سویڈن میں خاتون وزیراعظم کی راہ میں حائل مشکلات

سویڈن میں خواتین کو ووٹ کا حق ملے ایک سو سال ہوگیا ہے لیکن اب پہلی بار ایک خاتون وزیراعظم بنی ہے۔ سویڈن نارڈک ممالک میں آخری ملک رہ گیا تھا جہاں کوئی خاتون وزیراعظم نہیں بن سکی تھی، اب وہ کمی بھی پوری ہوگئی ہے اور پچھلے ہفتے میں غلط آغاز کے بعد آخرکار سوشل ڈیموکریٹک رہنما میگڈالینا اینڈرسن کو پیر کو پارلیمنٹ میں دوبارہ وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا۔

ماہر سیاسیات جینی میڈسٹم کہتی ہیں کہ سویڈش سیاستدان کسی خاتون کو وزیراعظم بنانے کیلئے تیار نہیں تھے اور سویڈش میڈیا خواتین سیاستدانوں کو ٹھیک طریقے سے کور نہیں کررہا تھا یہی وجہ تھی کہ موڈ ریٹ پارٹی کی لیڈر انا کنبیری وزیراعظم کیلئے 2017 میں سنجیدہ امیدوار ہونے کے باوجود ان سے استعفی لے لیا گیا تھا اگر ایسا نہ کیا جاتا تو انا کنبیری سویڈن کی پہلی خاتون وزیراعظم بن جاتی لیکن شاید یہ عہدہ سوشل ڈیموکریٹ کی مگدلینا اینڈرسن کی قسمت میں لکھا تھا۔

خیال رہے کہ مگدلینا اینڈرسن پچھلے ہفتے ایک بار وزیراعظم بننے کے بعد اسی دن استعفی بھی دے چکی ہیں لیکن قیادت کے فقدان اور کسی بھی جماعت کے پاس ممبران کی مطلوبہ تعداد نہ ہونے کی وجہ سے آخرکار مگدلینا اینڈرسن کو سوموار کے روز وزیراعظم منتخب کرلیا گیا ہے۔

مگدلینا اینڈرسن کو معلق پارلیمنٹ میں مضبوط اپوزیشن کے سامنے بہت پریشر میں کام کرنا پڑے گا لیکن اس کے باوجود وزیراعظم مگدلینا اینڈرسن بہت زیادہ پرامید ہیں کہ 2022 کے الیکشن میں جیت کر وہ زیادہ اکثریت کے ساتھ اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گی۔