سیالکوٹ واقعہ کے ممکنہ نتائج

لگ بھگ دو ہفتے ہونے کو ہیں جب امریکہ نے مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزیاں کرنے والے دس ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام ڈالا تھا، تب پاکستانی دفتر خارجہ نے شدید احتجاج کیا تھا کہ بغیر ہم سے بات کیئے ایسا کیا گیا ہے لہذا ہم اس یکطرفہ فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، میں خود یہ خبر پڑھ کر ذاتی طور پر افسردہ ہوا تھا کیونکہ اس فہرست سے انڈیا کو باہر رکھا گیا تھا حالانکہ انڈیا میں پاکستان سے بھی زیادہ مذہبی آزادیاں متاثر ہورہی ہیں لیکن چونکہ انڈیا کے ساتھ امریکی مفادات زیادہ وابستہ ہیں اس لیئے شاید ایسا کیا گیا ہے لیکن اب سیالکوٹ والے واقعے کے بعد میں خود اس حق میں ہوں کہ امریکہ نے بالکل اچھا کیا جو پاکستان کو اس فہرست میں ڈالا تھا کیونکہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں لوگوں کے جتھے حکومت سے بھی زیادہ مضبوط ہیں اور حکومت وقت بشمول لاء انفورس منٹ کے ادارے سب ان طاقتور جتھوں کے سامنے بےبس ہیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب ہم سب نے دیکھا جب ہٹ دھرم اور انتہاپسند مولویوں اور بےوقوف لوگوں کے جتھے اسلام آباد کی طرف حملہ آور ہوئے تھے، انکا مقصد ناموس رسالت صلی اللہ وسلم کی حفاظت کرنا تھا مگر راستے میں گالیاں نکالنے والے انتہاپسند معذور ملاں کے بیٹے کی رہائی اور الیکشن میں چند سیٹوں پر حصہ لینے کی اجازت کے بدلے انتہاپسندوں کے یہ جتھے واپس آ گئے تھے۔ اصل میں انکا مقصد ناموس رسالت کی حفاظت نہیں تھا بلکہ اس حفاظت کے عوض کچھ فوائد حاصل کرنا تھا جو حاصل ہونے پر یہ لوگ واپس آگئے تھے لیکن اس سارے فساد میں جو لوگوں کے کاروبار متاثر ہوئے تھے تعلیم متاثر ہوئی تھی علاج معالجہ متاثر ہوا تھا جو پولیس والے بچارے اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہوئے تھے ان سب کو بھلا دیا گیا تھا، حکومت اپنے طور ہر خوش تھی کہ وہ اب اپنا باقی ماندہ عرصہ پورا کر لے گی، فوج نے اس واقعے کی آڑ میں کچھ اپنے مفادات حاصل کرلئیے تھے، ملاں اپنے مفادات حاصل کرنے پر خوش تھے جبکہ بےوقوف اور ہٹ دھرم عوام کو معلوم ہی نہیں ہوسکا تھا کہ وہ اس سارے معاملے میں استعمال ہوگئی ہے اور اسے سوائے ذلالت کے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔

اب آتے ہیں موجودہ سیالکوٹ واقعے کی طرف، جس میں ایک سری لنکن شہری پریانتھا دیاوادھنا جو راجکو کمپنی کے جنرل مینیجر تھے اور وزیراعظم کے انتخابی وعدے کے مطابق سری لنکا سے پاکستان نوکری کرنے آئے ہوئے تھے، انہیں ڈسٹ بن میں کچھ اسلامی کلمات والے کاغذات پھینکنے کے الزام میں مار مار کر نہ صرف ہلاک کردیا گیا ہے بلکہ انکی لاش کو آگ بھی لگا دی گئی ہے ایسا کرنے والے نام نہاد عاشقان رسول اور گالیاں نکالنے والے لنگڑے ملاں کے پیروکار تھے، اب اس کارخانے کے ملبوسات جو امریکہ اور یورپ میں بکتے تھے نہ صرف وہ نہیں بکیں گے بلکہ وہ تمام لوگ جنکا روزگار اس کارخانے سے وابستہ تھا وہ بھی ختم ہوجائے گا۔ اب انٹرنیٹ کا زمانہ ہے اور دنیا میں رونما ہونے والا چھوٹے سے چھوٹا واقعہ بھی لوگوں کی نظروں میں آجاتا ہے، موجودہ واقعہ بھی امریکہ یورپ کی حکومتوں اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، انٹرنیشنل کمیونٹی پاکستان کو ایک بنانا رپبلک سمجھ رہی ہے، جہاں جتھوں کی حکومت ہے اور مستقبل قریب میں پاکستان نہ صرف ایف اے ٹی ایف کی سیاہ لسٹ میں آجائے گا بلکہ اسے یورپی یونین کی طرف سے دیا گیا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی ختم کردیا جائے گا، ایسی صورت میں مہنگائی اور بیروزگاری کا نہ ختم ہونے والا ایسا طوفان آئے گا جس میں یہ بےقابو عاشقان روٹی کیلئے ایک دوسرے کو ہی قتل کرنا شروع کردیں گے🥲🥲۔