53

مرنا ہے مگر گھبرانا نہیں

ہمیں توآج تک یہ کہاجارہاتھاکہ دنیائے کرکٹ میں نام کمانے ،شہرت پانے اور92کاعالمی کپ جیتنے کی وجہ سے انہیں بہت کچھ مل گیاتھا۔اس کے پاس نہ دولت کی کوئی کمی تھی اورنہ ہی شہرت کی۔ یہ چاہتے توامریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا یا باہر کے کسی اور ملک میں ڈیرے ڈال کر آرام، سکون اور عیاشی کی زندگی گزارسکتے تھے پر یہ بوریابسترگول کرکے اس ملک میں صرف اس لئے آئے کہ یہاں کے غریب عوام کے لئے کچھ کرسکیں۔ لیکن یہ کیا۔۔؟ صرف ایک منٹ کے لئے اللہ کوحاضر ناظرجان کربتائیں کہ سچ میں کیا غریبوں کیلئے کچھ کرنایہ ہوتاہے۔؟ یہ عظیم کپتان جوآرام، سکون اور عیاشی کی زندگی چھوڑ کر صرف اورصرف غریب عوام کی خاطراس ملک میں آئے تھے۔ پچھلے تین سال سے اس عظیم کپتان کی سربراہی، قیادت، نگرانی اور کپتانی میں اس ملک کے اندرجوکچھ ہورہاہے کیا یہ صرف غریب عوام کے لئے ہے۔۔؟ ایک منٹ دل پر ہاتھ رکھ کرسوچیں توسہی کہ کپتان کی حکمرانی میں ملک سے آٹا غائب ہونا کیایہ غریب عوام کے لئے تھا۔؟

کیاغریبوں کے روزمرہ استعمال کی اشیاء کا یک دم غریبوں کی پہنچ سے دور ہونایہ غریب عوام کے لئے ہے۔؟ کیاچینی کی قیمت کااچانک پچاس پچپن سے سومیں چھلانگ لگانا غریب عوام کے لئے ہے۔؟ کیاگھی کی فی کلوقیمت کا140سے 320تک پہنچناغریب عوام کے لئے ہے۔؟ کیابجلی اورگیس بلوں کاآگ وبم برسانایہ غریب عوام کے لئے ہے۔؟ کیاروپے کے مقابلے میں ڈالر کاروزیہ ناچنا غریب عوام کے لئے ہے۔؟ کیاسونے کی قیمت کاغریب کے وس اوربس سے باہرہونا یہ بھی غریب عوام کے لئے ہے۔؟ جب سے اس عظیم کپتان نے اس ملک کانظام سنبھالاہے تب سے اس نے ایسی کوئی چیزپرانی قیمت پرنہیں چھوڑی جس کا ذرہ بھی غریب عوام کے ساتھ کوئی تعلق یاواسطہ ہے۔ کپتان کی تین سالہ حکمرانی پرنظردوڑائیں توبیگانے کیا۔؟ اپنے بھی سر پکڑ کر دنگ رہ جاتے ہیں کہ اس ملک میں آخریہ ہوکیا رہا ہے۔؟ اس حکومت کی تین سالہ کارکردگی کو دیکھ کرتحریک انصاف کے عام کارکن کیا۔؟ حکومت کااپنا کوئی وزیراورمشیربھی یقین اور گارنٹی کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مسٹرعمران خان واقعی غریب عوام کے لئے حکومت واقتدارمیں آئے ہیں۔

کپتان اگرعوام کے لئے اقتدارمیں آتے تو کیا وہ اس طرح عوام کاہی جیناحرام کردیتے۔؟ آپ یقین کریں جب سے اس ملک میں عمران خان کی حکومت آئی ہے تب سے یہاں غریبوں نے ایک منٹ کے لئے بھی سکھ اورچین کاکوئی سانس نہ لیاہوگا۔ چین وسکون کیا۔؟ اب توغریبوں کے شب وروز چینی کتنی مہنگی ہوگئی۔؟ گھی کاآج کیاریٹ ہے۔؟ بجلی اورگیس کے بل کتنے آئیں گے۔؟ مارکیٹ میں آٹاہے کہ نہیں ۔؟ اس قسم کے سوالات کہتے اورپوچھتے ہوئے گزرجاتے ہیں۔ جن چوروں، ڈاکوئوں، لوٹوں اورلٹیروں کے خلاف یہ ،،صاحب،،میدان میں آئے تھے وہ چور،وہ ڈاکو،وہ لوٹے اور لٹیرے توآج بھی ان کے بغل اوردامن میں سایہ عافیت پاکر عیاشی کی زندگی گزاررہے ہیں لیکن جن غریبوں کواس کپتان نے کرپشن،لوٹ ماراورمہنگائی سے پاک نئے پاکستان اورریاست مدینہ کے سپنے وخواب دکھائے تھے آج وہ بدقسمت تڑپ تڑپ کراس ملک میں زندگی گزار رہے ہیں۔مہنگائی، غربت، بیروزگاری، بھوک اور افلاس کس بلاکے نام ہیں ۔؟

یہ کوئی ایک وقت کی روٹی کے لئے رلنے، تڑپنے، چیخنے اور چلانے والے غریب سے پوچھیں۔ بنی گالہ میں تین سوکنال اراضی پر بنے محل میں خراٹے مارنے والے کپتان کوکیاپتہ۔؟ کہ بھوک اورافلاس کیاہوتی ہے۔؟ اس عظیم کپتان اور تاریخی وزیراعظم کو توشائد یہ بھی علم نہ ہو کہ اس ملک میں مہنگائی، غربت اوربیروزگاری نام کی بھی کوئی بلائیں ہیں۔ جن کا اپناپیٹ بھرا ہوا ہوان کو بھلا پھر اوروں کی بھوک کہاں نظرآتی ہے۔؟ کپتان بھی شائدنہیں یقینناًیہ سمجھ رہے ہیں کہ اس ملک کے 22کروڑعوام بھی کہیں ان کی طرح تین اورچارسوکنال پربنے محلات میں خراٹے مارکرزندگی انجوائے کررہے ہیں ۔ پر۔ انہیں کوئی بتائے تو سہی کہ خان صاحب یہ ملک ہے کرکٹ کا کوئی گرائونڈ نہیں کہ جہاں سب ،،عیاشی،،کرنے والے کھلاڑی ہوں گے۔ یہاں غریب ہیں، مسکین بھی ،محتاج بھی،حقیربھی اورفقیربھی۔ اس ملک میں توایسے ایسے لوگ بھی رہتے ہیں جن کے پاس ایک وقت کے کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔اس ملک میں ہرجگہ نہ بنی گالہ ہے، نہ رائیونڈشریف اورنہ ہی بلاول شریف۔ اس ملک میں جھونپڑیاں بھی ہیں ،خیمے بھی ہیں اورتمبوبھی۔ان جھونپڑیوں، ان خیموں اورتمبوئوں میں جانورنہیں۔ خان صاحب۔

انسان باالکل آپ جیسے سمارٹ، نوازشریف جیسے شریف اور بلاول جیسے سادہ انسان رہتے ہیں۔ پھران انسانوں کے سلمان ، سلیمان، مریم اورآصفہ جیسے معصوم بچے بھی ہوتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ ان انسانوں کے یہ بچے سلمان ، سلیمان اورمریم کی طرح اپنے ماں باپ سے کروڑوں کی گھڑیاں، لاکھوں کے جوتے اور ہزاروں کے برگرتونہیں مانگتے لیکن آپ کے شہزادوں کی طرح ان کے ساتھ بھی پیٹ ہیں۔ جب بھوک اور افلاس ان معصوموں کوتنگ کرتی ہے تو پھریہ ان غریب اور بدقسمت مائوں، بہنوں، بیٹیوں، بھائیوں اور بزرگوں سے جن کے ناتواں کندھوں پر آپ نے مہنگائی، غربت اوربیروزگاری کے پہاڑ لاد دیئے ہیں سے روٹی فقط روٹی مانگتے ہیں ۔ مماروٹی دیں نا۔ پاپاروٹی دیں نا۔لیکن تاریخ کے عظیم وزیراعظم اوربے مثال حکمران آپ یقین کریں کہ ان میں سے ہزاروں اورلاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مائیں، بہنیں، بھائی ، بیٹیاں اوربزرگ ایسے ہیں جن کے پاس ان معصوموں کودینے کے لئے وقت پرروٹی کا ایک نوالہ بھی نہیں ہوتا۔ خان صاحب بڑاتلخ،کڑوااوردردناک ہوتاہے وہ لمحہ۔ جب غریب کابچہ روٹی کی خواہش ظاہرکرے اورغریب ماں باپ کے پاس اس کودینے کے لئے روٹی کاایک نوالہ بھی نہ ہو۔اے ریاست مدینہ کے ،،امیرالمومنین،،صرف ایک منٹ کے لئے فرض کریں کہ آپ کاسلمان یاسلیمان بھوک سے بلک بلک کرآپ سے روٹی مانگ رہاہواورآپ کے دراورگھرمیں روٹی کاایک نوالہ بھی نہ ہوتب آپ کے دل پرکیاگزرے گی۔؟

اس ریاست جس کے آپ امیرالمومنین ہیں آج اس ریاست میں ایک دو اور سو ہزار نہیں بلکہ ہزاروں اورلاکھوں جھونپڑیوں، خیموں اورتمبوئوں میں یہی حالت ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھوک اورافلاس سے بلک بلک کرتڑپ رہے ہیں مگران کے والدین کے پاس ان کودینے کے لئے کچھ نہیں۔ اے وقت کے حکمران ۔ ہم مانتے ہیں کہ سابق حکمرانوں نے بھی ان غریبوں پرظلم کئے۔سابق ادوار میں بھی مہنگائی ،غربت اوربیروزگاری بڑھی۔ لیکن اس قدرظلم کبھی نہیں ہوا۔ ہمارے کپتان آپ نے فقط تین سالوں میں ان غریبوں کے ساتھ جوکچھ کیاہے۔ اللہ گواہ ہے کہ پہلے والے سترسالوں میں بھی ان کے ساتھ ایسانہیں کرسکے ہیں۔ جتنی مہنگائی،غربت، بیروزگاری اورظلم آج اس ملک کے اندرہے تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پہلے چوروں اور ڈاکوئوں کی حکمرانی میں یہ غریب مہنگائی ،غربت اوربیروزگاری کے ہاتھوں کبھی کبھی مراکرتے تھے لیکن آپ کی اس تاریخی حکمرانی میں اب یہ غریب روزمرتے ہیں اورروزجیتے ہیں۔ آپ نے اپنی تمام تر توانائیاں،اقدامات اور کمالات مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کو بڑھانے کے لئے اس طرح صرف کردی ہیں کہ اب غریبوں کے پاس تڑپ تڑپ کر مرنے کے سوااورکوئی چارہ نہیں۔ کیااب بھی غریب گھبرائیں نا۔؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں