93

برطانیہ اور پاکستان کے ڈاکخانے میں موازنہ

کئی سال پہلے کی بات ہے، مجھے لندن آئے ہوئے ابھی چند مہینے ہوئے تھے کہ ایک نجی محفل میں میری ملاقات ایک برٹش پاکستانی سے ہوئی اس پہلی ملاقات میں ہی انہوں نے میرا مفصل انٹرویو کر لیا، برطانیہ کب آئے ہو؟ کیا کرتے ہو، کتنی تنخواہ ہے، کتنے بہن بھائی ہیں، کہاں رہتے ہو وغیرہ وغیرہ۔ جب وہ صاحب رخصت ہونے لگے تو میں نے بھی ڈرتے ڈرتے پوچھ لیا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے سرگوشی کے انداز میں جواب دیا کہ ”میں کوئین کے محکمے میں کام کرتا ہوں یعنی ملکہ برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ میں“،میں سہم گیا اور مزید کچھ پوچھنے یا استفسار کرنے کی ہمت نہ کر سکا۔ کچھ عرصے کے بعد اِن صاحب کے قریبی دوست نے بتایا کہ موصوف برطانوی رائل میل یعنی ڈاک سروس میں پوسٹ مین یعنی ڈاکیے ہیں یہ ایک سرکاری محکمہ ہے جو ملکہ برطانیہ کے تاج کو اپنے آفیشل لوگو کے طور پراستعمال کرتا ہے۔

برطانیہ میں ڈاک کا نظام دنیا کے 170 ممالک کے پوسٹل سسٹم میں سے پہلے آٹھ بہترین ملکوں میں سے ایک ہے۔ بہترین پوسٹل سروس کے اعتبار سے سوئٹزرلینڈ عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہے جہاں 100 فیصد ڈاک محفوظ طریقے سے بروقت اور متعلقہ شخص اور محکمے تک پہنچ جاتی ہے جس کے بعد بالترتیب آسٹریا، جرمنی، ہالینڈ، جاپان، فرانس، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور سنگاپور کا نمبر آتا ہے۔ برطانیہ میں ساڑھے گیارہ ہزار سے زیادہ پوسٹ آفس یعنی ڈاکخانے ہیں ان ڈاکخانوں میں پوسٹل سروس کے علاوہ بھی کئی اور طرح کی سہولتیں بھی عوام کو میسر ہیں۔ تمام مین(MAIN) پوسٹ آفس برطانیہ کے تمام بڑے بینکوں کی برانچ کے طور پر کام کرتے ہیں جہاں لوگ اپنی رقم نکلوا اور جمع کر سکنے کے علاوہ اپنا بیلنس چیک اور چیک ڈیپازٹ بھی کروا سکتے ہیں۔ اِن پوسٹ آفسز میں سیونگ اکاؤنٹس،گاڑیوں کے روڈ ٹیکس، دنیا بھر میں رقم کی ترسیل Remittance، فارن کرنسی، ٹریول انشورنس، مچھلی کے شکار کا لائسنس، پوسٹل آرڈرز، ڈرائیونگ لائسنس، پنشن کی وصولی، بے روزگاری الاؤنس، ہر طرح کے بلز کی ادائیگی (ٹی وی لائسنس کے علاوہ) گاڑیوں کی رجسٹریشن، ایمر جنسی مالی امداد، پارسلز کی وصولی، ہیلتھ لاٹری، دستاویزات کی تصدیق، ٹیلی فون سروس اور کئی طرح کی سروسز عام لوگوں کے لئے دستیاب ہیں۔ برطانوی ڈاکخانے یہاں کی روزمرہ زندگی میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور سرکار ان کو منظم اور فعال رکھنے کے لئے جدید سے جدید تر ٹیکنالوجی کو برؤئے کار لاتی ہے اسی طرح رائل میل کی کارکردگی کے میعار کو برقرار رکھنے بلکہ مزید بہتر کر نے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، رائل میل کے ذریعے تقسیم ہونے والے خطوط اور پارسلز کی محفوظ اور بروقت ڈلیوری کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جاتی۔ گم ہو جانے یا بروقت ڈلیور نہ ہونے یا خراب ہو جانے والے خطوط اور پارسلز کی وجہ سے رائل میل نے گزشتہ ایک برس میں 8 ملین پاؤنڈز سے زیادہ رقم ہرجانے کے طور پر ادا کی۔

ویسے تو دنیا میں سب سے پہلے ڈاک کے نظام کی ابتدا قدیم ایران میں سائیرس دی گریٹ نے 550 بی سی ای میں کی لیکن سب سے پہلی کاغذی ڈاک ٹکٹ ایک برطانوی سکول ماسٹر رولینڈ ہل نے 1840 میں ایجاد کی جنہیں بعد میں سر کا خطاب دیا گیا۔ اُس زمانے میں ایمرجنسی پیغام رسانی کے لئے ٹیلی گرام سروس کا استعمال کیا جاتا تھا۔ برطانیہ کو آج بھی قدیم ڈاک ٹکٹوں کے کاروبار کے سلسلے میں خاص اہمیت حاصل ہے اور رائل میل ہر سال طرح طرح کی منفرد اور خوبصورت ٹکٹیں (Presentation Pack) جاری کرتا ہے جنہیں دنیا بھر کے سٹیمپ کولیکٹرز بڑے شوق سے خریدتے ہیں۔ دنیا بھر میں ڈاک کا نظام مختلف ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور معاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔ دیگر ممالک سے ڈاک اور پارسلز محفوظ طریقے سے برطانیہ پہنچتے اور تقسیم ہوتے ہیں لیکن جو خطوط اور پیکٹس برطانیہ سے ترقی پذیر ملکوں کو جاتے ہیں وہ بروقت اور حفاظت کے ساتھ کم ہی وصول کرنے والوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ برطانوی رائل میل کو اس ضمن میں سب سے زیادہ شکائتیں عراق، نائیجیریا، برازیل اور بھارت جیسے ملکوں سے موصول ہوتی ہیں جہاں برطانیہ سے بھیجے جانے والے بیشتر خطوط اور پارسل کھول لئے جاتے ہیں، تاخیر سے پہنچتے ہیں، گم کر دیئے جاتے ہیں یا پھر ڈاکیا کچھ نہ کچھ نذرانہ وصول کر کے قیمتی پارسل متعلقہ شخص کے حوالے کرتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ برطانوی پوسٹ آفس صرف ڈاک اور ڈاک ٹکٹوں کی فروخت کا کام کرتے تھے لیکن رفتہ رفتہ یہ ڈاکخانے مقامی سطح پر لوگوں کو طرح طرح کی سہولتوں اور سروسز کی فراہمی کا ذریعہ بن گئے اور اب شہروں سے گاؤں تک یونائیٹڈ کنگڈم کے طول و عرض میں پوسٹ آفس کا مربوط نیٹ ورک اِس ملک کے لوگوں کو ہر وہ سہولت دے رہا ہے جس کی تفصیل میں نے مذکورہ بالا سطور میں درج کی ہے۔

برصغیر میں ڈاک کا نظام 13 ویں صدی میں متعارف ہوا اور مغلیہ دور میں ڈاک کی ترسیل کے خصوصی انتظامات کئے گئے۔ برٹش راج میں ڈاک کے نظام کو مربوط کر کے پوسٹ آفس قائم کئے گئے۔ اِن دنوں پاکستان میں 13 ہزار 419 پوسٹ آفس موجود ہیں جن کے ذمے ملک بھر میں ڈاک کی ترسیل کا کام ہے اِن ڈاکخانوں میں تقریباً 50 ہزار ملازمین ہیں اور پانچ ہزار گاڑیاں ڈاک کی ترسیل کے کام پر متعین ہیں لیکن پاکستانی پوسٹل سروس (پاکستان پوسٹ) کی کارکردگی بھی ویسی ہی ہے جیسی دوسرے محکموں کی ہے۔ برطانیہ میں پوسٹ آفس کی تعداد اور سہولتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستان میں ڈاکخانوں کی تعداد اور فراہم کی جانے والی سہولتوں میں کمی ہو رہی ہے اور ملک بھر میں پرائیویٹ کورئیرسروس کا نیٹ ورک دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ برطانیہ کے اوورسیز پاکستانیوں کو بھی یہ شکایت ہے کہ اُن کی ڈاک پاکستان کے فرسودہ پوسٹل سسٹم کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے یا اُن کے پارسلز سے اشیا غائب کر لی جاتی ہیں یا حفاظت سے اپنی منزل تک نہیں پہنچتیں اسی لئے اب اوورسیز پاکستانی قیمتی اور ضروری اشیا اور دستاویزات کی ترسیل کے لئے پرائیویٹ کورئیر سروس کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ پاکستان پوسٹل سروس کے ارباب اختیار اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ ترقی یافتہ ملکوں کی طرح اپنے پوسٹ آفس نیٹ ورک کی سروسز کو بہتر بنائیں۔ ڈاکخانے قومی اثاثہ ہیں ان کو تباہ و برباد ہونے سے بچائیں، ان کا حال پی آئی اے، پاکستان سٹیل ملز یا پاکستان ریلویز کے محکمے جیسا نہ ہونے دیں۔ ڈاکخانوں میں دستیاب سروسز میں اضافہ کریں، جدید ٹیکنالوجی کو برؤئے کار لائیں، یہ محکمہ دودھ دینے والی گائے کی طرح ہے اسے اچھا چارہ کھلائیں گے تو یہ مزید دودھ دے گی، اسے قصائیوں کے حوالے کرنے کا نہ سوچیں۔ قومی اداروں کا تحفظ ملک و قوم کے مفاد میں ہوتا ہے لیکن معلوم نہیں موجودہ حکومت کو ملک و قوم کا مفاد کس حد تک عزیز ہے؟

٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں