ایمانداروں سے توبہ

سگریٹ کاایک تازہ کش لگاتے ہوئے وہ انتہائی غمناک اوردردناک لہجے و اندازمیں بولے۔ جوزوی صاحب۔ بات یہ نہیں کہ اس ظالم کی حکمرانی اور نگرانی میں ہم اور ہمارے بچے اس طرح بھوک سے بلک بلک کر زندہ لاشیں بن جائیں گے مسئلہ یہ ہے کہ اب لوگ آئندہ کبھی حقیقی ایماندار پر بھی نہ کوئی اعتماد، اعتبار اور یقین کریں گے اور نہ ہی انہیں کوئی ووٹ دیں گے۔ ان ظالموں نے یہ سب کچھ کرنا تھا تو کم ازکم ایمانداری کا لبادہ تو نہ اوڑھتے۔ آپ سچ بتائیں پچھلے ڈھائی تین سال سے وزیراعظم عمران خان کی نگرانی اورحکمرانی میں اس ملک کے اندرجو کچھ ہو رہاہے کیا ریاست مدینہ میں ایسا ہی ہوتا تھا۔؟میں تو نہ کوئی عالم ہوں نہ کوئی قاری، نہ کوئی ٹیچر، نہ کوئی پروفیسراور نہ ہی کوئی مفتی۔ جاہل باالکل ایک کٹرجاہل قسم کابندہ ہوں لیکن علماء، مفتیان کرام اوراہل علم حضرات سے تو میں نے ایک نہیں کئی بار یہ سنا کہ ریاست مدینہ میں امیر اورغریب کیا۔؟ حکمران اور مزدور بھی برابر ہوتے۔ وہاں کوئی وقت کاحکمران اورخلیفہ ہوکربھی کبھی تین سوکنال اراضی پر بنے محلات میں زندگی نہیں گزارتا تھا بلکہ کیاعوام اورکیاحکمران۔؟ سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے تھے۔ وہاں تومیراجیسا ایک عام اور جاہل سابندہ بھی وقت کے حکمران کا گریبان پکڑ کر ان سے پوچھتا کہ امیرالمومنین آپ نے یہ جوچادر اوڑھ رکھی ہے بتا یہ کہاں سے آئی۔؟ جوکپڑے پہنے ہیں یہ کہاں سے آئے ہیں۔؟ جوروکھی سوکھی اورخشک روٹی آپ کھارہے ہیں یہ کہاں سے آئی یاکس نے لائی ۔؟

یہاں توپچھلے ڈھائی تین سال سے چادر، گھڑیاں، روٹیاں اور بوٹیاں آنے کے علاوہ آٹا، چینی، ادویات، کرونافنڈ، پٹرول، بجلی وگیس کے نام پرقومی خزانے اورغریبوں کی جیبوں سے بہت کچھ گیابھی۔ لیکن اس کا کسی کو کوئی اتہ ہے اورنہ ہی کوئی پتہ۔ ایمانداری سے بتائیں کپتان کی حکمرانی میں آٹا، چینی، ادویات، بجلی وگیس کے نام پر ڈھائی تین سال سے جوکچھ ہوا یا اب جوکچھ ہو رہاہے کیا ریاست مدینہ میں ایک دن اورایک گھنٹہ کیا۔؟ کسی ایک سیکنڈاورکسی ایک لمحے کے لئے بھی کبھی ایساہوا۔؟ پھرایماندارکیاایسے ہوتے ہیں۔؟ میں نے تو سنا تھا کہ بندہ ایماندار ہو تو اس کے سامنے چور، ڈاکو، لوٹے اورلٹیرے کیا۔؟ جنگل کے خونخوار چرندوپرند بھی دم وپرنہیں ہلاسکتے۔ پھریہ کیسے ایماندارہیں کہ جب سے اس ملک میں ان کی حکومت آئی ہے کبھی ملک سے آٹاغائب ہوجاتاہے،کبھی چینی، کبھی دوائیاں، کبھی بجلی ، کبھی گیس اورکبھی پٹرول۔ یہ اگرواقعی ایماندارہیں تو پھر ملک میں بے ایمانوں کا یہ راج کیوں ہے۔؟ جوزوی صاحب مجھے شک ساہورہاہے کہ کہیں ہمارے یہ کپتان بھی وہ دوسرے قسم کے ایماندارنہ ہوں۔میں نے حیرت سے پوچھا۔کیاایمانداری میں بھی قسمیں ہیں۔؟ وہ کہنے لگے قسموں کوچھوڑیں جی میں آپ کواپنے اس کپتان جیسے ایک ایماندار کا واقعہ سناتا ہوں۔کہتے ہیں ایک گائوں اورعلاقے میں پانچ دوست رہتے تھے،ان پانچ دوستوں نے اپناایک گروپ بنایاہواتھا۔گروپ میں شامل چاردوست راتوں کولوگوں کے گھروں میں ڈاکے ڈالتے تھے اورچوریاں کرتے تھے۔پانچواں اس گروپ کاکپتان یاسربراہ تھا۔اسے لوگ بڑاایماندارکہتے تھے۔وہ نہ لوگوں کے گھروں میں ڈاکے ڈالتاتھااورنہ ہی چوری کی کسی واردات میں شریک ہوتاتھا۔وہ صرف سامان کی تقسیم اورگروپ کے اتحادواتفاق کوقائم رکھتاتھا۔جب بھی یہ چارساتھی اوردوست کسی گھراوردکان میں ڈاکہ ڈالنے یاچوری کی واردات کرنے کے بعد واپس آتے تویہ ایماندارسب سے پہلے اپناحصہ الگ کرکے باقی سامان کوان چاروں میں برابر تقسیم کردیتاتھا۔

جوزوی صاحب ۔وزیراعظم عمران خان کومیں چور،ڈاکویابے ایمان نہیں سمجھتا۔تحریک انصاف کے کارکنوں اورکھلاڑیوں کی طرح عمران خان مجھے بھی فرشتہ نظرآتے ہیں لیکن پچھلے ڈھائی تین سال سے ملک میں آٹا، چینی، ادویات، کرونافنڈ، پٹرول، بجلی وگیس کے نام پریہ لوٹ ماردیکھ کرنہ جانے مجھے کیوں اب اپنایہ کپتان ان چارساتھیوں کے کپتان جیسادکھائی دینے لگتاہے۔اس ملک کی گلی اورمحلوں میں سبزی ودودھ فروشوں سے لیکرآٹاوچینی چوروں تک ہرجگہ،ہرچوک اورچوراہے پر جب میں عوام کاخون چوستے اورنچوڑتے ہوئے دیکھتا ہوں توسوچتا ہوں کہ کہیں ہمارا یہ صاحب واقعی اس ایماندار جیسا نہ ہو۔ میں مانتا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان نہ چور ہے اور نہ ڈاکو لیکن اس حقیقت سے بھی توکوئی انکارنہیں کرسکتاکہ اسی عمران خان کی نگرانی اورحکمرانی میں ڈھائی تین سال سے اس ملک کے اندرجوکچھ ہوا یا اب ہو رہا ہے اس طرح ایک ایماندار کپتان اورحکمران کی نگرانی میں ہوناکم ازکم ممکن نہیں۔ پھر ہمارے یہ صاحب تو خودبھی جب ڈی چوک میں کھڑے ہوکرنئے پاکستان کی بنیادرکھتے تھے تویہ ارشاد فرمانا کبھی نہ بھولتے کہ اوپر والابندہ ٹھیک ہو تو نیچے والے پھرسارے خودبخود ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ آج اگر یہ خودٹھیک ہیں تو پھر ڈھائی تین سال سے یہ نیچے والے ٹھیک کیوں نہیں ہوتے۔؟ وہ خاموش ہوئے تو میں سوچوں کے سمندرمیں غوطے لگائے بغیرنہیں رہ سکا۔ وزیراعظم عمران خان سے لوگوں نے واقعی بہت سی امیدیں اورتوقعات وابستہ کی تھیں۔ لوگ اگرعمران خان کے نام پرنکلتے تھے تووہ صرف اس لئے کہ لوگوں کومدہم سی روشنی میں چراغ کی جھلک دکھائی دے رہی تھی لیکن افسوس عمران خان نے اس کوبھی بجھادیاہے۔ میرانہیں یقین کہ کپتان کے ہاتھ سے مارکھانے کے بعداب آئندہ کوئی کسی کپتان پرکوئی یقین اوراعتبارکرے گا۔ لوگوں کاپاکستان کی سیاست اورسیاستدانوں سے اعتماد،یقین اوراعتبارتوپہلے ہی اٹھ چکاتھالیکن اگریہ کہاجائے کہ وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں اب اس کاجنازہ نکل چکاہے توبے جانہ ہوگا۔ کپتان نے لوگوں کوریاست مدینہ ،روشن مستقبل اورنئے پاکستان کے جس طرح سپنے اورخواب دکھاکرپرانے پاکستان میں ہی ان کوپائی پائی کامحتاج بنایا اور مہنگائی،غربت وبیروزگاری کے ہاتھوں ذلیل کرایا۔ اس تجربے کے بعد اب نہیں لگ رہاکہ کوئی بھی باشعورشخص آئندہ عمران خان جیسے کسی ایماندارپرکوئی یقین یابھروسہ کرنے پرآمادہ ہو۔ گیس وبجلی کے بھاری بل اورآسمان کوچھونے والی مہنگائی کودیکھ کرتولوگ ابھی سے توبہ توبہ کرکے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس ایماندارسے تووہ پرانے والے چور اور ڈاکو ہزارنہیں لاکھ درجے بہتر تھے ۔وہ چوریاں کرتے تھے یا ڈاکے ڈالتے تھے لیکن کم ازکم ہماراخون تونہیں نچوڑتے تھے۔ اس ایماندارنے تو تین سال میں عوام کاخون چوسنے اورنچوڑنے کے سوااورکام ہی کوئی نہیں کیا۔ بات اورمعاملہ چاہے کچھ بھی ہو۔ اس ایماندارنے تین سالوں میں اس کا نزلہ ہمیشہ عوام پر ہی گرایا ہے۔سوچنے کی بات ہے عوام آخرکب تک مافیاکے سیاہ کارناموں اورکرتوتوں کابوجھ اٹھائیں گے۔؟ کپتان اگرواقعی ایماندار،مخلص اورعوام کے ہمدردہیں تواسے مہنگائی کوبڑھاوا دیکر روز غریبوں کاخون نچوڑنے اور ہڈیاں چوسنے کی بجائے مافیاکے بڑے بڑے مگرمچھوں کے پیٹ پھاڑنے چاہئیں۔ کپتان نے مافیا کو نشان عبرت بنانے کے بجائے عوام کو ہی اگرقربانی کا بکرابنانے کی یہ روش اسی طرح جاری رکھی تو آئندہ پھر لوگ کپتان کے ساتھ پھرایماندار کے نام سے بھی دور بھاگیں گے۔