55

پاکستانی ریلوے بمقابلہ برطانوی ریلوے

ریل گاڑی کا سفر میرے لئے ہمیشہ سے پرکشش رہا ہے۔ چلتی ہوئی ٹرین کی کھڑکی سے آبادیوں، ویرانوں، جنگلوں، ریلوے پھاٹک اور دریا کے پلوں کا نظارہ کرنا میرے لئے ہربار دلچسپی کا باعث ہوتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ریلوے اسٹیشن پر گاڑی کا رکنا، مسافروں کا اس میں سوار ہونا اور اترنا اوراُن کے عزیزوں کا انہیں رخصت کرنے یا استقبال کے لئے آنا، ریل کی سیٹی بجنااور پلیٹ فارم پر لوگوں کی گہماگہمی مجھے زندگی کے سفر کا احساس دلاتی ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے دنوں میں مجھے اپنے بے تکلف دوستوں کے ہمراہ شالیمار ایکسپریس پارلر کے ذریعے بہاول پور سے لاہور جانا بہت اچھا لگتا تھا۔ ریل کے اس سفر میں تاش کھیلنا، ریلوے بک سٹال سے رسالے خرید کر پڑھنا، سفر کے لئے بنوائے گئے گھر کے کھانے سے لطف اندوز ہونا اور ہر بڑے اسٹیشن پر اتر کر اٹھکھیلیاں کرنا آج بھی میری خوشگوار یادوں کا حصہ ہیں اور کبھی کبھی تو یہ یادیں میری آنکھوں میں ستاروں کی طرح جھلملانے لگتی ہیں۔

رفتار پکڑتی ہوئی ریل گاڑی کی آواز کا ردھم اور تیز رفتار ٹرین کی سنسناہٹ مجھے اب بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ میری طالب علمی کے زمانے میں پاکستان ریلوے کی حالت بہت بہتر تھی مگر اب اس کا بھی وہی حال ہے جو پاکستان کے دیگر محکموں اور اداروں کا ہے۔ ریل کے سفر کا شوق مجھے دنیا کے ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے گیا۔ نیویارک سے ٹورانٹو تک ریل کا 12گھنٹے کا سفر ہو یا لندن سے یورو سٹار ٹرین کے ذریعے پیرس تک کی مسافت، مراکو کے دارالحکومت رباط سے کاسابلانکا تک یا روم سے فلورنس ریل گاڑی کا سفر ہو، ہر سفر نے مجھے نئے نئے مشاہدات اور تجربات سے آشنا کیا۔ برطانیہ سمیت پورے یورپ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹرین کا سفر مقبول اور محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔ جدید اور تیز رفتار ٹرینوں میں ہر طرح کے آرام اور سفر کی آسائش کا خیال رکھا گیا ہے۔

آج سے چند برس پہلے تک لندن سے گلاسگو یا ایڈنبرا تک ریل کا سفر 7سے 8گھنٹے طویل تھا مگر اب یہی سفر 4سے 5گھنٹے میں طے ہونے لگا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ملک کے طول و عرض میں کارگو ٹرینوں کے ذریعے ہر طرح کے سامان کی ترسیل کی سہولت میں اضافہ ہو رہا ہے۔یونائیٹڈ کنگڈم میں 15811کلومیٹر طویل ریلوے لائنز کا نیٹ ورک ہے جس پر مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں 2566ٹرین اسٹیشن موجود ہیں۔ برطانیہ میں 1.7بلین مسافر ہر سال ٹرین کے سفر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلا سٹیم انجن بھی 1804ء میں برطانیہ میں ایجاد ہوا تھا جس کے موجد ایک انگریز سائنسدان رچرڈ ٹریویتھک تھے۔ 1814ء میں ایک اور انگریز سائنسدان جارج سٹیفن سن(George Stephenson) نے سٹیم انجن کو جدید شکل دی اور 1830ء میں پہلی بار دو شہروں لیور پول اور مانچسٹر کے درمیان ریلوے لائن بچھائی گئی۔

انگریزوں نے جب برصغیر میں اپنے قدم جمانے شروع کئے تو 1845ء میں متحدہ ہندوستان میں ریلوے لائنز بچھانے کے سلسلے کا آغاز کیا۔ انڈیا پر انگریزوں کی حکومت یا تسلط میں ریلوے کے نظام کا بڑا عمل دخل تھا۔ انگریزوں نے بحری جہازوں سے سامان لانے اور لے جانے کے لئے ساحلی شہر ممبئی سے ریلوے کا آغاز کیا۔ آج بھی بھارت میں جو 67956کلومیٹر طویل ریلوے نیٹ ورک ہے اس کی بنیاد انگریزوں نے ہی رکھی تھی۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان کے حصے میں 8122کلومیٹر طویل ٹرین نیٹ ورک آیا جو اب کم ہو کر 7791 کلومیٹر رہ گیا ہے۔ ایک زمانے میں اس پر 633ریلوے اسٹیشن ہوا کرتے تھے جن میں سے اب 559باقی رہ گئے ہیں اور ان میں سے اکثر کی حالت مخدوش ہے یا پھر بند پڑے رہتے ہیں جبکہ پاکستان میں ریلویز کے محکمے میں ملازمین کی تعداد 72ہزار سے بھی زیادہ ہے۔پاکستان میں صرف 1043کلومیٹر ٹرین ٹریک ڈبل ہے اور صرف 285کلومیٹر راستے پر الیکٹرک ٹرین چلنے کی سہولت موجود ہے جبکہ 557ٹرین انجنز میں سے صرف 23بجلی کے ذریعے چلتے ہیں اور 520انجنز کو ڈیزل سے چلایا جاتا ہے۔ حالانکہ اس وقت دنیا بھر میں 80فیصد سے زیادہ ریل گاڑیاں بجلی سے چلتی ہیں کیونکہ ٹرین انجن کو چلانے کے لئے ڈیزل ایک انتہائی مہنگا اور ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والا ایندھن ہے۔ اب بتایا یہ جا رہا ہے کہ پاکستان میں سی پیک کے منصوبے میں 1872کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی منظوری بھی دی جا چکی ہے ML1نام کے اس پراجیکٹ پر 7بلین ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔ آج کی دنیا میں ہر ترقی پذیر ملک ٹرین نیٹ ورک کی افادیت سے آگاہ ہو رہا ہے۔

ایک شہر سے دوسرے شہر تک انٹر سٹی ٹرین سسٹم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ شہروں کے اندر (انڈر گراؤنڈ) یعنی زیر زمین ٹرین کے نظام کو ترقی دی جا رہی ہے۔ سڑکوں کے متوازی ٹرام چلانے کا سلسلہ عام ہو رہا ہے۔ ٹرین دنیا کے ہر ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کا سب سے اہم سستا اور آسان ذریعہ ہے۔ انگریز ہمارے ملک میں ریلوے ٹریک کا جو جال بچھا کر گیا تھا اگر ہم اس میں اضافہ نہیں کر سکتے تو کم ازکم دستیاب ریلوے لائنز کو محفوظ بنائیں اور ٹرین سروس کو اس نہج پر چلائیں جس طرح دنیا کے دیگر ممالک میں ریلوے کے نظام کو موثر طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر پاکستان میں ریلوے کے نظام کو وسعت دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ لوگوں کو چھوٹے شہروں کے درمیان بھی ریل کے ذریعے سفر کی سہولت میسر آئے اور سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہو۔ برطانوی درالحکومت لندن جس کی آبادی 90لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے یہاں زیر زمین ریلوے کا ایک ایسا مربوط نظام موجود ہے جو اس شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر لندن میں انڈر گراؤنڈ(میٹرو) ٹرین سسٹم میں ذرا سی بھی رکاوٹ آ جائے تو پورے شہر میں سڑکوں پر چلنے والی ٹریفک بھی معطل ہونے لگتی ہے۔

انگریز اس قدر دور اندیش ہیں کہ انہوں نے اپنے دارالحکومت میں زیر زمین ٹرین چلانے کے منصوبے کا آغاز جنوری 1863ء میں کر دیا تھا جس کے بعد سے اب تک اس کو بہتر سے بہترین بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ لندن کی انڈر گراؤنڈ ٹرینوں میں روزانہ ساڑھے تیس لاکھ سے زیادہ لوگ سفر کرتے ہیں جو مختلف علاقوں میں موجود 270اسٹیشنوں سے ٹرین میں سوار ہوتے ہیں۔ وسطی لندن میں کنگز کراس، واٹر لو، یوسٹن اور وکٹوریہ چار مرکزی ٹرین اسٹیشنز ہیں جہاں سے مختلف شہروں اور ملکوں کے لئے ریل گاڑیاں روانہ ہوتی ہیں۔ چاروں ریلوے اسٹیشن انتہائی شاندار اور مصروف مقامات ہیں۔

مسافروں کی آمد و رفت کے باعث یہاں ہمہ وقت گہما گہمی رہتی ہے۔ ان اسٹیشنز پر مسافروں کی آسانی اور آرام کے لئے ہر طرح کی سہولت موجود ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران اور اربابِ اختیار دنیا بھر میں گھومتے پھرتے ہیں لیکن معلوم نہیں یہ لوگ ترقی یافتہ ملکوں کے ریلوے کے نظام کا مشاہدہ کرنے کے باوجود اپنے ملک میں ریلوے کے محکمے میں بہتری لانے کے لئے کوئی موثر حکمت عملی کیوں اختیار نہیں کرتے؟ کاش ہمارے ملک میں بھی ایسی تیز رفتار اور آرام دہ ریل گاڑیاں چلنا شروع ہوں کہ لوگ سڑک اور جہاز کے ذریعے سفر کی بجائے ٹرین میں سفر کرنے کو ترجیح دیں۔
برطانیہ میں کئی پرائیویٹ کمپنیاں اپنی اپنی ٹرینیں چلاتی ہیں اور مسافروں کو کم سے کم کرائے میں سفر کی بہترین سہولتیں دینے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کی کشمکش جاری رہتی ہے۔پاکستان میں بھی ریل نیٹ ورک کو موثر، فعال اور سہولتوں سے آراستہ کیا جائے تو بہت سی انٹرنیشنل کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے دلچسپی لینا شر وع کر سکتی ہیں اور دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ریل گاڑی کا سفر جہاز اور سڑک کے ذریعے سفر سے زیادہ پرکشش اور آرام دہ ہو سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں