61

مسلمانوں کی ہٹ دھرمی اور سائنس سے دوری

اس وقت پوری دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی مزید ترقی اور فروغ کے لئے تمام ترقی یافتہ ممالک مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ اس ضمن میں ایک سے ایک اعلیٰ اور معیاری تحقیقاتی ادارے قائم کئے جا رہے ہیں اور یونیورسٹیز میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ خوشحال ممالک کی اکثریت توانائی کے شعبے میں خودکفیل ہونے کے بعد ترقی کے نئے امکانات کی طرف گامزن ہے۔ کوئلے اور تیل کی بجائے نیوکلیئر انرجی سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی بجائے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بنانے کی ٹیکنالوجی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ ان حالات میں مسلمان ممالک اور خاص طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان سائنسی تعلیم کے حصول اور ٹیکنالوجی میں خودکفالت کے معاملے میں کسی شمار او رقطار میں نہیں ہے۔ قدرت نے سائنسی دماغ رکھنے والے جن قابل لوگوں سے پاکستان کو نوازا ان کی اکثریت اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیرون ملک گئی اور پھر وہیں کی ہو کر رہ گئی اور ایسے لوگوں کی ذہانت سے آج بھی صرف ترقی یافتہ ممالک ہی استفادہ کر رہے ہیں اور اگر وطن کی محبت کا مارا کوئی اعلیٰ دماغ شخص یا سائنسدان پلٹ کر پاکستان آیا بھی تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ساتھ ہوا۔ ایسے بے مثال لوگوں نے اپنی مٹی کی محبت میں وہ قرض بھی اتارے جو کسی بھی طرح ان پر واجب نہیں تھے۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان سے میری پہلی ملاقات غالباً 1988ء میں ہوئی جب میں بہاول پور کے ایس ای کالج کا طالب علم تھا اور ریڈیو پاکستان بہاول پور کے لئے طلباء کا ایک پروگرام بھی کیا کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب قائد اعظم میڈیکل کالج کی کسی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ میں نے اس موقع پر ان کا ایک مختصر انٹرویو کیا جس میں انہوں نے بہاول پور کے بارے میں اپنے خوشگوار تاثرات کا اظہار کیا تھا۔ 2020ء کے آغاز میں جب کرونا کی وبا نے پھیلنا شروع کیا تو لندن میں لوگوں کی اکثریت اپنے اپنے گھروں تک محدود ہو گئی تو میں نے ڈاکٹر عبد القدیر خان سے رابطہ کیا اور پھر یہ ٹیلی فونک رابطہ واٹس ایپ پر پیغامات اور معلومات کے تبادلے کی شکل اختیار کر گیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان بہت شاندار انسان اور وضع دار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ باکمال سائنسدان تو تھے ہی جن کی وجہ سے پاکستان مسلمان دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بنا۔ اوور سیز پاکستانیوں کی اکثریت اس بات کی اہمیت اور حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ ہوتا تو عالمی طاقتیں عراق، لیبیا، شام اور افغانستان کی طرح ہمارے ملک کو بھی اپنے مذموم مقاصد اور جنگی جارحیت کا نشانہ بنا چکی ہوتیں۔ ایک روز ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے میں نے ڈاکٹر عبد القدیر خان سے استفسار کیا کہ پاکستان میں ایٹمی توانائی یعنی نیوکلیئر پاور سے بجلی تیار ہو سکتی ہے؟ تو انہوں نے بے ساختہ کہا بالکل ہو سکتی ہے لیکن مفاد پرست طبقہ یہ ہونے نہیں دے گا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے یہ الفاظ آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہیں۔

اس وقت دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور نیوکلیئر پاور رکھنے والے ممالک ایٹمی توانائی سے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں فرانس سب سے پہلے نمبر پر ہے جو اپنی ضرورت کی 72فیصد بجلی ایٹمی ذرائع سے حاصل کرتا ہے جس کے بعد سلوواکیہ، یوکرین اور ہنگری کا نمبر آتا ہے جو بالترتیب 55فیصد، 53فیصد اور 51فیصد بجلی ایٹمی توانائی سے پیدا کرتے ہیں۔ برطانیہ میں بھی 21فیصد سے زیادہ بجلی نیوکلیئر پاور سے حاصل کی جاتی ہے اور 2025ء تک یہ تناسب 25فیصد سے بھی زیادہ ہو جائے گا اور اس سلسلے میں 8نئے نیوکلیئر اسٹیشنز بنائے جا رہے ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا کے صرف 32ممالک ایٹمی قوت ہیں جن میں چین سب سے پہلے نمبر پر ہے جہاں سب سے زیادہ ایٹمی ری ایکٹرز ہیں اور ان میں مزید اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان ایٹمی سائنس کی دنیا کے بے مثال کردار تھے جنہوں نے مشکل ترین حالات اور پابندیوں کے باوجود پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر وطن عزیز کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ ان کے بعد شاید ہی کوئی ایسا سائنسدان پاکستان میں ہو جو ملک میں موجود نیوکلیئر پاور سے بجلی پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دے اور وطن عزیز توانائی کے بحران سے نکل کر خود کفالت کی منزل کی طرف رواں دواں ہو جائے۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ پاکستان میں ذہین لوگوں کی کمی ہے لیکن گذشتہ نصف صدی میں جس طرح پاکستانی قوم کو علم، سائنس اور ٹیکنالوجی سے دور کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں اب ہمارے ملک میں سائنسدانوں کی بجائے انتہا پسندوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور پورا معاشرہ علم دشمنی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔جس علم کی وجہ سے خطرناک بیماریوں کا علاج ممکن ہوا جس علم کے باعث آج ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی سے مزین موبائل فونز ہیں جس علم کے طفیل ہمارے گھروں میں ایئر کنڈیشنر، فریج، واشنگ مشین اور سڑکوں پر قیمتی گاڑیاں چل رہی ہیں، فضاؤں میں تیز رفتار طیارے اڑ رہے ہیں، سمندروں کی تہوں کی کھوج لگائی جا رہی ہے، سورج، چاند ستاروں اور سیاروں کے بارے میں نئی نئی حقیقتوں کو دریافت کیا جا رہا ہے ہم اس علم سے کوسوں دور ہو گئے ہیں۔

ہم مغربی علوم کو اپنے لئے حرام سمجھنے لگے ہیں لیکن ان علوم کے نتیجے میں جنم لینے والی جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کے لئے ہر طرح کے جتن کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں۔ ہمارے ملک کی غالب اکثریت کے لئے آج بھی علم سے مراد صرف دینی علم ہی ہے اور دینی علم بھی وہ جس کے ذریعے ایک دوسرے کے مسلک کو باطل قرار دیا جائے اور جو کوئی اسلام کے پیام امن اوررواداری کے پیغام کا پرچار کرے اسے مار دیا جائے۔ ہم جس مذہب اسلام کے پیروکار ہونے کے دعویدار ہیں اس نے غصے کو حرام قرار دیا ہے لیکن ہم مسلمانوں کو ذرا ذرا سی بات پر فوراً غصہ آ جاتا ہے اور ہم ایک دوسرے کی جان لینے پر اتر آتے ہیں۔ ہم میں قوت برداشت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اہل مغرب کو مسلمانوں کی ان کمزوریوں کا پوری طرح اندازہ ہے۔ اسی لئے عالمی طاقتیں مسلمان ملکوں پر قبضے کی بجائے وہاں ایک دوسرے کے مسلک کے خلاف برسرپیکار اپنے ایجنٹوں کی حمایت کرتی اور انہیں بھرپور مالی مدد فراہم کرتی رہتی ہیں تاکہ ان ایجنٹوں کے ذریعے انتہاپسندی کی فیکٹریاں چلتی رہیں اور مسلمان بلکہ نام نہاد مسلمان ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر مساجد اور عبادتگاہوں میں بم دھماکوں کے چکر میں پڑے رہیں۔ یہ کس قدر تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان آج بھی علم، انصاف، دیانتداری، انسانی حقوق، عورتوں کے احترام، صلہ رحمی اور رواداری کو صرف اپنی میراث سمجھتے ہیں لیکن غیر مسلم ممالک نے ان تمام خصوصیات کو اپنی معاشرتی زندگی کا لازمی حصہ بنا رکھا ہے۔ کہنے کو تو مسلمان اپنے لئے صفائی کو بھی نصف ایمان قرار دیتے ہیں لیکن کافر ملکوں میں یہ صفائی مبالغے کی حد تک مثالی نظر آتی ہے۔ ہمارے قول و عمل کا تضاد ہمیں اس نہج تک لے آیا ہے کہ اگر ہم اپنے گریبان میں جھانک لیں تو شاعر مشرق کا یہ شعر بے ساختہ ذہن میں آئے گا۔


یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟


موجودہ دور میں جس قوم اور ملک کی ترجیحات میں علم اور ٹیکنالوجی کا حصول پہلی ترجیح ہے وہ ترقی اور خوشحالی کی نئی نئی منزلیں تلاش کر رہے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ غیر مسلم معاشروں نے اپنے لئے تمام آسانیاں، سہولتیں اور آسائشیں اس دنیا میں ہی حاصل کر لی ہیں اور اس دنیا کو ہی اپنے لئے جنت بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف ہم ایک دوسرے کی زندگی تو جہنم بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے اور امید کرتے ہیں کہ آخرت میں صرف ہم ہی جنت کے حق دار ہوں گے۔
٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں