59

آسمان بنتی نظم

میں نے
اڑنے سے پہلے
مرغے کو چھت سے اڑایا
لیکن وہ مرغِ بادنما بن کر
اپنے محور پر ساکت ہونے سے پہلے
دیر تک گھمر گھمر کا راگ الاپتا رہا
سو میں نے بھی
ساری عمر کے لیے
اڑنے کا ارادہ ترک کر دیا

بہت عرصہ
میں صحرا کی طرح ساکن رہا

محلے کی بند سیوریج والی گلی سے
گونجتی شہنائی میں
جب کوئی رخصت ہو رہا تھا
تو
میں استری کرتے
اپنا بیسواں اسکارف
جلا چکا تھا

میں جب بھی
اس کے لیے نظم لکھتاہوں
تو
خود کو آسمان میں
لپٹا ہوا محسوس کرتا ہوں
زمین، درخت، پہاڑ
کھلے نیلگوں میں
میرے ساتھ تیرتے ہیں

اگر اس دن
چھت سے مرغا اڑجاتا
تو کیا میں
اس کے لیے نظم لکھ پاتا
کیا ہم
آسمان بن پاتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسعود قمر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں