47

بورڈ ٹاپرز ہیرو یا زیرو۔۔؟

حالیہ میٹرک اورانٹر امتحانات میں طلباء وطالبات نے جس طرح ریکارڈپرریکارڈقائم کیئے ہیں دنیاکیا۔؟تاریخ میں بھی غالباًاس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ دنیاکے تعلیم یافتہ اورسوفیصدشرح خواندگی والے ممالک میں بھی کسی طالبہ یاطالب علم نے گیارہ سومیں سے پورے گیارہ سونمبرنہیں لئے ہوں گے لیکن ہمارے ان شاہینوں نے بالاخرنئے پاکستان میں یہ کارنامہ بھی سرانجام دے دیاہے۔ میں یہ نہیں کہتاکہ گیارہ سومیں سے گیارہ سونمبرلیناممکن نہیں۔ محنت،کوشش،جدوجہداورلگن ہوتوکیاناممکن ہے۔؟ ویسے شکست کے سائے میںکرکٹ کاعالمی کپ جیتنے والے کپتان کے کھلاڑیوں اورشاہینوں کے لئے گیارہ سونمبرلیناکیامشکل ہے۔؟ ماناکہ کپتان کی سربراہی اورنئے پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ نصاب ونظام میں تبدیلی واصلاحات کے نام پر ہر دوسرے دن تعلیم کے ساتھ کھیلواڑکھیلنے والے پاکستان جیسے ملک اورپھرکروناکی وباء میں جہاں ایک دونہیں سرکاری وپرائیوٹ سکول،کالجزاوریونیورسٹیوں سمیت تمام تعلیمی ادارے اکثربند رہے ہوں ایسے حالات اورایسے ملک میں کسی طالبہ یاکسی طالب علم کاگیارہ سومیں سے پورے گیارہ سونمبرلینایہ کوئی معجزہ ہی ہوسکتاہے محنت، کوشش، جدوجہد اورلگن نہیں۔

بغیرکسی معجزے کے سکول، کالجز، یونیورسٹی اور اساتذہ سے دور رہ کراس طرح کاعالمی اورتاریخی ریکارڈاپنے نام کرنامیرے نزدیک مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔اس ملک میں تعلیم کی کیاحالت ہے۔؟ اورامتحانی نظام کی کیاصورت ۔؟ اس کازیادہ نہیں توتھوڑابہت علم گلی میں پھرنے والے پاگل کوبھی ہے۔ یہ توملک کابچہ بچہ جانتاہے کہ اس ملک میں تعلیم کے نام پرکیاکچھ نہیں ہورہا۔الگ الگ نظام کیا۔؟ آفاق ونفاق کی کتابوں میں بھی کوئی ایک سکول،کوئی ایک علاقہ، کوئی ایک گائوں، کوئی ایک شہر اورکوئی ایک صوبہ نہیں بلکہ پورا کاپورا ملک تقسیم درتقسیم ہے۔ہرصوبے کاٹیکسٹ بورڈتوہے ہی الگ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پھرنہ صرف ہرصوبے بلکہ ہرشہر، ہرگائوں اور ایک ایک سکول میں نصاب ونظام بھی الگ سرے سے الگ ہے۔ لوگ سرکاری سکولوں کاروناروتے ہیں لیکن اس ملک میں پرائیوٹ سکولوں وتعلیمی اداروں میں بھی تعلیم کاجوحشرنشرہورہاہے وہ بھی رونے ، دھونے، چیخنے اورچلانے سے خالی نہیں۔

یہاں سرکاری سکول وکالجز سے نکلنے والوں کواگرکچھ نہیں آتاتوپرائیوٹ تعلیمی اداروں سے گولڈمیڈل پانے والوں میں اکثریت کی حالت بھی ان سے ہرگز مختلف نہیں۔ میں نے محل اورتاج محل میں بننے والے ایسے بے شمارپرائیوٹ تعلیمی اداروں سے نکلنے والے شاہینوں کوڈگریاں ہاتھوں میں لئے روڈماسٹری کرتے دیکھاہے۔ میں نے اس بدقسمت ملک میں بے شمارایسے طلبہ بھی دیکھے ہیں جومیٹرک اورانٹرمیڈیٹ امتحان میں اسی طرح ہیروٹھہرے لیکن بعدمیں جب وہ این ٹی ایس،ایٹایاکسی اور ذریعے سے میڈیکل،انجینئرنگ ودیگرکسی مخصوص شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے لئے میدان میں اترے توچندلمحوں میں پھرہیروسے زیروبنے۔ یہ چندسال پہلے کی بات ہے میرے آبائی ضلع بٹگرام کے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں شاہینوں نے بھی میٹرک اورانٹرمیڈیٹ کے امتحان میں ٹاپرکااعزازاپنے نام کیالیکن پھرجب انہی ٹاپروں نے اعلیٰ تعلیم کے لئے دیگراداروں میں ٹیسٹ دیئے توان میں سے اکثرپہلے ٹیسٹ میں ہی ناکام ونامراد ہوئے۔ اس ملک میں بورڈکیسے ٹاپ کئے جاتے ہیں۔؟

اس حقیقت سے صرف ہم نہیں بلکہ پوری دنیاواقف خوب واقف ہے۔ جہاں امتحانات میں نقل کروانے کے لئے طلبہ وطالبات سے باقاعدہ پیسے جمع کئے جاتے ہوں۔ جہاں اپنے ہی اساتذہ طلبہ وطالبات تک نقل پہنچانے کافریضہ سرانجام دیتے ہوں وہاں گیارہ سومیں سے گیارہ سوکیا۔؟ بارہ سونمبرلینابھی کوئی تعجب کی بات نہیں۔ کسی وقت میں بھی بورڈٹاپ کرنے والوں کے چہروں کوگھورگھورکے دیکھاکرتاتھا۔ کسی زمانے میںبورڈٹاپروں پرمجھے بھی بڑانازہواکرتاتھا۔ سچ پوچھیں توایک وقت میں بھی ان کوہیروسمجھتاتھالیکن اب۔؟ اب ایسانہیں۔ پوزیشنزلینے والوں کے بورڈٹاپ کرنے پراب مجھے کوئی تعجب ہے نہ کوئی حیرانگی۔ اب نہ میں ان کے چہروں کوگھورگھورکے دیکھتاہوں اورنہ ہی ان پرمجھے کوئی نازوفخرہے۔ آپ یقین کریں بورڈکے امتحانات میں امتحانی سنٹروں کے اندرجوکچھ ہوتاہے وہ اگرآپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں توآپ کونہ صرف ان امتحانات بلکہ امتحان دینے والوں پربھی رونے،چیخنے اورچلانے کادل کرے گا۔

میں نے اپنی ان گناہ گارآنکھوں سے امتحانات میں نہ صرف سکول ٹیچروں کوطلبہ کونقل کراتے ہوئے دیکھاہے بلکہ میں نے بورڈ عملے کے کئی شریفوں کومتعدد بارسہولت کاربنتے بھی دیکھاہے۔ امتحانی سنٹروں میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے طلبہ کاایک الگ درجہ ہوتاہے۔ سرکاری سکولوں کے غریب طلبہ کوتوکوئی گھاس نہیں ڈالتالیکن پرائیوٹ سکولوں کے طلبہ کوان امتحانات میں خصوصی پروٹوکول حاصل ہوتاہے۔ ان کے لئے نہ صرف ہمارے جیسے جاہل اورتعلیم سے بے خبربلکہ بڑے بڑے معززاساتذہ اوراچھے بھلے ماہرین تعلیم بھی اپنے مبارک ہاتھوں میں پانی کے گلاس کے نیچے نقل شریف لیکرحاضرہوتے ہیں۔ ملاکنڈبورڈکے کنٹرولرکا بدقسمت بیٹا توکسی کی ضد، حسد یا انا کی بھینٹ چڑھا ورنہ اس طرح کے کارنامے اورکرتوت توکراچی سے لاہور اور پشاورسے کوئٹہ تک ہربورڈاور ہر جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کوئی مانے یانہ۔حق اورسچ یہ ہے کہ تعلیمی نظام کواپنے ان مبارک ہاتھوں سے تباہ کرکے نئی نسل کابیڑہ ہم نے خود غرق کردیاہے۔جہاں صرف ڈگری کے لئے تعلیم حاصل کی جاتی ہویاتعلیم حاصل کرنے کامقصدصرف زیادہ نمبرز اور پوزیشن ہولڈر بننا ہوں وہاں پھرکسی ایک بورڈیاامتحانی سنٹرمیں نہیں بلکہ اکثرجگہوں پراس طرح کی نت نئی تاریخیں رقم ہوتی ہیں اور نئے نئے ریکارڈ بنتے ہیں۔

ہمارے ملک کایہ مجموعی نظام دراصل اسی تباہ حال اور بانجھ تعلیمی نظام کاآئینہ دارہی توہے۔ رشوت،سفارش اور پرچیوں کی مددسے پاس اور پوزیشنز لینے والے شاہین ملک کی کیاخدمت کریں گے۔؟ اس سوال کاجواب ہم سب کے پاس ہے اورہم سب اس حقیقت سے بخوبی واقف بھی ہیں لیکن اس کے باوجودمیرے سمیت ہرشخص نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ ہرشخص کی یہ کوشش اورخواہش ہے کہ اس کاشاہین کچھ پڑھیں یانہ۔ لیکن میٹرک اورانٹرکے امتحان میں اچھے نمبرزاورپوزیشن ضرور لیں۔ جہاں معاملہ اوربات ہی نمبرزاورپوزیشن کی ہووہاں پھرایسے ہی تاریخی ریکارڈاورکارناموں کامنہ دیکھناپڑتاہے۔ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے اورکانوں سے سننے کے بعدبھی ہمیں تواپنے ان شاہینوں کے کارناموں پرذرہ بھربھی کوئی شک وشبہ نہیں لیکن صرف ایک منٹ کے لئے ذرہ سوچیں کہ تعلیمی میدان میں تعلیم یافتہ اورسب سے زیادہ شرح خواندگی والے ممالک کواس طرح بچھاڑنے یا پیچھے چھوڑنے پراگرکہیں انہوں نے ان پوزیشن ہولڈرز اور نئی تاریخ رقم کرنے والوں کوایک صرف ایک بارکسی امتحان سے گزارا توپھرکیاہوگا۔؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں