60

عوام کاگناہ اورقصورکیا۔؟

کپتان کے کھلاڑی اورکارکن کیا ۔؟ ان کے تووزیراورمشیربھی سبحان اللہ۔ نہ توکارکن اورکھلاڑیوں کے رویے، لہجے، انداز، کرداروگفتار سے یہ لگ رہاہے کہ یہ کسی سیاسی پارٹی اورجماعت کے کارکن یا وزیراعظم عمران خان جیسے کسی کپتان کے کھلاڑی ہوں گے اور نہ ہی مونچھوں کو تائو اور نظروں کوکھائو دینے والے وزیروں اورمشیروں کے خیالات، کمالات، انوارات اور برکات سے کہیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ یہ بھی کوئی وزیر یامشیر ہوں گے۔ معذرت کے ساتھ نہ سیاسی شاگرد ایسے ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے استاد۔معلوم نہیں نئے پاکستان کے یہ سیاسی شاگرد اور استاد کس سکول، کس کالج، کس یونیورسٹی اورکس گھرسے وارد یا نازل ہوئے ہیں۔ ہم جس ملک اورجس معاشرے میں رہ رہے ہیں ۔اس کے بارے میں آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک اور معاشرے میں ایک دو نہیں ہزاروں خرابیاں ہیں لیکن اخلاقیات کے معاملے میں کم ازکم اس ملک اورمعاشرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے آپ کوسو نہیں بلکہ ہزار بارضرور سوچنا پڑے گا کیونکہ یہاں بات ہی اخلاق اورشرافت سے شروع ہوتی ہے۔ یہاں تو ماں کی گود میں پہلادرس ہی بچے کو اخلاق کا دیا جاتا ہے مگرمعلوم نہیں وزیراعظم عمران خان کے ہاتھ پربیعت کرنے والے یہ سیاسی پیراور مریدکس ملک ،کس معاشرے اورکس دنیاسے اٹھ کر یہاں آگئے ہیں۔

سیاست میں اختلافات اورحکومت کی غلط پالیسیوں واقدامات پرتنقیدیہ کوئی نئی بات نہیں۔ اختلاف توایک ہی چھت تلے زندگی گزارنے والے بھائیوں،بہنوں اورماں باپ میں بھی ہوتاہے۔ ایسا تو کوئی گھر، کوئی در اور زمین کاکوئی ذرہ نہیں کہ جہاں دوبندوں کاآپس میں اختلاف نہ ہو۔سو باتوں میں سوفیصدمتفق ہونے والوں میں بھی ایک نہ ایک بات اورمعاملے پراختلاف ضرورہوتاہے۔پھر اچھے کاموں ،مثبت پالیسیوں اور بروقت اقدامات کی تعریف اور بے ایمانی، جھوٹ، فریب، دھوکہ اور منافقت پرکھل کرتنقید یہ توجمہوریت کا ہی ایک حسن ہے۔ جہاں اچھے کاموں کی تعریف اور برے اقدامات پرتنقید نہ ہو وہ ملک اور معاشرہ پھر تباہ ہوکر رہ جاتاہے۔ لگتاہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں اورکپتان کے کھلاڑیوں نے اس ملک اورمعاشرے کوتباہ کرنے کاکوئی تہیہ یاکوئی پکاعزم کیاہواہے۔ان کی تاریخی حکومت اوربے مثال حکمرانی کے خلاف اگرکوئی بات کی جائے تویہ کاٹنے اورمارنے کودوڑپڑتے ہیں۔اوپرسے ان کے وزیراورمشیربھی ماشاء اللہ سے ایسے ہیں کہ کوئی بھی باشعور، باعقل ،محب وطن اور درددل رکھنے والا انسان ان کے سیاہ کارناموں اورکرتوتوں پر چپ نہیں بیٹھ سکتا۔ٰٓ ایک روٹی کے بعد چینی کے 9دانوں والی بات کوہی دیکھ لیں۔ کیاکوئی باشعورشخص اس پر خاموش رہ سکتا ہے۔؟ یہ اگرروزنئے ڈرامے نہ کرتے۔۔ یہ اگر زمین پر بیٹھ کر ہواوفضاء میں جہاز نہ اڑاتے۔ توواللہ ہم بھی ان کے پرانے کارنامے بھول جاتے لیکن ان کوتوآئے روزکچھ نہ کچھ نئے کرنے کی ایسی عادت یالت پڑگئی ہے کہ یہ اب روزاگر کچھ نیا نہ کریں تو یہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ ایک تو خان کے وزیر اور مشیر ایسے ہیں ادھر کپتان کا پالا بھی ایسے کارکنوں اورکھلاڑیوں سے پڑاہے کہ الامان والحفیظ۔ ہم نے اس ملک میں سیاسی کارکنوں کوبہت قریب سے دیکھاہے لیکن ایسے کارکن ہم نے آج تک نہیں دیکھے ہیں۔ یہ تو نایاب باالکل ہی کسی نایاب نسل وقسم کے لگتے ہیں۔ ان کے وزیر اور مشیر چاہے کچھ بھی کرلیں یا کچھ بھی کہیں۔

یہ ان کا دفاع کرنا نہ صرف اپنا فرض بلکہ ایک قسم کا جہاد بھی سمجھتے ہیں۔ پھراپنے نمونا نما وزیروں اور مشیروں کے دفاع میں دوسروں کی مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کوطرح طرح کی گالیوں اور القابات سے نوازنا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کوئی کھیل ہے۔ ان کی یہ تربیت تواس ملک کی نہیں لگتی۔ یہاں تودشمنوں کی مائوں،بہنوں اوربیٹیوں کوبھی عزت سے نوازا جاتا ہے۔ شائد اخلاقیات کایہ سبق انہوں نے کسی سیاسی کم نسل سے پڑھا اورسیکھا ہو ورنہ نسلی اور خاندانی لوگ تو سیاست میں بھی اپنے کارکنوں کواس طرح کے اسباق نہیں پڑھایاکرتے۔ تین سال سے وزیر، مشیراپنی کوتاہیوں اور گناہوں کے سبب عوام کومہنگائی، غربت، بیروزگاری، بھوک وافلاس سے مار رہے ہیں اورکارکن ان غریبوں کو گالیوں سے نوازرہے ہیں۔ بڑے عجیب لوگ اور نایاب مخلوق ہے یہ لوگوں کوماربھی رہے ہیں اوررونے بھی نہیں دے رہے۔ ان کے ہاں فارمولوں سے ہٹ کرعوامی مسائل کا اورکوئی شافی حل نہیں۔ مہنگائی کے توڑکے لئے بھی یہ چینی کے 9دانوں اور روٹی کے9 نوالوں کا ایک فارمولہ مارکیٹ میں لانچ کرچکے ہیں۔ انہی کے ایک صاحب  فرماتے ہیں کہ پہلے اگرچائے میں چینی سودانے ڈالے جاتے تھے تو اب اس میں 9دانے کم کردیئے جائیں۔روٹی کے اگرسونوالے کھائے جاتے تھے تواب 9نوالے کم کھائے جائیں۔اسی طرح ان کے ایک وزیرصاحب نے پہلے فرمایاتھاکہ ملک میں اگرمہنگائی ہے تولوگ دوکی بجائے ایک روٹی کھائیں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہاکہ تحریک انصاف کے یہ وزیر، مشیر اور کارکن اس ملک کوکس طرف لیکرجارہے ہیں۔

تین سال سے اس ملک میں حکومت ان کی ہے لیکن آج بھی انگران کے اپنے ہاتھوں سے کچھ برا ہو جائے توذمہ داری یہ نوازشریف اورزرداری پرڈال دیتے ہیں۔ ملک میں مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کایہ طوفان نوازشریف اورزرداری کی وجہ سے نہیں بلکہ انہی کے گناہوں کے سبب آیاہے۔ پچھلے تین سال سے ملک کوخالہ جی کا گھرسمجھ کربجلی ،گیس کے بھاری بلوں اورآٹا، چینی، گھی ، ادویات اور پٹرول مہنگا کرنے کی وجہ سے دونوں ہاتھوں سے یہ لوٹ لے رہے ہیں اورمہنگائی کے ذمہ دارنوازشریف اورزرداری ہیں۔ یہ عجیب منطق ہے۔ بے شرمی اورہٹ دھرمی کی بھی آخرکوئی حدہوتی ہے۔ آج بھی اگرنوازشریف اورزرداری ہی ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دارہیں توپھریہ کس مرض کی دواء اورکس نام کے حکمران ہیں۔؟ انہیں عوام نے ووٹ انڈوں سے بچے نکالنے یاکٹے اورمرغیاں پالنے کے لئے تونہیں دیئے تھے۔ یہ تین سال سے کوئی کام اورکاج کرنے کی بجائے عوام کومہنگائی،غربت اوربیروزگاری سے بچنے کے یہ جومفت مشورے دے رہے ہیں یہ پہلے ان مشوروں پرخودعمل کیوں نہیں کرتے۔؟ عوام کودوکی بجائے ایک روٹی کھانے کالیکچر دینے والے پروفیسرصاحب نے کبھی خوددوکی جگہ ایک روٹی کھائی ہے۔؟

اب یہ جو مونچھوں والے صاحب قوم کو چینی کے 9دانوں اورروٹی کے 9نوالوں کے فوائدبتارہے ہیں کیا اس صاحب نے اس فارمولے پرپہلے خودعمل یاکوئی تجربہ کیاہے۔؟ یہ خودتودوکی بجائے چاراورپانچ روٹیاں پھاڑیں۔ چینی کے سودانوں کی جگہ پانچ سودانے ڈالیں اورروٹی کے سونوالوں کے مقابلے میں ایک ایک وقت میں چار چار سونوالے اپنے حلق میں انڈیلیں اور پھرعوام سے کہیں کہ وہ مہنگائی کوختم یا کم کرنے کے لئے کچھ کریں ۔ افسوس ہے ایسے حکمرانوں پر۔ ان کوتوحکمران کہنابھی لفظ حکمران کی توہین ہے۔کیاحکمران ایسے ہوتے ہیں۔؟ قومی خزانے سے بھاری تنخواہیں اورمراعات یہ لیں۔ ہروقت شاہی پروٹوکول میں یہ گھومیں پھریں۔ ایک ایک وقت میں درجنوں وسینکڑوں ڈشزکے کھانے یہ کھائیں۔70سال سے سیاست کے ذریعے تجوریوں پرتجوریاں یہ بھریں۔ حکومت میں ہوں یااپوزیشن میں ۔آج بھی چار چارسوکنال پربنے فارم ہائوس اورتاج محلوں میں خراٹے یہ ماریں۔ ملک وقوم کودونوں ہاتھوں سے یہ لوٹیں۔ پھرروٹی دوکی بجائے ایک عوام کھائیں۔ چائے میںچینی کے نو دانے کم عوام ڈالیں اورروٹی کے نونوالے کم عوام کھائیں۔کیوں۔؟ آخرعوام کاگناہ اورقصورکیاہے۔؟کیاصرف یہی کہ وہ اس طرح کے عجوبوں اورنمونوں کوحکمران کیوں بناتے ہیں۔؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں