پت جھڑ

مشرقی لندن کے علاقے فاریسٹ گیٹ میں (جسے میں جنگل کا دروازہ کہتا ہوں) ایشیائی لوگوں کی اکثریت ہے اور اس کے گردونواح میں چار بڑے پارک، ویسٹ ہیم پارک، سنٹرل پارک، پلیشٹ پارک اور وانسٹڈ پارک ہیں۔ میرے گھر سے قریب ترین ویسٹ ہیم پارک ہے جس کی وسعت اور کشادگی میرے آبائی شہر بہاول پور کے تاریخی ڈرنگ اسٹیڈیم جتنی ہے۔ اس پارک میں دو فٹبال گراؤنڈ، دو کرکٹ نیٹ، چار لان ٹینس کورٹ، روزگارڈن، بچوں کے جھولوں اور رائیڈز پر مشتمل پلے ایریا، جاگنگ ٹریک، ایکسرسائز سیکشن اور نایاب درختوں کے باغیچے کے علاوہ اوربہت کچھ ہے۔ اس طرح کے بڑے بڑے درجنوں پارک برطانیہ کی ہر کونسل کی حدود میں موجود ہیں۔ ان پارکوں کی نگہداشت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ موسم بہار میں ان پارکوں کی ہریالی اور دلکشی اپنے عروج پر ہوتی ہے لیکن خزاں کے موسم میں بھی ان پارکوں میں لگے ہوئے درختوں اور پودوں کی پت جھڑ کا منظر دیدنی ہوتا ہے۔ اس موسم میں فوٹو گرافی کے شوقین اپنے اپنے کیمرے لے کر خزاں کے ان مناظرکی تصویر کشی کے لئے پارکوں میں گھومتے نظر آتے ہیں۔ ان پارکوں میں اس طرح کے درخت لگانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے کہ موسم سرما کے آغاز میں ان کے پتوں کا رنگ پیلا، گلابی اور سرخ ہونا شروع ہو جائے اور جب یہ پتے جھڑنا شروع ہوتے ہیں تو درختوں کے تنے کے چاروں طرف رنگ برنگے پتوں کی چادر سی بچھ جاتی ہے۔ اسی لئے برطانیہ میں خزاں اور پت جھڑ کے موسم کابھی اپنا ہی ایک الگ حسن ہے جو بہت ہی جاذب نظر ہوتا ہے۔ پارکوں کے علاوہ رہائشی علاقوں میں بھی سڑک کے کنارے لگے ہوئے درختوں کی پت جھڑ سے فٹ پاتھ سرخ اور پیلے پتوں سے اٹ جاتے ہیں۔اسی طرح گھروں کے عقب میں بنے باغیچے کے درختوں کو خزاں کا موسم جب اپنی لپیٹ میں لیتا ہے تو بیک گارڈن پتوں سے بھر جاتے ہیں اور بے ساختہ یہ شعر یاد آتا ہے

؎کل تھی جس پیڑکی ہریالی میرے گھر کی بہار
آج اس پیڑ کے پتوں سے بھرا ہے آنگن

میں جب ان زرد پتوں کو درختوں سے گرتے دیکھتا ہوں تو مجھے کتاب الٰہی کی سورہ الانعام کی آیت نمبر 59کا وہ حصہ یاد آتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ”اورجو پتا (زمین پر)گرتا ہے وہ (اللہ) اس سے باخبر ہے“۔ اسی لئے ہمیں بار بار غوروفکر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور قدرت کے ہر کرشمے کی نشانیاں صرف غور کرنے والوں کے لئے ہیں جو خدا ہمارے حال سے باخبر ہے اور ہماری شہہ رگ سے زیادہ قریب ہے اور جو درختوں سے جھڑنے والے ہر پتے کا علم رکھتا ہے ہم اس سے کس طرح اپنی نیتوں کا حال چھپا سکتے ہیں۔ ہم اپنے مکر و فریب، چالاکیوں اور عیاریوں سے دوسرے انسانوں کو دھوکہ تو دے سکتے ہیں لیکن ربّ ذوالجلال سے اپنے دل اور نیت کا حال پوشیدہ نہیں رکھ سکتے۔ اگر ہم بحیثیت فرد اور من حیث القوم اپنی اپنی نیتوں اور اعمال کا جائزہ لیں تو ہمیں بڑی آسانی سے اس حقیقت کا ادراک ہونے لگے گا کہ عصر حاضر میں پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک میں رہنے والوں کی زندگی اللہ رب العزت کی برکتوں سے کیوں محروم ہوتی جا رہی ہے۔ کافر ملکوں میں خزاں اور پت جھڑ کا موسم بھی رنگ اور رعنائی لے کر آتا ہے جبکہ مسلمان ملکوں میں بہار کا موسم بھی خوشیوں کے پھول نہیں کھلاتا۔ مغرب میں لوگوں کی اکثریت فطرت اور قدرت کے مظاہر کی قدر اور حفاظت کرتی ہے جبکہ مشرق میں بناوٹ اور ملاوٹ کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ قدرت نے غیر مسلموں کو جو سمندر، ساحل، دریا، جنگل، پہاڑ، آبشاریں، جھیلیں، چشمے، چرا گاہیں، وادیاں، پرندے، جانور، آبی حیات، صحرا، پھل، پھول اور موسم عطا کئے ہیں وہ ان کے تحفظ کے لئے نہ صرف جستجو میں لگے رہتے ہیں بلکہ قدرت کی ان نعمتوں کی دلکشی میں اضافے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔


اس کائنات کی بقاء اور ارتقاء کے لئے قدرت کی نعمتوں اور فطری وسائل کی نگہداشت ناگزیر ہے۔ جس مذہب میں درخت لگانے اور کنواں کھدوانے کو صدقہ جاریہ قرار دیا گیا ہو اس کے پیروکاروں کو ضرور سوچنا چاہئے کہ ہمارے ملک میں جنگلات اور میٹھے پانی کی قلّت میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے؟ پت جھڑ کے موسم میں برطانیہ اور دیگر ملکوں میں درختوں سے جدا ہونے والے پتوں کو پلاسٹک کے بیگوں میں اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر ان سے کھاد تیار کی جاتی ہے جو نئے پودے اور پنیری لگانے میں استعمال ہوتی ہے۔ کونسل کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اپنے گھر میں لگے ہوئے درخت کو بھی نہیں کاٹ سکتا اور اگر کوئی درخت ایک خاص عمر سے زیادہ یا نایاب نسل کا ہو تو اس کے کاٹنے پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اگر کسی درخت کو کاٹنے کی اجازت دی جاتی ہے تو پہلے اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ اس پر کسی پرندے کا گھونسلہ یا کسی گلہری کا مسکن تو نہیں ہے۔ برطانیہ میں خوبصورت اور چہچہانے والے پرندوں کی بہتات اسی لئے ہے کہ یہاں درخت کاٹے نہیں لگائے جاتے ہیں بلکہ ایسے درخت اور پودے بھی لگائے جاتے ہیں جن سے پرندوں کو خوراک بھی میسر آ سکے۔ جو لوگ قدرت کی دیگر مخلوقات کا اتنا دھیان رکھتے ہوں تو فطرت ان کا خیال کیوں نہیں رکھے گی۔ موسموں کی تبدیلی غور کرنے والوں کے لئے فکر کے بہت سے دروازے کھولتی ہے۔ پت جھڑ کے دنوں میں مجھے ملتان کے شاندار شاعر حسین سحر(مرحوم) کا یہ شعر یاد آتا ہے۔

؎ میں لہلہاتی شاخ کو سمجھا تھا زندگی
پتا گرا تو درس فنا دے گیا مجھے

خزاں اور پت جھڑ کا موسم یہ سندیسہ بھی لے کر آتا ہے کہ اس زرد موسم کے بعد بہار کے دن بھی آئیں گے۔ پیڑوں سے گرنے والے پتے خوابیدہ کونپلوں کو جگا کر شاخوں سے جدا ہوتے ہیں۔ وہی درخت اور پیڑ جو اپنے زرد پتوں سے جدائی کا دکھ سہتے ہیں آنے والے موسم میں پھر سے سرسبز ہو جاتے ہیں۔


؎ ان ہی پیڑوں میں نئی کونپلیں خوابیدہ ہیں
زرد پتوں کو جو شاخوں سے گرائے ہوئے ہیں

یہی قانون قدرت ہے۔ ہر خزاں کے بعد بہار ضرور آتی ہے۔ درخت جو اپنا پیرہن بدلتے ہیں تو ہمیں اچھے موسم کے آنے کا پیغام ملتا ہے۔ صرف درختوں پر ہی نہیں بلکہ انسانوں اور معاشروں پر بھی خزاں اور بہار کے موسم آتے ہیں۔ اللہ کرے کہ پاکستانی معاشرے پر خزاں کا جو موسم ایک طویل مدت سے طاری ہے وہ کسی بہار کا پیش خیمہ ثابت ہو۔
٭٭٭٭٭٭