54

میرے کپتان۔یہ وقت بھی آنیوالاہے

ہم ملک کے جس حصے میں رہتے ہیں یہاں خانہ بدوشوں کاآناجانالگارہتاہے اس لئے ان کے طور طریقوں، عادات اور خیالات سے اگر زیادہ نہیں توسو میں 80فیصدہم ضرور واقف ہیں۔ موسم سرما میں یہ گرم اورگرما میں یہ سرد وپہاڑی علاقوں کارخ کرتے ہیں۔ ان کا کوئی مالک ہوتاہے اورنہ ہی ان کا کوئی ٹھکانہ۔ جہاں موسم اچھااورحالات سازگار لگے یہ وہیں خیمہ وتمبولگاکراپنی دنیاآبادکرلیتے ہیں۔ یہ کھاتے بھی ہیں اورپیتے بھی۔ یہ ہماری جیسی بلکہ ہم سے بھی اچھی زندگی گزارتے ہیں لیکن پھربھی ان کاکسی سے کوئی لینادینانہیں ہوتا۔ کراچی سے کشمیراورچترال سے پنجاب تک سفرکے دوران ان کااگرکسی کے ساتھ کوئی تعلق قائم ہوبھی جائے تووہ محض وقتی ہوتاہے۔ ان کاتعلق اورکام فقط موسم اورحالات تک ہوتاہے۔ جب موسم بدل اورحالات ناموافق ہوجائیں توپھریہ نہ کسی کے ہوتے ہیں اورنہ ہی پھران کاکسی کے ساتھ کوئی تعلق باقی رہتاہے۔ موسم بدلنے اورحالات کاکایاپلٹنے پریہ ٹھکانہ بدلنے میں ایک سیکنڈبھی نہیں لگاتے۔ آپ کواگریقین نہیں آتاتوآپ پاکستان کی سیاسی تاریخ اٹھاکردیکھ لیں۔موسم گزرنے اور ٹھکانہ بدلنے کے بعدیہ نہ پرانے والے موسم کویادکرتے ہیں اور نہ ہی پرانے ٹھکانے وحالات کایہ کوئی ذکرکرتے ہیں۔

ویسے تویہ سال میں ایک دوبارہی نظرآتے ہیں لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ کااگرآپ باریک بینی سے مطالعہ کریں تواس میں صفحے صفحے پریہ آپ کوملیں گے۔ سیاسی تاریخ کاکوئی دن اورکوئی صفحہ ان سے خالی نہیں۔مسلم لیگ ن سے لیکر پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف سے لیکر جماعت اسلامی اوراے این پی سے لیکرجے یوآئی تک ہرجگہ آج بھی ان کی گونج ہے۔آج بھی ملک کی سیاست میں ان کی کوئی کمی نہیں۔ملک میں اس وقت ایسی کوئی پارٹی اورجماعت نہیں جہاں ان کے خیمے اورتمبونصب نہ ہوں۔ یہ ہر وقت اچھے موسم اورسازگارحالات کی تاک اورانتظارمیں بیٹھے رہتے ہیں۔نظران کی بہت تیزاورسونگھنے کی حس ان کی بے مثال ہوتی ہے ۔کہاں بریانی پک رہی ہے اور کہاں دال کوابال دیاجارہاہے۔؟ یہ ان سے بہترکون جانے۔؟خوشبوکی ایک چھوٹی سی مہک یا لہراٹھتے ہی یہ اپنابوریابستر خیمے اورتمبوسمیت گول کر کے اسی جگہ پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثرنے موجودہ دورمیں حکمران پارٹی تحریک انصاف کو بہتر اور اعلیٰ چراگاہ تصورکرکے پڑائو ڈالا ہواہے۔ ان کے زیراستعمال وہ خیمے یاتمبوجوکبھی مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، جے یوآئی ،اے این پی اورجماعت اسلامی کی چھتری تلے نصب ہواکرتے تھے وہی خیمے اورتمبوآج پی ٹی آئی کی چھتری تلے جابجانظرآرہے ہیں۔ ان خیموں اورتمبوئوں کی چمک ودھمک کودیکھ کرپچھلے تین سال سے تحریک انصاف کے چیئرمین ووزیراعظم عمران خان پھولے نہیں سمارہے ۔ عمران خان یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان خیموں اورتمبوئوں کی یہ شان وشوکت،میٹھی خوشبواورچاندنی کہیں ادھرہی ہمیشہ رہے گی لیکن شائد عمران خان کو سیاسی خانہ بدوشوں کی تاریخ،اصلیت ،عادات اوراطوارکا علم نہیں۔ وزیراعظم یہ نہیں جانتے کہ خانہ بدوش سیاسی ہوں یاسماجی۔ ان کاکوئی مستقل شہر۔کوئی گائوں۔ کوئی علاقہ اورکوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔

وزیراعظم صاحب اگرخانہ بدوشوں کی تاریخ سے ذرہ بھی واقف ہوتے تووہ تین سال سے کبھی اس طرح غلط فہمی اورخوش فہمی کاشکارنہ ہوتے۔ نوازشریف اورآصف علی زرداری کوبھی کسی زمانے میں ان خانہ بدوشوں پربڑانازتھا۔سابق صدپرویزمشرف بھی ایک وقت ان کی بڑی تعریفیں کرکے خوبیاں بیان کرتے تھے۔ پرویزمشرف کے دورمیں توان کے لئے مسلم لیگ ق کے نام سے باقاعدہ ایک بستی بھی قائم کردی گئی تھی لیکن پھردنیانے دیکھا کہ موسم بدلنے اورحالات بگڑنے پرپھرانہوں نے اس بستی کاکیاحشرنشرکیا۔ جس طرح ان کے آنے کاپتہ نہیں چلتااسی طرح ان کے نودوگیارہ ہونے کی بھی پھرکسی کوکوئی خبرنہیں ہوتی۔ اسی لئے ان کے بارے میں یہ کہاجاتا ہے کہ یہ آج ہمارے مہمان ہیں کل آپ ان کے میزبان ہوں گے۔ آج یہ وزیراعظم عمران خان کو،،مائی باپ،،کانام بھی دیتے ہیں ،ٹی وی ٹاک شو،اخبارات اورسوشل میڈیاپرعمران خان کوایک مسیحااورایماندارلیڈرکے طورپربھی پیش کررہے ہیں لیکن آپ دیکھیں گے۔

جس دن عمران خان اس ملک کے وزیراعظم نہ رہے اورتحریک انصاف اقتدارمیں نہ رہی اس دن عمران خان سے بڑاکوئی دشمن اورپی ٹی آئی سے بری کوئی پارٹی ان کے ہاں نہیں ہوگی۔ اسی عمران خان جس کویہ آج ،،مائی باپ،،مسیحااورایماندارکہتے ہوئے نہیں تھکتے یہ پھراسی عمران خان کوسیاسی نابالغ،لٹیروں کاسربراہ،چوروں کاکپتان اورنہ جانے کیا کچھ کہیں گے۔ان کے ہاں ،،مائی باپ،،ایماندار،مسیحااوربہادرصرف اورصرف وقت کاحکمران ہوتاہے۔یہ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں۔جوشخص طاقت سے فارغ اوراقتدارسے باہرہو یہ اس کوگھاس بھی نہیں ڈالتے۔ان کے لئے ایک دن اورسودن کی دوستی برابرہے۔میاں نواشریف،آصف علی زرداری، پرویزمشرف، اسفندیارولی، سراج الحق اورمولانافضل الرحمن اگر ان کے نہیں ہوئے تو وزیراعظم عمران خان پھر کس باغ اور کھیت کی مولی ہیں کہ یہ ان کے ہوجائیں گے۔؟ آپ لکھ کے رکھ لیں۔

جس دن عمران خان کی حکومت ختم ہوگئی اس دن مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی، جے یوآئی، جماعت اسلامی اور دیگرپارٹیوں اور جماعتوں سے اڑان بھرکرتحریک انصاف میں آنے والے ان ایمانداروں کااپناسیاسی ایمان بھی پھرباقی نہیں رہے گا۔ اقتدارکاسورج غروب ہونے کے بعدعمران خان پھر ان کوجگہ جگہ دیکھیں گے ، ڈھونڈیں گے لیکن ہرگھراوردرکی خاک چھاننے کے بعدبھی یہ مخلص ،وفاداراورجانثارکھلاڑی ان کوکہیں نہیں ملیں گے۔2018 کے الیکشن کے لئے پی ٹی آئی ٹکٹس کے لئے اپنے سرپھاڑنے اورخون خشک کرنے والے یہ عوامی خدمتگارپھرپی ٹی آئی ٹکٹس کوہاتھ لگانابھی پسندنہیں کریں گے۔ کپتان کے وفادار بننے والے یہی ایماندار پھراسی چورنوازشریف اور ڈاکو زرداری کے بغل میں دکھائی دیں گے۔ آج یہ عمران خان کے سرکی قسمیں کھا کر نوازشریف اورآصف زرداری کوگالیاں دے رہے ہیں لیکن کل یہی لوگ نوازشریف اور زرداری کے سر کی قسمیں کھاکر اسی عمران خان کو ہرمسئلے اوربیماری کی جڑ قرار دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کی بے وفائی،عہدشکنی اوررات گئی بات گئی والی دوستی کی کہانی یاکہانیاں پرانی بہت پرانی ہیں۔

یہ وزیراعظم عمران خان سے پہلے نوازشریف اور آصف علی زرداری جیسے سیاسی استادوں کوبھی ایک نہیں کئی بار بلکہ باربار ماموں بناچکے ہیں۔ اقتدارکے نشے میں آج توعمران خان کی آنکھیں بند ہیں لیکن جب اقتدار ہاتھ سے نکلنے کے بعدکپتان کی آنکھیں کھلیں گی توآپ یقین کریں اس وقت پھرنہ ہوگابانس اورنہ بجے گی بانسری۔ان خانہ بدوشوں کی خاطراپنے کئی وفادار اور ایماندار ساتھیوں کو دیوارسے لگانے اورملکی سیاست میں انتقام کی خطرناک آگ بھڑکانے سے وزیراعظم نے اپنااور پارٹی کاکتنا نقصان کیا۔؟ شائد کہ وزیراعظم کواب اس کااندازہ نہ ہولیکن جب اقتدارکے مزے ختم ہونے کے بعد یہ سارے موسمی پرندے اپنے اپنے گھونسلوں میں چلے جائیں گے اور کپتان کی خوشامدکرنے والا کوئی نہیں رہے گا تب خان کواحساس ہوگا کہ انہوں نے اپناکتنا بڑا نقصان کیاہے۔ اقتدارکے نشے میں مدہوش وزیراعظم کوبہرحال یہ بات یادرکھنی چاہیئے کہ ان کے آس پاس یااردگردخانہ بدوشوں کے یہ جو خیمے اورتمبونصب ہیں۔ آج نہیں توکل یہ ضرورمکینوں سمیت ہوا میں اڑیں گے اور خان ہزارکوششوں کے باوجود ،، خانہ بدوشوں،، کی اس بستی اوران میں موجودعظیم ہستیوں کوبچانہیں پائیں گے کیونکہ یہ ،،خانہ بدوش،،نہ تیرے ہیں نہ ان کے ۔یہ نہ پہلے کسی کے کہنے پر رکے ہیں نہ آئندہ رکیں گے۔ انہیں ہرحال میں جاناہوتاہے اورجانے والاکبھی رکتانہیں۔ میرے کپتان یہ وقت آج نہیں توکل آنے والاہے آپ لاکھ چاہیں بھی اس کوروک نہیں سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں