85

لائف ان یوکے کا امتحان کیوں ضروری ہے

وہ ٹورانٹو کے ہوائی اڈے پر امیگریشن افسر کے سامنے پریشان کھڑا تھا اور امیگریشن افسر بار بار اس کے برٹش پاسپورٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے کئی بار پوچھا کہ تم یہاں کس مقصد کے لئے آئے ہو اور کینیڈا میں تمہارا قیام کہاں اور کتنے دن کا ہو گا؟ لیکن وہ نہ تو اس کے سوال کو سمجھ سکا اور نہ ہی ان کے جواب دے سکا کیونکہ اس سے یہ استفسار انگریزی میں کیا جا رہا تھا۔ مجبوراً ایک ترجمان کو بلایا گیا جس نے اردو میں ان سوالات کا ترجمہ کیا تو وہ ان کے جواب دے پایا۔ اس سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ کتنے عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہے اور وہ انگریزی سمجھنے اور بولنے سے قاصر کیوں ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ اٹھارہ برس قبل منگیتر کے طور پر برطانیہ آیا تھا جہاں شادی کے فوراً بعد اسے ایک پاکستانی ویئر ہاؤس میں ملازمت مل گئی جہاں بہت سے پاکستانی اور انڈین کام کرتے تھے۔ ان کے ساتھ کام کے دوران اردو اور پنجابی میں ہی بات چیت ہوتی تھی۔ انگریزی بولنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی تھی۔ اس لئے وہ انگریزی سمجھنے اور بولنے سے محروم رہا۔ وہ جس علاقے میں رہتا تھا وہاں بھی ایشیائی تارکین وطن کی اکثریت تھی۔ اس لئے اسے انگریزی زبان اور انگلستانی طرز زندگی کو سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔

برطانیہ میں ایسے ہزاروں تارکین وطن آباد ہیں جو برطانوی شہریت اور پاسپورٹ کے باوجود انگریزی زبان میں بات چیت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور نہ ہی انگریزی تہذیب و تمدن سے انہیں کوئی خاص واقفیت ہے۔ مانچسٹر، برمنگھم اور بریڈ فورڈ کے علاوہ لندن کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں کوئی انگریز شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔ ساؤتھ آل، ٹاور ہیملٹ، ویمبلے، ٹوٹنگ، گرین سٹریٹ، ایسٹ ہیم، الفورڈ اور اسی طرح اور کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پہنچ کر ایسا لگتا ہے کہ آپ برطانوی دارالحکومت میں نہیں بلکہ پاکستان، انڈیا یا بنگلہ دیشن کے کسی حصے میں آئے ہوئے ہیں۔ 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں جو ایشیائی تارکین وطن برطانیہ آتے تھے وہ صرف انہی علاقوں میں آباد ہونے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے جہاں ان کے ہم وطن یا ان کے آبائی علاقوں کے لوگ رہتے تھے۔ رفتہ رفتہ انگریزوں نے ان علاقوں سے نقل مکانی شروع کر دی اور ایشیائی لوگوں نے ان کی جگہ لے لی اور اب یہاں گورے کبھی کبھار دیسی کھانے(کری) کا ذائقہ چکھنے کے لئے آ نکلتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ مذکورہ بالا علاقوں کی کونسلوں میں مختلف زبانوں کی ترجمانی کے شعبے قائم تھے لیکن جب تارکین وطن کی دوسری نسل پروان چڑھی تو کسی بینک، کونسل، انشورنس کمپنی، سوشل سیکورٹی، گیس، بجلی، پانی یا ٹیلی فون کی کسی کمپنی سے فون پر بات چیت کے لئے اولاد اپنے والدین کے ترجمان کا فریضہ انجام دینے لگی اور پھر برطانیہ میں آکر آباد ہونے والے تارکین وطن کے لئے نیشنیلٹی، امیگریشن اینڈ اسائلم ایکٹ 2002ء کے تحت 2005ء میں ایک ٹیسٹ متعارف کرایا گیا جسے لائف ان یونائیٹڈ کنگڈم ٹیسٹ کہتے ہیں۔ یہ ایک بڑا دلچسپ اور لازمی امتحان ہے جس میں برطانوی شہریت کے حصول رہائش کے خواہشمندوں کی انگریزی بولنے کی استعداد کو پرکھا جاتا ہے اور ان سے برطانیہ کی تاریخ، سیاست، طرز معاشرت، سماجی اقدار وغیرہ کے بارے میں 24سوالات کئے جاتے ہیں جن کے درست جواب دینے پر انہیں اس ٹیسٹ میں کامیابی کا ایک سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے جس کے بعد وہ برطانیہ میں رہائش اور شہریت کے اہل قرار پاتے ہیں۔ اس ٹیسٹ سے پہلے امیدواروں کو ایک کتاب ”لائف ان یوکے“ پڑھنی پڑھتی ہے جس میں اس ٹیسٹ کی تفصیلات، معلومات اور سوالات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

اس ٹیسٹ میں آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی کامیابی کی شرح 95فیصد ہے جبکہ عراق، بنگلہ دیش، افغانستان اور ترکی کے صرف 50فیصد تارکین وطن اس ٹیسٹ کو پاس کر پاتے ہیں۔ اس ٹیسٹ میں امیدوار کو 24میں سے 18سوالات کے درست جوابات دینا ضروری ہوتا ہے یعنی 75فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہے وگرنہ اسے پھر سے فیس ادا کر کے ٹیسٹ دینا پڑے گا تاوقتیکہ وہ 75فیصد نمبر نہ حاصل کر لے۔ بہت سے لوگ لائف ان یوکے ٹیسٹ پر اعتراض بھی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اکثریت کا خیال یہ ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں پورے یورپ سے جو 4ملین سے زیادہ تارکین وطن برطانیہ آئے ہیں انہیں یہاں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بننے کے لئے انگریزی بول چال اور برطانوی اقدار سے آگاہی ضروری ہے۔ یورپ سے ترک وطن کر کے برطانیہ آنے والوں کی اکثریت انگریزی زبان سے بالکل نابلد ہے۔ یس اور نو کے علاوہ انہیں کوئی تیسرا لفظ نہیں آتا۔ ایسے لوگوں کو برطانوی معاشرے کا حصہ بننے کے لئے انگریزی زبان کا سیکھنا حالات کی اہم ضرورت ہے وگرنہ ہر معاملے میں انہیں ترجمان کی ضرورت رہے گی۔ یونائیٹڈ کنگڈم اس اعتبار سے ایک شاندار ملک ہے کہ یہ ہر رنگ و نسل، قومیت اور مذہب کے لوگوں کا خیر مقدم کرتا اور انہیں مساوی حقوق فراہم کرتا ہے۔ یہاں ہر مذہب کے لوگوں کومکمل آزادی میسر ہے۔ ہر طرح کی ثقافتی سرگرمیوں کی اجازت ہے اور اب برطانوی حکومت چاہتی ہے کہ جو تارکین وطن اس ملک میں آباد ہیں وہ کم از کم انگریزی بولنے یا سمجھنے کی اہلیت رکھنے کے ساتھ ساتھ برطانوی طرز زندگی اور اقدار سے خاطر خواہ واقفیت ضرور رکھتے ہوں تاکہ انہیں اس معاشرے کا حصہ بننے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جن لوگوں نے اپنی مرضی سے یونائیٹڈ کنگڈم میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا انہیں یہاں کے ضابطوں، قوانین اور طرز معاشرت سے ضرور آگاہی ہونی چاہئے۔ یورپی یونین سے نکلنے کے باوجود بھی برطانیہ نے اپنے ملک میں آباد یا رہائش پذیر یورپی باشندوں کے لئے کوئی دشواری پیدا نہیں کہ بلکہ ان کو سیٹلمنٹ سکیم کے تحت یہاں مقیم رہنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا ہے۔ البتہ اس معاملے میں ہوم آفس کو ایک الجھن کا سامنا ہے کہ 6ملین سے زیادہ یورپی لوگوں نے برطانیہ میں سیٹلمنٹ کی درخواستیں جمع کروائی ہیں (ان میں سے زیادہ تعداد آن لائن درخواستیں دینے والوں کی ہے) جبکہ ان درخواست دہندگان کی تقریباً آدھی سے زیادہ تعداد برطانیہ میں نہیں رہتی۔ ان کے بارے میں حکومت مخمصے کا شکار ہے اور اس بارے میں کوئی قانون سازی اور ضابطہ حالات کا اہم تقاضا ہے۔ یورپی باشندوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں اپنی سیٹلمنٹ کی رجسٹریشن کروانے کے بعد یورپی یونین کے کسی اور ملک میں کام کر رہی ہے جس کی وجہ سے برطانیہ کو افرادی قوت میں کمی کا بھی سامنا ہے۔ اسی لئے اب یورپ کے علاوہ دیگر ملکوں اور خاص طور پر دولت مشترکہ کے ممالک سے افرادی قوت اور ہنرمندوں کو ویزے جاری کرنے کے لئے نئی امیگریشن پالیسی بنائی گئی ہے اور اسی طرح برطانیہ میں تعلیم کے حصول کے لئے آنے والوں کو بھی کچھ سہولتیں دی جا رہی ہیں۔اگر پاکستان سے کوئی ہنر مند یا سٹوڈنٹ برطانیہ آنا چاہتا ہے تو وہ کسی ایجنٹ، امیگریشن کنسلٹنٹ یا نوسرباز کے چنگل میں پھنسنے کی بجائے برطانوی ہوم آفس کی ویب سائٹ کے ذریعے ویزے کے حصول کے لئے شرائط اور طریقہ کار کی مکمل معلومات حاصل کرلے تو زیادہ بہتر اور آسان ہے۔

٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں