صحت کارڈ اور سیاست

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی قومی سیاست منتشر ہو کر حلقوں کی سیاست میں ضم ہو چکی ہے ہرحلقے کی اپنی نفسیات ہے جو فارمولا ایک حلقہ میں کارگر ثابت ہوتا ہے وہ دوسرے حلقے میں فیل ہو جاتاہے اور یہ بھی حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں قومی سے علاقائی حیثیت اختیار کر چکی ہیں اور بات اس سے بھی آگے بڑھ کر اضلاع تحصیلوں بلکہ یونین کونسلوں تک آگئی ہے ایک حلقے میں اگر ایک سیاسی جماعت دوسری جماعت کو سپورٹ کر رہی ہے تو دوسرے حلقے میں وہی سیاسی جماعت اس کی مخالفت کرتی دکھائی دیتی ہے ایک گروپ ایک یونین کونسل میں ایک شخص کا حمائیتی ہے تو دوسری یونین کونسل میں اسی گروپ کے لوگ کسی اور کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں سیاست میں نئی طرح نے انتخابات کو بہت مشکل بنادیا ہے آج کے انتخابی فارمولے بدل گئے ہیں پیسہ انتخابی سیاست پر غالب آ چکا ہے اور اب براہ راست ووٹ خریدنے کا رواج زور پکڑ رہا ہے جس نے انتخابی عمل کو ننگا کر دیا ہے سیاسی جماعتوں کو اس بارے سوچنا ہوگا کیونکہ معاملات ان کی دسترس سے نکل رہے ہیں خانیوال اور لاہور کے ضمنی الیکشن میں براہ راست خریداری کا جو نیا ٹرینڈ سامنے آیا ہے یہ سیاست کی رہی سہی ساکھ بھی تباہ کر دے گا خانیوال کے انتخاب نے ثابت کر دیا ہے کہ میلہ تحریک انصاف کے بغیر نہیں سج سکتا لاہور اور خانیوال کے الیکشن میں ووٹ کاسٹ کرنے کا تناسب بتا رہا ہے کہ یہ رونقیں اور مقابلہ کی فضاء تحریک انصاف کی بدولت ہے خانیوال کے الیکشن میں تحریک انصاف ہار گئی یہ فارمولا بھی پٹ گیا کہ لوگ مرنے والے کے قریبی عزیز کو ہمدردی کے ووٹ دیتے ہیں خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومتی جماعتیں ماضی میں جس طرح ضمنی انتخابات پر اثرانداز ہوتی تھیں وہ رواج دم توڑ گیا تحریک انصاف بے شک ضمنی الیکشن ہار رہی ہے لیکن اس سے حکومت کی غیر جانبداری واضح ہو رہی ہےمسلم لیگ ن نے جیسے بھی یہ الیکشن جیتا اس کے ورکروں کو اس سے بڑا حوصلہ ملا ہے ساتھ ہی ساتھ پیپلزپارٹی کی پرفارمنس بھی بڑھ رہی ہے۔

لاہور میں تحریک انصاف کے الیکشن سے باہر ہونے اور تحریک لبیک کے الیکشن نہ لڑنے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو ووٹ پڑنے کی بات کی جا رہی تھی لیکن خانیوال میں تمام فریقوں کی موجودگی میں پیپلز پارٹی کا پہلے سے کئی گنا زیادہ ووٹ حاصل کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں جان پڑ رہی ہے حکومت اگر بلدیاتی انتخابات میں جاتی ہے تو پنجاب میں پتہ چل جائے گا کہ پیپلز پارٹی اور تحریک لبیک کس کس کو کیسے ڈینٹ ڈالتی ہے بلدیاتی انتخابات کا ماحول اور طرح کا ہوتا ہے لیکن جنرل الیکشن میں کون کس کے ووٹوں پر اثرانداز ہوتا ہے بڑا اہم ہوتا ہے کبھی یہ کردار جماعت اسلامی کا ہوتا تھا ہر حلقے میں ان کا پانچ سے پندرہ ہزار ووٹ تھا اور وہ ووٹ کسی کی ہار اور کسی کی جیت میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہوتا تھا اب یہ کردار کہیں اور ٹرانسفر ہو رہا ہے بات سیاست کی ہو رہی تھی تحریک انصاف کی سیاست کو مہنگائی کھائی جا رہی ہے پہلے تو تحریک انصاف والے مانتے نہیں تھے اب جب عملی مظاہرہ دیکھ لیا ہے تو اس کے حل ڈھونڈے جا رہے آج کے انسان کو بنیادی طور پر چار چیزوں سے سروکار ہے ایک اس کو تحفظ کا احساس ہو دوسرا اس کو معیاری تعلیمی سہولتیں میسر ہوں اور تیسرا اس کو معیاری علاج کی سہولتیں ملیں چوتھا اس کو روزگار کے مواقع میسر ہوں حکومت نے مہنگائی کے اثرات کو فوری کم کرنے کے لیے لوگوں کو پاکستان کارڈ کے ذریعے سبسڈی دینےکا فیصلہ کیا ہے جس میں لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء 30 فیصد سستی ملیں گی اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر لوگوں کو مختلف مدوں میں قرضے دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں لیکن اس کے ساتھ ہی پنجاب کے ہر گھر کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے صحت کی معیاری سہولتیں مفت فراہم کی جا رہی ہیں ہر آدمی پرائیویٹ ہسپتال یا سرکاری ہسپتال جہاں سے چاہے علاج کروا سکتا یہ بنیادی تبدیلی والا کام ہے اگر اس منصوبے کی روح کے مطابق اس پر عمل ہو گیا تو تحریک انصاف کے لیے بڑا کارگر ثابت ہو گا پچھلے دنوں وزیراعظم عمران خان نے لاہور کے گورنر ہاؤس میں اس منصوبے کا افتتاح کیا میں بڑے عرصے کے بعد اس طرح کی کسی سرکاری تقریب میں گیا تھا میں نے صحت کارڈ کے علاوہ جو کچھ دیکھا اس میں عمران خان کا اعتماد اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کھلی حمایت شاید وزیراعظم عمران خان لاہور  عثمان بزدار کو تقویت دینے آتے ہیں ان کی تھپکی سے دو تین ماہ آرام سے نکل جاتے ہیں عمران خان کے کھلے پیغام کے بعد سازشیوں کی تمام تر کوششیں رائیگاں چلی جاتی ہیں اور وہ پھر نئے سرے سے جال بننا شروع کر دیتے ہیں اب تو زیادہ وقت گزر گیا ہے تھوڑا رہ گیا ہے انھیں یہ حقیقت مان لینی چاہیے کہ انھیں بزدار کے ساتھ ہی رہنا ہے۔