بلدیاتی انتخابات یا تبدیلی کاجنازہ

وہی ہوا جس کا ڈر نہیں بلکہ پکااورٹکایقین تھا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان کے لئے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں یہ سرپرائز شائد کہ نیا ہو یا پھر انہیں تبدیلی میں یہ اچانک تبدیلی تبدیلی کچھ عجیب لگے لیکن اس ملک میں برسوں سے سیاست سیاست کرنے اورکھیلنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہاں کندھوں پرجھومنے اورجھولنے کے ساتھ بسا نہیں بلکہ اکثر اوقات اسی طرح پھر لاتوں کاذائقہ بھی چکھناپڑتاہے۔ ہم پہلے ہی کہتے رہے کہ یہاں کے لوگ جتنے اچھے اورمہربان ہیں اس سے کہیں زیادہ یہ ظالم اورخطرناک بھی ہیں۔ ہم نے بارہا لکھا اور کہا کہ ان سے پنگانہ لیا جائے مگر کپتان اوراس کے نادان کھلاڑی تین سال تک ان سے پنگوں پرپنگے لیتے رہے۔صبر اور برداشت کی بھی آخر کوئی حدہوتی ہے۔ امیدویقین ہے کہ مہنگائی، غربت اوربیروزگاری کوتاریخی تبدیلی کے طور پر پیش کرنے والوں کواب لگ پتہ گیاہوگا آسان الفاظ میں آرام آیاہوگا۔ ہوم گرائونڈ پر شکست اورگھر کی دہلیز پر اس طرح برسربازار ناکامی یہ کوئی معمولی اورچھوٹی بات نہیں۔ خیبرپختونخواکے بلدیاتی انتخابات پرکپتان کے وزیراورمشیرچاہیں کچھ بھی کہیں لیکن یہ حقیقت اب پوری دنیا پر اشکارہ ہوچکی ہے کہ خیبرپختونخوا کے غریب عوام نے نام نہاد تبدیلی کابیج چوراہے پر بھانڈا پھوڑ دیاہے۔ ہم مانتے ہیں کہ کسی ایک صوبے یاضلع میں ہارجیت سے مرکزی سیاست یاحکومت پرکوئی خاص فرق اور اثرنہیں پڑتا لیکن خیبرپختونخوامیں حکمران جماعت کواس طرح ہاتھوں ہاتھ بڑا سرپرائز یہ نہ صرف مرکزی سیاست اورحکومت کے لئے خطرے کی ایک گھنٹی ہے بلکہ یہ تبدیلی کے لئے بھی بڑاایک بہت بڑا دھچکاہے۔ اگردیکھاجائے توتحریک انصاف کی تبدیلی نے اسی خیبرپختونخواکی کوکھ سے جنم لیاتھا۔ یہی وہ صوبہ تو ہے جہاں کے عوام نے سب سے پہلے کپتان کی آوازپرلبیک کہتے ہوئے تبدیلی کوگلے اورسینے سے لگایاتھا۔

اسی برکت سے پی ٹی آئی کاسونامی پھرخیبرسے مکران اور واہگہ بارڈرتاگلگت پورے ملک میں پھیل گیاتھا۔آج جب خیبرپختونخوا،پنجاب اوربلوچستان کے ساتھ مرکز میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہے ایسے میں اس صوبے جہاں سے سونامی نے سراٹھایاتھامیں تحریک انصاف کی اس طرح شکست یہ اسی تبدیلی پرعدم اعتماد نہیں تواورکیاہے۔؟ ماناکہ خیبرپختونخواکے عوام نے کپتان کی آوازپرلبیک کہتے ہوئے تبدیلی کوگلے سے لگایاتھالیکن اب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خیبرپختونخواکے انہی عوام نے تبدیلی کے اسی اژدھے کو اب سروں سے اتارپھینکنے کا آغازبھی کردیاہے۔ کپتان اوراس کے نادان کھلاڑی توکہیں یہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے اپنی تاریخی تبدیلی سے پوراملک فتح کردیاہے لیکن ان کویہ نہیں پتہ تھاکہ تین سال سے ملک میں جاری بدترین مہنگائی،غربت اوربیروزگاری نے عوام کوتبدیلی سے دور کتنا دور کردیا ہے۔ عوام کو،،گھبرانانہیں،،کادرس دینے اورسبق پڑھانے والوں نے خود ملک میں تاریخی مہنگائی، غربت، بیروزگاری، بے انصافی اورلاقانونیت سے عوام کو اس قدرگھبرایاکہ اب لوگ تبدیلی کے نام سے بھی کترانے لگے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے بطورحکمران اپنی نااہلی اورلاپرواہی کے ذریعے عوام پرزمین تنگ کرکے ان کی زندگی تک اجیرن بنائی۔ اللہ گواہ ہے کہ کپتان کی اس تین سالہ دورمیں عوام پرایک ایک دن اورایک ایک لمحہ کسی قیامت سے کم نہیں گزرالیکن عوام پھربھی نہیں گھبرائے۔جو کپتان کل تک عوام کو ،،گھبرانانہیں،، کاسبق پڑھاتے رہے اب لگتاہے کہ بلدیاتی انتخابات میں نئی تاریخ رقم ہونے کے بعدکپتان خودگھبراناشروع کردیں گے۔

ویسے یہ حالات دیکھ کرکپتان کاگھبرانابنتابھی ہے۔کیونکہ اقتدارکی رنگینیاں،آرائش وزیبائش اورحکومتی طاقت ساتھ وپاس ہوتوہرانسان وحکمران نہ گھبرانے کادرس دیتارہتاہے لیکن جب پانی میں چھری نظرآناشروع ہو توپھرپرویزمشرف جیساطاقتورحکمران بھی گھبراناکیا۔؟ بھاگنا شروع کردیتاہے۔بلدیاتی انتخابات میں ہوم گرائونڈاور وزیروں و مشیروں کے گھروں کی دہلیزپرشکست یہ ابتداء ہے۔ ایسے ہی موقع پرتوشاعرنے کہاتھاکہ ،،ابتدائے عشق ہے روتاہے کیا۔۔آگے آگے دیکھئے کہ ہوتاہے کیا۔ یہ تو ابتداء ہے اب آگے آگے دیکھئے کہ کپتان اورکپتان کے ان کھلاڑیوں کے ساتھ اورکیا کیاہوتاہے۔مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے باوجودتبدیلی کے نام پرجس جس نے بھی غریب،مجبوراورلاچارعوام کوعالیشان گھروں، نوکریوں،دودھ اورشہدوالی نہروں کے سپنے اورخواب دکھائے ان سب کواب ایک ایک سپنے اورجھوٹے خواب کاحساب تودیناہوگا۔ عوام جس طرح ووٹ اورسپورٹ دیناجانتے ہیں یہ اسی طرح حساب لینے کے تمام طریقوں سے بھی خوب واقف ہیں۔کل تک جوبادشاہ سلامت کوسب اچھاہے کی رپورٹ دے رہے تھے اب وہی عقلمندبادشاہ سلامت کوذرہ یہ رپورٹ بھی تو دے دیں کہ بادشاہ سلامت مہنگائی، غربت، بیروزگاری،نااہلی، لاپرواہی اور ناکامی کی کوکھ سے جنم لینے والاعوامی نفرتوں کاسیلاب اب دروازے تک پہنچ آیاہے۔عوام نے تین سال تک چیخ وپکارکی ،آہ وفریادکی،آہیں اور سسکیاں بھریں لیکن اس کاکسی پرکوئی اثرنہیں ہوا۔

بلدیاتی انتخابات میں طاقت،قوت اورحکومت کے باوجودناکامی یہ سرکارکے دروازے پراب آخری دستک ہے۔اب بھی اگرکپتان اورکپتان کے کھلاڑیوں نے آنکھیں نہیں کھولیں۔اب بھی اگرسب اچھاہے کی رٹ اوررپورٹس جاری رہیں۔اب بھی اگرلمبی لمبی زبانوں سے انقلاب،خوشحالی،روزگار، انصاف اور اقتدار میں عوام کے پھول برستے رہے توپھرآپ یقین کریں عام انتخابات میں ان کوگھبرانے کاکیا۔؟بھاگنے کاموقع اورراستہ بھی پھر نہیں ملے گا۔ دوسری پارٹیوں سے چھلانگیں مارکرپی ٹی آئی ٹرین میں چڑھنے والے ان عجوبوں کوتوویسے بھی بھاگنے کی عادت ہے یہ تووقت آنے سے بھی پہلے ن لیگ،پی پی پی، جماعت اسلامی، جے یوآئی یا کسی اورپارٹی کی ٹرین پکڑکراس میں نودوگیارہ ہوجائیں گے لیکن کپتان صاحب کاکیاہوگا۔؟ وہ کپتان جو اب تک عوام کو،،گھبرانانہیں،، کاسبق پڑھارہے تھے کیاوہ اب بھی عوام کووہی پرانا سبق پڑھاتے رہیں گے۔؟ ویسے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی تاریخی چھترول سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ معاملہ اب گھبرانے سے بھی آگے بہت آگے نکل چکاہے۔ کوئی مانے یانہ۔لیکن حق اورسچ یہ ہے کہ عوام تبدیلی سے اس قدرگھبرااورخوف زدہ ہوچکے ہیں کہ اب ان کے پاس کپتان اورکپتان کے کھلاڑیوں سے دوربھاگنے کے سواکوئی چارہ نہیں۔ اسی وجہ سے توانہوں نے بلدیاتی انتخابات میں تبدیلی کاجنازہ تک نکال دیاہے۔