کر لو جو کرنا ہے

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ملتوی ہونے پر اپوزیشن سمجھی کہ حکومت کے پاوں اکھڑ چکے ہیں اس کے اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور اب میدان خالی پڑا ہے اور شاید کرم فرما بھی جھٹکا دینا چاہتے ہیں ایسے میں حکومت کو بھگانے کا یہ بہترین وقت ہے ہم اس وقت بھی کہہ رہے تھے کہ حکومت کے پاس اتحادیوں کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے اور یہ ناز نخرے صرف دل لبھانے کے لیے کیے جا رہے ہیں حکومت جب چاہے گی انھیں منا لے گی اس کے برعکس اپوزیشن حکومتی اتحادیوں کو کیا دے سکتی تھی زیادہ سے زیادہ مستقبل کے لارے لپے کوئی ہاتھ میں آئی ہوئی چھوڑ کر اڑتی کے پیچھے کیوں جائے گا سو وہی ہوا حکومت نے منا لیا اب یہ پتہ کر لیں اتحادیوں کو ملا کیا ہے یہ سارا کچھ  اتنا اچانک تھا کہ اپوزیشن کو اندازہ ہی نہ ہو سکا وہ تو اکھٹے ہو کر حکومت کا تماشہ دیکھنے گئے تھے اور اپنا تماشہ بنوا کر واپس آگئے اوپر سے مشترکہ اپوزیشن کی عددی طاقت کا بھرم بھی بے نقاب ہو گیا اپوزیشن تمام تر کوششوں کے باوجود اپنے ارکان کی سو فیصد حاضری کو یقینی نہ بنا سکی آو تاو کے وقت کسی رکن کا ایوان سے غیر حاضر رہنے کا مقصد آپ بہتر جان سکتے ہیں  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جو ہونا تھا سو ہوا لیکن اس سے بڑھ کر جو جمعہ کے روز سینٹ میں ہوا اس نے تو اپوزیشن کے بھرم کی قعلی کھول کر رکھ دی اپوزیشن یہ تاثر دے رہی تھی کہ سینٹ میں مشترکہ اپوزیشن کے ارکان کی اکثریت ہے اور وہ جب چاہیں سینٹ میں عدم اعتماد کی تحریک لا سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس اپوزیشن سے حکومت کے خلاف عدم اعتماد نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کی اپنی صفوں میں اعتماد کا فقدان ہے  عندیہ دیا جا رہا تھا کہ  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہونے والی سبکی کا بدلہ سینٹ میں لیا جائے گا وہ کہہ رہے تھے کہ قومی اسمبلی میں ہمارا پاوں پھسل گیا تھا لیکن سینٹ میں تو یہ بھاری اکثریت کے ہتھیار سے لیس ہو کر گئے تھے لیکن وہاں ایسا ہوا جیسے کسی سے ہتھیار چھین کر اوپر سے تھپڑ بھی مارے جائیں لیکن سینٹ میں اس سے بھی بری ہوئی حکومت نے وہاں بھی اکثریت سے اپنے بل منظور کروا لیے اور اپوزیشن ہاتھ ملتی رہ گئی اپوزیشن سے اپنے چوزے نہ سنبھالے جا سکے انھوں نے 2022 میں الیکشن کروانے کے لیے حکومت کو مفلوج کرنے کی جو پلاننگ کر رکھی تھی وہ بھی کھوہ کھاتے چلی گئی اپوزیشن کا خیال تھا کہ وہ قانون سازی میں رکاوٹ کھڑی کرکے حکومت کو ایکسپوز کرے گی کہ حکومت عددی اکثریت کھو چکی ہے اور پھر پنجاب میں اور سینٹ میں تحریک عدم اعتماد لا کر حکومت پر دباو بڑھایا جائے گا ساتھ ہی احتجاجی تحریک چلا کر حکومت کو مفلوج کر دیا جائے گا اور عمران خان خود ہی حالات سے گبھرا کر اسمبلی توڑ دیں گے اور نئے الیکشن کی طرف آجائیں گے پارلیمنٹ میں ناکامی کے بعد اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل چکی اپوزیشن کے پارلیمنٹرین کو یہ سمجھ آگئی ہے کہ ان ہاوس تبدیلی کا کوئی امکان نہیں نہ ہی حکومت کو گھر بھیجنے کی کسی کی خواہش ہے لہذا فضول  ایکسرسائز کا کوئی فائدہ نہیں اب ہر سطح پر عدم اعتماد والا آپشن بھی دم توڑ چکا مہنگائی کے خلاف احتجاج کو چھوڑ کر پارلیمنٹ کی طرف آنے سے اب دوبارہ احتجاج کا ماحول پیدا کرنا مشکل ہے کیونکہ سیاسی ورکر کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ کچھ نہیں ہونا اس لیے آرام سے بیٹھو جن لوگوں نے سیاسی ورکروں کو نکالنا تھا وہ پارلیمنٹ میں تھرما میٹر لگا کر مزاج چیک کر چکے وہ بھی مایوسی کا شکار ہیں اب صرف اپوزیشن کی لیڈر شپ کی خواہش باقی بچی ہے ویسے بھی اب احتجاج کرنے والے ورکروں سے سیاسی جماعتیں ہاتھ دھو بیٹھی ہیں اب سٹریٹ پاور سیاسی جماعتوں کی بجائے مذہبی جماعتوں کو ٹرانسفر ہو چکی ہیں وہ مذہب کے نام پر لوگوں کو جذباتی کر کے   سڑکوں پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ سیاسی جماعتیں نظریاتی ورکر کھو چکی ہیں جذبات سے عاری مفاداتی ورکر کچھ اور تو کر سکتے ہیں تحریک نہیں چلا سکتے اپوزیشن نے احتجاجی تحریک کو جون کی طرح گرم رکھا ہوا تھا اب نومبر میں جنوری جیسی ٹھنڈی ہو گئی ہے اپوزیشن کی ناکامی نے حکومت کو پھرجلا بخش دی ہے اب راوی کو آگے چین ہی چین نظر آرہا ہے تبدیلی کی تمام تر خواہشیں ایک بار پھر دم توڑ چکیں اب اپوزیشن زندہ رہنے کے لیے ہلکی پھلکی موسیقی جاری رکھے گی لیکن اس بات کی انھیں بھی سمجھ آگئی ہے کہ دال گلنی نہیں اور اب حکومت کہہ رہی ہے کر لو جو کرنا ہے۔