79

یہ میرے بابا ہیں

اپنے ننھے ہاتھوں سے وہ
جب انگلی تھام کے چلتی ہے
اپنی عمر کے بچوں میں وہ
جب سینہ تھان کے کہتی ہے
یہ میرے بابا ہیں
یہ میرے بابا ہیں
تو لمحوں کو پھر
میرے مولا
قید کرنے کو جی کرتا ہے

رات کو سوتے سوتے جب وہ
سینے پہ سر رکھتی ہے
پھر ہولے ہولے سرگوشی میں
اپنے آپ سے کہتی ہے

یہ میرے بابا ہیں
یہ میرے بابا ہیں
تو لمحوں کو پھر میرے مولا
قید کرنے کو جی کرتا ہے

جب غصے میں آ جائے بابا
وہ چہرے کو پڑھ لیتی ہے
ماتھے کا وہ بوسہ لیکر
کان میں جب یہ کہتی ہے

یہ میرے بابا ہیں
یہ میرے بابا ہیں

تو لمحوں کو پھر میرے مولا
قید کرنے کو جی کرتا ہے
قید کرنے کو جی کرتا ہے

سہیل صفدر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں