53

انسان اور قبرستان

ایسٹ لندن میں گارڈنز آف پیس کے نام سے دو قبرستان ہیں جہاں سینکڑوں مسلمان آسودۂ خاک ہیں۔ ایمبرج روڈ کے قبرستان میں اب مزید قبروں کی گنجائش نہیں ہے اس لئے اب جہانِ فانی سے رخصت ہونے والے مسلمانوں کو فائیو اوک لین کے گارڈن آف پیس میں سپردِخاک کیا جاتا ہے۔ ایمبرج روڈ کے شہر خموشاں میں میرے کئی دوست اور عزیز ابدی نیند سو رہے ہیں۔ اس قبرستان کے ایک حصے میں بچوں اور دوسرے حصے میں بڑی عمر کے لوگوں کی آخری آرام گاہیں ہیں۔ یہ گارڈن آف پیس سرسبز درختوں سے گھرا ہوا ہے اور قبروں کے درمیان سبز گھاس کا قالین بچھا رہتا ہے۔ قبرستان کی انتظامیہ گھاس کی کٹائی اور قبروں کی دیکھ بھال کا خاص خیال رکھتی ہے۔ یہاں ہر قبر ایک ہی سائز یعنی سوا چھ فٹ لمبی اور دو فٹ چوڑی ہے ویسے بھی دنیا میں انسان کے حصے میں زمین کا صرف اتناہی ٹکڑا آتا ہے باقی محلات اور شاندار بنگلے انسان اپنے پیچھے رہ جانے والوں کے لئے چھوڑ جاتا ہے جبکہ بہت سے بدنصیب انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں مرنے کے بعد دو گز زمین بھی میسر نہیں آتی۔ گارڈن آف پیس کی ہر لحد پر ایک ہی سائز کے پتھریلے کتبے رکھے ہوئے ہیں جن پر صرف مرحومین کے نام، تاریخ وفات اور عمر کا اندراج کندہ ہے۔

میں کبھی کبھار اس قبرستان میں فاتحہ خوانی کے لئے جاتا ہوں یہاں کار پارک اور قبروں کے درمیان ایک چھوٹی سی ندی حائل ہے اور قبرستان کے داخلی رستے پر انجیر کے چند پیڑ بھی لگے ہوئے ہیں یہاں پر تمام قبریں ایک قطار اور ترتیب سے بنائی گئی ہیں اور قبرستان کے مختلف حصوں کے درمیان پختہ سڑک بنی ہوئی ہے۔ فاتحہ خوانی کے لئے آنے والوں کے واسطے یہاں پانی اور وضو کے انتظام کے علاوہ جوتوں سے مٹی صاف کرنے کے لئے برش رکھے ہوئے ہیں۔ گذشتہ اتوار کو میں اس گارڈن آف پیس میں فاتحہ خوانی کے لئے گیا تو یہاں مکمل سناٹا تھا۔ کسی کسی قبر پر پھول رکھے ہوئے تھے۔ بیشتر قبریں ایسی تھیں جن کو دیکھ کر لگتا تھا کہ ان پر فاتحہ خوانی کے لئے مدتوں سے کوئی نہیں آیا۔ بچوں کی قبریں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی فاتحہ سے محروم تھیں اور بزرگوں کی قبریں اپنی اولاد کی دعاؤں کے انتظار میں تھیں۔ قبرستان آ کر انسان کے اندر ایک عجیب سا احساس بیدار ہوتا ہے یوں لگتا ہے کہ بہت سی خالی قبریں ہمارے انتظار میں ہیں۔ بلکہ یہ خالی قبریں نہیں چوکھٹے ہیں جہاں کوئی نہ کوئی تصویر بہت جلد سجا دی جائے گی۔

یہ دنیا بھی عجیب پرکشش جگہ ہے جس کی گہما گہمی انسان کو اپنے اندر اتنا محو کرلیتی ہے کہ ہم زندہ انسانوں کو خیال ہی نہیں آتا کہ ہماری آخری آرام گاہیں ہمارے انتظار میں ہیں۔ اس لئے کبھی کبھی کسی کے جنازے کے بغیر بھی قبرستان ضرور جانا چاہئے۔ ہم دوسروں کو مرتے ہوئے دیکھ کر یہ سوچتے ہیں کہ شاید موت صرف انہی کا مقدر تھی ہم موت کی گرفت سے محفوظ ہیں ابھی تو ہم نے اپنی زندگی میں بہت سے ضروری کام کرنے ہیں بہت سی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ مسلمانوں کے مقابلے میں انگریزوں میں موت کی اٹل حقیقت کو تسلیم اور قبول کرنے کا رویہ بہت مختلف ہے۔ برطانیہ میں جیسے ہی کوئی مرد یا عورت پچاس برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو فیونرل سروس Funeral Service(جنازے کا انتظام کرنے والے ادارے) اور لائف انشورنس کمپنیاں انہیں معلوماتی لٹریچر اور درخواست فارم بھیجنا شروع کر دیتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت اپنی زندگی میں ہی فیونرل سروس کو اپنے جنازے کے انتظامات کی رقم قسط وار ادا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ آپ ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے کہ اگر پاکستان میں ایسی کوئی فیونرل سروس شروع کی جائے جو پچاس سال سے زائد عمر کے لوگوں سے رابطہ کر کے انہیں اپنے جنازے کے انتظامات کے لئے قسط وار ادائیگی کی ترغیب دے تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے۔ ہم مسلمان موت اور موت کے ذکر سے بہت زیادہ خوفزدہ رہنے والی قوم اور امت ہیں۔ برطانیہ میں گوروں کے قبرستان میں اتنا سناٹا نہیں ہوتا جتنا کہ یہاں مسلمانوں کے قبرستانوں میں جا کر محسوس ہوتا ہے۔ انگریزوں کی اکثریت اپنے پیاروں کی قبروں پر جاتی رہتی ہے۔ غیر مسلموں کی قبروں پر تازہ پھول رکھے نظر آتے ہیں جبکہ مسلمانوں کی قبریں دعاؤں کی نعمت سے بھی محروم رہتی ہیں۔ احمد مشتاق نے کہا تھا۔


رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ رفتگاں
پھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں


اوور سیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کے والدین اور بزرگوں کی قبریں پاکستان میں ہیں۔وہ جب بھی وطن عزیز جاتے ہیں تو اُن کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لئے ضرور حاضری دیتے ہیں جبکہ ان میں کچھ بدقسمت ایسے بھی ہیں جو پاکستان جا کر مزاروں پر حاضری دینا اور سیاستدانوں سے ملنے کے لئے طرح طرح کے جتن کرنا تو نہیں بھولتے لیکن اپنے والدین کی قبروں پر فاتحہ خوانی کو ہر بار فراموش کر دیتے ہیں۔
پاکستان میں اپنے بزرگوں کی لحد پر فاتحہ خوانی کے بعد جب کبھی تارکین وطن کو برطانیہ میں کسی کی تدفین یا دعائے مغفرت کے لئے قبرستان جانا ہوتا ہے تو اس حقیقت کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ انگریزوں نے اپنے مرنے والوں کی آخری آرام گاہوں کا بھی کتنا خیال رکھا ہوا ہے۔ نہ یہاں کے قبرستانوں میں خود رو جھاڑیاں اور پودے اُگے ہوئے نظر آتے ہیں نہ یہاں کے قبرستان سورج ڈھلنے کے بعد نشہ کرنے یا چلہ کاٹنے والے جعلی پیروں اورعاملوں کی آماجگاہ بنتے ہیں، نہ تو یہاں آوارہ کتے اور جنگلی جانور گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی بے ترتیب قبروں کی ویرانی دکھائی دیتی ہے، نہ تو یہاں گورستان سے کوئی کفن چراتا ہے اور نہ ہی لاشوں کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ برطانیہ میں قبرستانوں کے بند ہونے اور کھلنے کے اوقات مقرر ہیں۔ قبروں کے اندر کے حالات تو مردے ہی جانتے ہیں لیکن برطانیہ میں قبرستانوں کے انتظامات اور حسن ترتیب کو دیکھ کر واقعی یہ لگتا ہے کہ یہاں ملکِ عدم کو روانہ ہونے والے مسافر پر سکون ابدی نیند سو رہے ہیں جبکہ مسلمان ملکوں میں عوام کی اکثریت عذاب بھری زندگی گزارتی ہے اور مرنے کے بعد بھی انہیں ایسی دو گز زمین کم ہی میسر آتی ہے جہاں وہ پرسکون ابدی نیند سو سکیں۔


اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے


برطانیہ میں شرح اموات، شرح پیدائش سے زیادہ ہے یعنی مرنے والوں کی تعداد زیادہ اور پیدا ہونے والوں کی تعداد کم ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم میں 12ہزار سے زیادہ قبرستان ہیں جبکہ گرجا گھروں سے ملحقہ چھوٹے چھوٹے قبرستان ان کے علاوہ ہیں۔ یو کے میں دریافت ہونے والا سب سے قدیم قبرستان دس ہزار سال پرانا ہے جو نیرو کیو (NARROW CAVE) کہلاتا ہے اور یہ سمر سٹ میں واقع ہے جبکہ اس ملک میں سب سے بڑا قبرستان سرے کا نیکروپولس سمڑی ہے جہاں مرنے والوں کی تدفین کا آغاز 1854ء میں ہوا اور یہاں تقریباً ڈھائی لاکھ قبریں موجود ہیں۔ ویسے تو موت ہر ذی روح کے لئے خوف اور دہشت کی علامت ہے لیکن جو انسان زندگی میں اپنی موت کو یاد رکھتے ہیں وہ ایک متوازن طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں۔ وہ اپنی عارضی زندگی میں اپنی ابدی زندگی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ آخری ہچکی اُن کے لئے ”موت آ گئی کہ یار کا پیغام آ گیا“ کے مترادف ہوتی ہے۔ زندگی کے سفر کا اختتام اُن کے لئے آخرت کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔


موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام زندگی
ہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی


میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ مرنے کے بعد ہماری ملاقات اپنے خاندان کے اُن افراد، رشتے داروں، قریبی دوستوں اور عزیزوں سے بھی ہو گی جو ہم سے پہلے اِس دنیا سے جا چکے ہیں اور جن کی کمی کو ہم شدت سے محسوس کرتے ہیں اور جن کے فراق اور غم میں ہم سسکتے اور تڑپتے رہتے ہیں۔ جب ہماری اپنے ان رفتگاں سے ملاقات ہو گی تو ہماری روح پر کیا کیفیت طاری ہو گی اور ہم اِن بچھڑجانے والوں سے ایک بار پھر ملنے پر کیسا محسوس کریں گے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے؟
٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں