52

غریبوں کاوزیراعظم۔۔؟

وزیراعظم عمران خان کو بلا کسی شک و شبہ کے غریبوں کا حکمران ،لیڈر اور و ز یراعظم کہا جا سکتا ہے کیونکہ کپتان کی نہ صرف 22سالہ سیاسی جدو جہد غریبو ں سے شروع ہو کر غریبو ں پر ختم ہو تی ہے بلکہ پچھلے تین سال سے عمران خان کی حکمرانی کا میٹر اور مدار بھی صرف غر یب کے گرد ہی گھوم ر ہا ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف ہوں، پرویز مشرف یا پھر آصف علی زرداری۔ وہ سب اقتدار کی ر نگینیوں اور مستیوں کی وجہ سے کبھی کبھارنہیں بلکہ اکثر اوقات غریبو ں کو یکسر بھول جا تے تھے لیکن غریبوں کا یہ حکمران اور یہ وزیراعظم مسند اقتدار سنبھا لنے سے لیکر آ ج تک غر یبو ں کو ایک دن تو دور کسی ایک لمحے کے لئے بھی نہیں بھولے ہیں۔

سا بق حکمر ا ن تو اس قد ر ظا لم ہوتے تھے کہ اقتدار ملنے کے بعد و ہ سکو ل، کا لجز، یونیورسٹیوں، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر جیسے فضول کاموں اور منصو بو ں میں لگ یا پڑ کرغر یب عو ا م کونہ صر ف نظر ا ند ا ز کر د یتے تھے بلکہ بھو ل ہی جا تے تھے لیکن قر با ن جا ئو ں غر یبو ں کے ا س و ز یر ا عظم پر۔یہ جب سے ا س ملک کے حکمر ا ن بنے ہیں تب سے نہ یہ غر یبو ں کو بھو لے ہیں ا و ر نہ ہی ا س ملک کے غر یب ا نہیں بھو ل سکتے ہیں۔ با ز ا ر سے پیٹ کا جہنم بھر نے کے لئے سوداسلف یا کو ئی ا و ر سا ما ن لا نا ہو۔یا۔کھا نا کھا نے کا و قت ہو۔یا۔بجلی ا و ر گیس کے بل جمع کر نے ہو ں۔یا۔گا ڑ ی میں پٹر و ل ا و ر ڈ یز ل ڈ ا لنے کا مر حلہ ہو۔یا۔بچو ں کو سکو ل بھیجنا ہو ۔شا د ی بیاہ کی تیا ر ی کا مو قع ہو یا پھر سا منے کسی ا پنے کا جنا ز ہ ہو ۔مطلب ا یسا کو ئی مو قع ا و رو قت نہیں کہ جس میں اس ملک کے غر یب ا پنے ا س عظیم حکمر ا ن ا و ر و ز یر اعظم کو یا د نہ کر تے ہو ں۔ اور غر یب اپنے اس انمو ل وزیراعظم کو ہر وقت یاد بھی کیو ں نہ کر یں۔؟

جب سے غریبو ں کے اس غمخوار، ہمدرد اور خیرخوا ہ نے ا قتدار سنبھالا ہے تب سے یہ بھی تو ایک گھڑی کیلئے غر یبو ں کو نہیں بھو لے۔ اس مرد قلندر نے تواب تک اقتدار کے پورے تین سال انہی غریبوں کو یاد کرتے کرتے ہی گزا ر د یئے ہیں۔ جو شخص یا شخصیت تین سا ل تک کسی کو مسلسل یا د ر کھیں ا سے پھر کیسے بھو لا جا سکتا ہے ۔؟ آ ج کچھ نا د ا ن یہ کہتے پھر ر ہے ہیں کہ غر یبو ں کے نا م پر و و ٹ لینے و ا لے عمر ا ن خان کوآج غریب یادہی نہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حقیقت کے خلاف اور باالکل سفیدجھوٹ ہے۔آپ پچھلے تین سال کاپو ر ا ریکارڈاٹھاکردیکھ لیں آپ کووزیراعظم عمران خان لمحہ بہ لمحہ،موقع درموقع آ ٹا ،چینی،گھی،د ا ل،چا و ل،د و د ھ،سبز ی،فر و ٹ،ا د و یا ت ا و ر پٹر و ل کی نئی ا و ر بڑ ھتی قیمتو ں کے ساتھ غر یبو ں کو یا د کر تے ہو ئے د کھا ئی د یں گے۔سا بق حکمر ا نو ں کی تو مو ٹر و ے،پن بجلی گھر و ں،سکو ل،کا لجز،یو نیو ر سٹیزا و ر ہسپتا لو ں جیسے منصو بو ں سے نیچے کبھی نظر ہی نہیں لگتی تھی۔یہ چینی،آ ٹا،گھی،د ا ل،چا و ل،د و د ھ ا و ر ا د و یا ت تو ا ن کے کھاتے میں شما رہی نہیں ہو تے تھے لیکن غر یبو ں کے ا س و ز یر ا عظم نے ا پنی تمام تر تو ا نائیا ں ،محنت،کوشش ا و ر نظر یں چینی،آٹا،گھی،د ا ل،چا و ل،د و د ھ ا و ر ا د و یا ت کی قیمتوں پر قیمتیں بڑ ھا نے پر مر کو زکر کے حقیقت میں غر یبو ں کے حکمر ا ن ہو نے کا ثبو ت دیا ہے۔

غر یبو ں کے ا سی و ز یر ا عظم کاکما ل ہی تو ہے کہ ر و ز مر ہ ا ستعما ل کی اشیاء سے لیکر ہر و ہ شئے جس کا کسی نہ کسی طو ر پر غر یب کے سا تھ کو ئی تعلق ا و ر و اسطہ ہے ا س و ز یر ا عظم نے تین سا ل میں ا سے کبھی بے تعلق نہیں چھو ڑ ا ۔ غر یبو ں کے ا س و ز یر ا عظم نے ا یک کلو آ ٹے کو چا لیس سے 70روپے پر پہنچا کر غر یبو ں کو یا د فر ما یا ۔پھر پچا س ر و پے کی کلو چینی کو ا پنی کپتا نی میں سینچر ی مکمل کر و ا کر غر یبو ں کو ڈ بل یا دفر ما یا ۔پھر گھی،د ا ل،چا و ل،د و د ھ ا و ر ا د و یا ت کی قیمتوں میں ا ضافے کے ذ ر یعے بھی غر یبو ں کوو قتاًفو قتاً یا د فر ما تے ر ہے ا و ریہ سلسلہ آ ج بھی تسلسل کے سا تھ جا ر ی و سا ر ی ہے۔آ ج بھی و ز یر ا عظم صا حب کو جب کبھی غر یبو ں کی یا د ستا نے لگتی ہے تو و ہ چینی،آ ٹا،گھی،د ا ل،چا و ل،د و د ھ ا و ر ا د و یا ت سمیت غر یبوں کے ا ستعما ل کی کسی بھی چیز کی قیمت میں فو ر ی ا ضا فہ کر کے ا یک سیکنڈ میں غر یبو ں کی ا س یا د کا بو جھ د ل سے ا تا ر پھینکتے ہیں۔ہما ر ے ا یک ا ستا د تھے شا ئدا س کا بھی کپتا ن کے سا تھ کو ئی تعلق ہو ۔جب بھی کلاس میں کسی طالب علم کا د ھیا ن ذ ر ہ بھی ا د ھر ا د ھر ہو جا تا تو و ہ فو ر اً ایک پینٹی لگا کر کہتے میں تمہیں بھو لا نہیں ہو ں۔

یہی حا ل ہما ر ے و ز یر ا عظم صا حب کا بھی ہے ۔ا قتد ا ر میں آ ئے ا نہیں تین سا ل ہو گئے ہیں لیکن یہ ا ن تین سا لو ں میں غر یبو ں کو نہیں بھو لے۔آ ج بھی جب غر یبو ں کا د ھیا ن کہیں مہنگا ئی،غر بت ا و ر بیر و ز گا ر ی سے ذ ر ہ بھی ا د ھر ا د ھر ہو جا تا ہے یا غر یب کہیں یہ محسوس کر نے لگتے ہیں کہ ہما ر ے و ز یراعظم صا حب ہمیں بھو ل گئے تو یہ صاحب فو ر اً آ ٹا،چینی،دا ل،چا و ل،د و د ھ،ا د و یا ت ا و ر پٹر و ل سمیت دیگرکسی چیز کی قیمت میں ا ضافے کی صو ر ت میں ایک ز بر د ست پھینٹی لگا کر گو یا ہو تے ہیں کہ میں آپ کو بھو لا نہیں ہو ں۔جن غر یبو ں کو کل تک یہ گلہ ا و ر شکو ہ رہتا تھا کہ ہما ر ا حکمر ا ن ا و ر و ز یرا عظم ہمیں یا د نہیں کر ر ہا۔آ ج و ہی غر یب ہا تھ ا ٹھا کر ا و ر جھو لیا ں پھیلا کر یہ د عا ئیں ما نگ ر ہے ہیں کہ ا للہ کر ے ا پنا یہ و ز یر ا عظم کسی طو ر طر یقے سے ہمیں بھو ل جا ئیں ۔لیکن کپتا ن بھی تو آ خر کپتا ن ہیں ۔و ہ ا تنی جلد ی بھو لنے و ا لے کہا ں ہیں۔؟جو شخص 92کے و ر لڈ کپ کو آج تک نہیں بھو ل سکے و ہ سیا ست کے ا س ٹی ٹو نٹی میچ کو کیسے بھو ل سکتے ہیں۔؟

مانا کہ بڑ ھتی مہنگا ئی،غر بت ا و ر بیر و ز گا ر ی کے با عث آ ج ا س ملک میں عو ا م ا س مو جو د ہ حکو مت سے پنا ہ ما نگ ر ہے ہیں لیکن لگتاہے کہ ا س حکو مت سے ا ن کی ا تنی جلد ی جا ن چھو ٹنے و ا لی نہیں کیو نکہ عمر ا ن خا ن سا بق و ز یر ا عظم نو ا ز شر یف کی طر ح کو ئی چو رہیں ا و ر نہ آ صف علی ز ر د ا ر ی کی طر ح کو ئی ڈ ا کو۔بلکہ یہ ا س ملک کے لا کھوں نہیں کر و ڑ و ں غر یبو ں کے حکمر ا ن ا و ر و ز یر ا عظم ہیں ا و ر غر یبو ں کا ہر حکمر ا ن ا و ر ہر و ز یر ا عظم آ سا نی کے سا تھ پھر غر یبو ں کی جا ن کبھی نہیں چھو ڑ تا ۔یہی و ہ و جہ ہے جس کی بناء پر ہمیں غر یبو ں سے ڈ ر لگے یا نا لیکن ا ن کے و ز یر ا عظم ا و ر حکمر ا ن سے ڈ ر ضر و ر لگتاہے۔بیگا نے ا تنی د ر د ،تکلیف ا و ر پر یشا نی نہیں د یتے جتنی یہ ا پنے د یتے ہیں ۔ نو ا ز شر یف ا و ر آ صف علی ز ر د ا ر ی نہ غر یب تھے ا و ر نہ ہی غر یبو ں کے سا تھ ا ن کا کو ئی تعلق تھا۔لو گ ا نہیں ا میر و ں ا و ر کبیر وں کے حکمر ا ن ا و ر و ز یر ا عظم کہتے تھے لیکن ا نہو ں نے غر یبو ں کو ا تنی تکلیف نہیں دی جتنی غر یبو ں کے ا س ا پنے و ز یر ا عظم نے محض تین سال میں د ی ہے۔

غریبوں کے نام پر ووٹ اور ا قتدار حاصل کر کے اس صاحب نے غریبوں کا ہی جینا حرام کر دیا ہے۔ کیا اس ملک میں آ ٹا، چینی، دال، چاول، دودھ، فروٹ، سبز ی ،ادویات اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔۔؟ جتنی تو ا نا ئیا ں کپتا ن ا و ر ا ن کی ٹیم نے ا شیائے ضر و ر یہ کی قیمتو ں کوآ سما ن تک پہنچا نے میں صر ف کیں ا تنی کو شش ا گریہ ملک سے لو ٹ ما ر،کر پشن ،مہنگا ئی،غر بت ا و ر بیر و ز گا ر ی ختم کر نے کی کر تے تو آ ج شا ئد نہیں یقینناً ملک ا و ر قو م کی یہ حالت نہ ہو تی۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک کا ہر شہری مہنگائی، غر بت اور بیروزگاری کے ہاتھوں زندگی سے اس قدر تنگ اور عاجز آ چکا ہے کہ و ہ اب خو د کشی ا و ر خو د سو ز ی کر نے سے بھی د ر یغ نہیں کر ر ہا لیکن اس کے با و جو د غر یبو ں کا یہ حکمر ا ن ،یہ و ز یر ا عظم ا و ر غر یب عو ا م کے د کھ ا و ر د ر د سے بے خبر ا س کے کھلا ڑ ی آج بھی چین کی با نسر ی بجا ر ہے ہیں۔یہ کا م ا گر چو ر نو ا ز شر یف ا و ر ڈ ا کو ز ر د ا ر ی کر تے تو ا و ر و ں کے سا تھ ہم بھی ان پر طعن و تشنیع کے د ونہیں تین حر ف بھیج د یتے لیکن یہ تو غر یبو ں کا و ز یر ا عظم ہے اورشا ئد کہ غر یبو ں کا و ز یر ا عظم ا یساہی ہو تا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں