55

غیرت کا جنازہ۔۔ ذمہ دارکون۔؟

جہاں سالوں پہلے دوقومی نظریہ پیش کیاگیاتھاوہاںچندبدقماش،لوفرلفنگوں اورغنڈوں کی جانب سے اپنانظریہ پیش کرناافسوسناک ہی نہیں بلکہ انتہائی دردناک اورغمناک بھی ہے اس مذموم حرکت اورگناہ کبیرہ پرجتنابھی رویاجائے،پیٹاجائے اورآنسوبہائے جائیں وہ کم بہت ہی کم ہیں۔بحیثیت مسلمان اورپھرایک باغیرت اورباحیاقوم کے شرافت،عزت،حیااورخواتین کے حقوق کے حوالے سے دنیامیں ہماراایک نام اوراہم مقام ہے۔باقی دنیااورممالک میں خواتین کے ساتھ بہت کچھ کیا جاتا ہوگا یا ہوتا ہوگا مگر ہمارا ملک اس لحاظ سے الگ اورمختلف ہے کہ یہاں خواتین کوماں،بہن،بیوی اوربیٹی کی صورت میں کل بھی عزت اوراحترام سے دیکھاجاتاتھا اوریہاںان مائوں،بہنوں اوربیٹیوں کو آج بھی عزت اوراحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔شرم وحیا،غیرت وحمیت سے یکسرمحروم اورانسانیت سے پاک لونڈے ہرملک،ہرقوم اورقبیلے میں پائے جاتے ہیں ۔ہم ہرگزہرگزیہ نہیں کہتے کہ پاکستان میں رہنے والے تمام مردباحیااورباغیرت ہیں یایہ پیاراملک اس قسم کے شیطانی لونڈوں اورچیلوں سے کوئی پاک ہے۔شرم وحیاسے پاک گندے کیڑے اورلونڈے پہلے بھی یہاں موجودتھے اورانسانیت کے لبادے میں چھپے یہ شیطان آج بھی یہاں بہت سی جگہوں پرکتوں کی طرح دم ہلاتے اورایڑھیاں رگڑتے ہونگے لیکن ان چندشیطانی چیلوں کی وجہ سے پاکستان کے سارے مردوں یاپورے معاشرے کوبے شرم اور بے حیاکانام دینایہ ہرگز،ہرگزانصاف نہیں۔یہاں تو مائوں کی قدموں تلے جنت تلاش کرنے والے آج بھی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں موجود ہیں۔

یہاں بہن ،بیوی اوربیٹی کی عزت پرجان قربان اور آبرو پرمرمٹنے والے آج بھی کراچی سے چترال اورگلگت سے بلوچستان تک عورت کے لئے سائبان بن کرچوکس کھڑے ہیں۔قراردادمقاصدکی پاک جگہ پراپنے مذموم مقاصدکے لئے پورے ملک اورقوم کی عزت دائوپرلگانے والے اس ملک کے کوئی باسی یاشہری ہوں گے۔؟یہ سوچتے ہوئے بھی دل کی دھڑکنیں تیزاوررونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔حضرت قائداعظم کے سپاہی اورشاعرمشرق علامہ محمداقبال کے شاہین ایسے کبھی نہیں ہوسکتے۔واللہ۔تاریخی مینارپاکستان پراس شرمناک واقعے کے ذریعے جن لونڈوں اورغنڈوں نے ملک وقوم کی عزت کوپوری دنیاکے سامنے تماشابنایایہ لونڈے اورغنڈے کسی رعایت اورنرمی کے مستحق نہیں۔ ہم نے نہ پہلے کبھی ایسے غنڈوں اورلوفرلفنگوں کی کوئی حمایت کی ہے نہ اب کرتے ہیں اورنہ کبھی آئندہ کریں گے۔انہیں پھانسی پرچڑھایاجائے یاسولی پرلٹکایاجائے پوری قوم کواس پرکوئی اعتراض نہیں لیکن ایک التجاء ضرورہے کہ گناہ گاروں کے ساتھ گناہ کے سبب کوبھی مٹادیاجائے۔ اس واقعے پراب تک بہت کچھ لکھااوربولاجاچکاہے۔ہرشخص اپنی نظرسے اس واقعے کودیکھ رہاہے۔کوئی لونڈوں اورغنڈوں کوگناہ گارقراردے رہے ہیں توکوئی ملک کی بدنامی کاباعث بننے والی اس لڑکی کوقصوروارٹھہرارہے ہیں ۔گناہ گاراورقصوروارتودونوں ہیں لیکن ان سے پہلے بڑے گناہ گاراورقصوروارہم خودہیں۔

ویڈیووائرل ہونے کاخواب،لائک وکمنٹس کی حرص اورمشہورٹک ٹاکربننے کاجنون اگردل ودماغ پرسوارنہ ہوتاتوآپ یقین کریں ملک وقوم کی عزت اس طرح کبھی برسربازارنیلام نہ ہوتی ۔ یہی ہماراوہ قصور اور گناہ ہے جس کی سزاکلمہ طیبہ کے نام پربننے والے اس ملک کوملی اورمل رہی ہے۔ہم اگراپنے گھروں میں ٹک ٹاک اورسنیک ویڈیوزبنانے کے لئے سٹوڈیوزنہ بناتے۔ ہم اگراپنے بچوں کے ہاتھوں میں لاکھوں مالیت کے آئی فون اورموبائل نہ تھماتے۔ہم اگراپنی مائوں،بہنوں اوربیٹیوں کوسوشل میڈیاکے جہنم میں نہ دھکیلتے ۔ہم اگراپنی مائوں،بہنوں اوربیٹیوں کی ٹک ٹاکی ویڈیوزپرواہ واہ نہ کرتے۔ توآج ہمیں یہ دن کبھی نہ دیکھنا پڑتا۔ آج گھروںمیں کھانے کے لئے روکھی سوکھی روٹی ہے یانہیں لیکن کیمرے والاموبائل ہرگھرمیں ضرورہے۔ ہمارے بچوں کوپہلاکلمہ یادہے یانہیں۔ انہیںالف ب،اوراے ،بی سی کی کچھ سمجھ بوجھ ہے یانہیں لیکن موبائل کے ذریعے ٹک ٹاک اوریوٹیوب کے لئے ویڈیوزبنانے کی مہارت وتجربہ انہیں ضرورحاصل ہے۔ ہم اپنے بچوں کااٹھنابیٹھنا،چلناپھرناچیک کریں یانہ لیکن ہم ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کی بنائی گئی بے ہودہ اورفضول قسم کی ویڈیوزکولازمی دیکھتے اورلائک کرتے ہیں۔ ایک لڑکی کی عزت نوچنے اورڈوپٹہ پھاڑنے کے لئے مینارپاکستان پہنچنے والے یہ غنڈے اورلونڈے آخرہمارے ہی بچے توتھے یہ باہرسے توکوئی نہیں آئے۔

ہم اگراپنے بچوں کوٹک ٹاک اوریوٹیوب کے جہنم میں اپنے ہاتھوں سے چھوڑنہ آتے توہمارے ماتھوں پر بدنامی کایہ داغ کبھی نہ لگتا۔ہمیں اگراپنے بچوں کے اٹھنے،بیٹھنے اورچلنے پھرنے کی ذرہ بھی کوئی خبرہوتی تو قرارداد مقاصد کی پاک مٹی تین چارسوغنڈوں کے گناہوں کابوجھ اس طرح کبھی نہ اٹھاتی۔ٹک ٹاک کانشہ اورمشہوری کاچسکہ کااگرنہ ہوتاتونہ ہمارے بچے اس طرح غنڈے ولونڈے بنتے اورنہ ہی ہماری بچیاں اس طرح برسربازارتماشابنتی۔اس شرمناک واقعے کے بعداب اس بحث میں پڑناکہ غلطی کس کی تھی اورکس کی نہیں ۔؟یہ بحث ہی فضول اورغلط ہے۔اس دن اپنے ناپاک ارادوں اورزہرآلودجسموں سے مینارپاکستان کی فضاء وہواکوآلودہ کرنے والوں میں کوئی فرشتہ نہیں تھا۔سب کے سب مجرم،قصورواراورگناہ گارہیں۔اس دن نمازپڑھنے یااللہ کویادکرنے کے لئے کوئی مینارپاکستان نہیں گیاتھا۔جوبھی گیاتھاوہ پوری تیاری کے ساتھ ملک وقوم کی عزت کونیلام اورتماشابنانے کے لئے گیاتھا۔یہ اگراتنے باحیا،باشرم اورباعزت ہوتے تویہ قوم کی عزت کاکبھی اس طرح مذاق نہ اڑاتے۔

اس واقعے میں جوبھی ملوث ہیں ۔چاہے امیرہیں یاغریب،کوئی شریف ہیں یابدمعاش،اس لڑکی سمیت سب کوکٹہرے میں لاکرنشان عبرت بنادیاجائے۔ یہ ملک غیرت،شرم اورحیاسے عاری غنڈوں، بدمعاشوں اور بدقماشوں کی کوئی کالونی نہیں بلکہ یہ ان غیرت مندوں اورحیاداروں کادیس ہے جومائوں، بہنوں اوربیٹیوں کی عزت وآبروپرجان قربان کرناآج بھی سعادت سمجھتے ہیں ۔اس کے ساتھ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھانے بھی ضروری ہیں۔سب سے پہلے حکومت کوٹاک ٹاک سمیت بے حیائی،فحاشی اورعریانی پھیلانے والے ایسے تمام ایپ ،ویب سائٹ،بلاگ اور چینلز کا اس ملک سے جنازہ نکالناچاہیئے۔ حکومت کے ساتھ تمام والدین کولاہورکے اس واقعے کواپنے لئے ٹیسٹ کیس سمجھ کراپنے اپنے بچوں کاچوکیداربنناہوگا۔ جب تک ہم اپنے بچوں کی کڑی نگرانی نہیں کریں گے اس وقت تک اس ملک میں ایسے غنڈے، لوفرلفنگے اوربدقماش پیداہوتے رہیں گے۔ہمیں اپنے بچوں کوٹک ٹاک، یوٹیوب اورسنیک کے جہنم سے ہرحال میں نکالناہوگا،ہمیں سوشل میڈیاکے غلط استعمال کے لئے اٹھنے والے اپنے بچوں کے ہاتھوں کوسختی سے روکناہوگا نہیں توپھرہمیں ہر روز مینارپاکستان جیسے شرمناک اورخوفناک واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھنے ہوں گے۔ ہمیں ہرحال میں قائد کے اس پاکستان سے بے حیائی، فحاشی اورعریانی کے آلات ولوازمات کا جنازہ نکالنا ہوگا کیونکہ اس کے بغیر اب ہمارے پاس اورکوئی چارہ وسہارانہیں۔ لاہورواقعے کے بعداب بھی اگر ہماری آنکھیں نہ کھلیں تو پھر ہر روز ہماری غیرت،حمیت ،شرم وحیاکے ہمارے ہی ہاتھوں اسی طرح جنازے نکلتے رہیں گے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں