عثمانی اور تحریک پاکستان کے دیگر سرخیل کبھی سکون کی نیند نہیں سوئے ۔ہمارے ان بزرگوں اور اسلاف نے اس دن ہی سکھ کاسانس لیا جس دن دنیا کے نقشے پر پاکستان معرض وجود میں آیا ۔

ہمارے بزرگ واسلاف اگر اپناچین ،سکون،مال اور جان ہمارے لئے اوراس وطن کے لئے قربان نہ کرتے تو آج ہماری حالت بھی شام،برما،عراق،افغانستان اور بھارت میں رہنے والے مسلمانوں سے کبھی مختلف نہ ہوتی۔ یہ تو رب کاشکر،کرم اوربزرگ واسلاف کی قربانیاں ومہربانیاں تھیں کہ ہمیں ،،پاکستان،،جیساایک آزاد اورخومختار ملک ووطن ملاورنہ ہم تواس قابل نہ تھے۔آزادی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ آ زا د ی کاایک لمحہ غلا می کے ہزار لمحوں اور سا لوں پربھی بھاری بہت بھاری ہے۔آ ج جو لو گ آزا د ی کی نعمت اور اپنے وطن سے محروم ہیں ۔ان کی حالت دیکھیں تو آزادی کی قیمت اور قدر معلوم ہو تی ہے۔ ہمیں آزادی کے ان لمحات اور پیارے پاکستان کی قدراس لئے نہیں کہ اس ملک اورا س آزادی کے لئے ہمارے بزرگ اور اسلاف ٹکرے ٹکرے ہوئے۔ہم اگر تحریک قیام پاکستان کے دوران پیش آنے والے وہ دردناک،غمناک اورالمناک واقعات اورآگ وخون کے وہ دریا صر ف ایک بار اپنی ان آنکھوں سے دیکھتے توواللہ آج ہمیں آزادی کی قدر وقیمت اور اس وطن کی اہمیت وحیثیت معلوم ہوتی ۔ ہمیں اس وطن اور اس آزادی کااحساس اس لئے نہیں کہ ہم اپنے بزرگوں ا ور اسلاف کی ان قر بانیو ں کوجو انہوں نے گورے انگریزوں اور کالے ہندو ئوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے دی تھیں کویکسربھو ل گئے ہیں ۔غلامی کاطو ق گلے سے اتارپھینکنایہ کوئی آسان کام نہیں۔اس کے لئے بہت بھاری قیمت چکا نی پڑتی ہے۔ ہمیں اپنے بزرگ واسلاف کی ان قر بانیوں کی ہمہ وقت قدر کرنی چاہئیے جو ا نہوں نے اپنے خون سے پاکستان بناکر ہمارے لئے دیں ۔یہ ملک ہے تو ہم ہیں ورنہ اس ملک کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں۔آئیں آج کے دن یہ عہدکرتے ہیں کہ قائد کے اس پاکستان کی بقاء،تحفظ اور سلامتی کے لئے ہم کسی بھی قر بانی سے دریغ نہیں کر ینگے ۔پاکستان کاقیام اگر ہمارے بزرگ و اسلاف پر فرض تھا تو اب اس کی حفاظت ہم سب پرایک قرض ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں