جنونیت کی انتہا

علامہ اقبال کا شہر سیالکوٹ عقل سے عاری اور اتنا جنونی ہو سکتا ہے کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا سمجھ نہیں آرہی کہ سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا کی ہلاکت کے دلدوز واقعہ کا نوحہ کس طرح لکھا جائے اس واقعہ پر ہر پاکستانی شرمندہ ہے یقین کریں کہ اقوام عالم کے سامنے ہم منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے قبل ازیں سری لنکا کی ٹیم پر قذافی سٹیڈیم میں حملہ کے اثرات سے ہم آج تک جان نہیں چھڑا سکے حالانکہ اس میں پاکستانی ڈرائیورمہر خلیل نے جس طرح جان کی بازی لگا کر ٹیم کو بچایا اس پر سری لنکن قوم اور ان کی ٹیم پاکستان کے شہری کی دل وجان سے مشکور تھی انھوں نے مہر خلیل کو سری لنکا میں بلوا کر اس کا فقید المثال استقبال کیا ہم نے سری لنکا کی ہمیشہ مدد کی ہے خصوصی طور پر ان کو دہشتگردی سے نجات دلانے کے لیے پاکستان کا بڑا کردار ہے لیکن سیالکوٹ کے واقعہ نے پاکستان کے چہرے پر کالک مل دی ہے اس کا ازالہ اتنا آسان کام نہیں ہوگا ہم پوری سری لنکن قوم سے معافی مانگتے ہیں یقینی طور پر اس کا مداوا تو نہیں کیا جا سکتا لیکن ہم اس پر پر بہت زیادہ شرمندہ ہیں اور سری لنکا کے کے مجرم ہیں سیالکوٹ میں پیش آنے والا واقعہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے حکومت کے تھنک ٹینکس مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو دانشوروں کو اور سوسائٹی کو اس پر سوچ وچار کرنے کی ضرورت ہے کہ اس بڑھتی ہوئی جنونیت کو کس طرح روکا جاسکتا ہے سوال صرف مذہبی جنونیت کا ہی نہیں اوورال معاشرہ کس طرف کو جارہا ہے ہمارے ہاں برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے۔

کچھ عرصہ قبل اسی سیالکوٹ میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس میں دو نوجوان بھائیوں کو بھپرے ہوئے مجمع نے ڈنڈوں سوٹوں سے مار مار کر قتل کر دیا انہیں کھمبے سے باندھ کر اذیت دی گئی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی لاشوں کو سڑک پر گھسیٹا گیا جس کی تشہیر پوری دنیا میں ہوئی اور پھرپوری دنیا نے ہم پر تھو تھو کیا ان نوجوانوں کا قصور آج تک معلوم نہیں ہو سکا کچھ لوگ ان پر الزام لگاتے تھے کہ ان دونوں بھائیوں نے ڈکیتی کی کچھ نے کہا ان کے کسی لڑکی کے ساتھ تعلقات تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بچارے بے گناہ مارے گئے ہم آج تک اس انسانیت سوز واقعہ کا داغ نہیں دھو پائے تھے کہ سیالکوٹ میں اس واقعہ نے ہمیں جہالیت کی گہری کھائی میں دھکیل دیا ہے اگر سیالکوٹ میں دو بھائیوں کے المناک واقعے پر پورے ہجوم کو سزا دی جاتی تو شاید یہ سانحہ پیش نہ آتا میری اب بھی حکومت سے استدعا ہے کہ وہ اس واقعہ کا جلدی ٹرائل کرکے اس میں ملوث تمام افراد کو اسی طرح اذیت دے کر مارا جائے ان کی لاشوں کو بھی جلایا جائے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور آئندہ کسی کو جرات نہ ہو کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے کر ایسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کر سکے حکومت کو اس بات کا بھی نوٹس لینا چاہیے کہ نئی نسل میں تعلیم و تحقیق اور تخلیق کی بجائے دہشت وحشت اور شدت پسندی کیوں بڑھتی جا رہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں اصلاحی تحریک شروع کی جائے لوگوں میں برداشت کا کلچر پیدا کیا جائے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے سمجھوتوں کا کلچر ختم کرکے ریاستی رٹ کو مضبوط کیا جائے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ الفاظ اپنی حرمت کھوتے جا رہے ہیں ہیں اور یہ الفاظ صرف بیان بازی تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے جس کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا انصاف برائے نام ہے انصاف میں تاخیر انصاف کی اہمیت کھو دیتی ہے کم از کم ایسے واقعات جن کا معاشرے پر براہ راست اثر ہوتا ہے اس میں فوری انصاف ہونا چاہیے تاکہ لوگ اس سے عبرت پکڑیں۔

سیالکوٹ کے واقعہ کا کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ تمام لوگ عقل سے عاری تھے جنونیت اور حیوانیت ان کے ذہنوں پر سوار تھی ان کو کوئی سمجھانے والا نہیں تھا بلکہ انہوں نے جنونیت کو ہوا دے کر لوگوں کو اکٹھا کیا اور قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے از خود فیصلہ کرنے چل پڑے وحشی ہجوم کو کیا معلوم کہ ان کے اس اقدام کی سزا پورا پاکستان بھگتے گا میں سمجھتا ہوں کہ اس میں فیکٹری انتظامیہ بھی پوری قصور وار ہے جنھوں نے معاملے کی حساسیت کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے روٹین کا معاملہ سمجھ کر نمٹنے کی کوشش کی انہیں فوری طور پر پولیس کو طلب کرنا چاہیے تھا پریانتھاکو تحفظ دینے کے لیے لوگوں سے ڈائیلاگ کرنے چاہیں تھے انتہائی بدقسمتی ہے کہ پولیس اور انتظامیہ اس وقت پہنچی جب معاملات کنٹرول سے باہر ہو چکےتھے مشتعل ہجوم بے قابو ہو چکا تھا ہجوم نے پولیس اور ریسکیو کو آگے نہ جانے دیا یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پولیس پچھلے دنوں ایک مذہبی تنظیم کے مظاہرین کے ہاتھوں اپنے ساتھیوں کی شہادت کے بعد ڈی مورلائز ہوچکی ہے وہ اب کسی مذہبی معاملہ میں کوئی بڑا فیصلہ لینے میں گو مگو کا شکار ہیں لیکن سوالیہ نشان یہ بھی ہے کہ سپیشل برانچ اور انٹیلی جنس بیورو والے کیا سوئے ہوئے تھے انہوں نے اس بارے میں اعلی حکام کو کیوں نہ بتایا اور پھر یہ بھی المیہ ہے کہ ہماری انتظامیہ اور پولیس کی یہ نفسیات بن چکی ہے کہ یہ واقعہ کا علم ہونے کے باوجود موقع پر جانے کی بجائے وقوعہ کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں اور ہمیشہ واقعہ کے بعد موقعہ پر جاتے ہیں کاش انتظامیہ معاملات کو کنٹرول سے باہر ہونے سے پہلے فوج اور رینجرز کو طلب کر لیتی ریاست اس واقعہ کو ٹیسٹ کیس بنائے اس میں جن لوگوں کی نااہلی ہے ان کو بھی سزا ملنی چاہیے کیونکہ ان کی نااہلی کی وجہ سے ریاست کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔