محسن کائنات کو کیا منہ دکھاؤ گے۔؟

مذہب کے نام پرسیالکوٹ میں جوکچھ ہوا۔واللہ،واللہ یہ نہ کوئی دین ہے،نہ کوئی ایمان اورنہ ہی کوئی اسلام۔ دین اسلام توسراپاامن ہے،امن سے خالی توایمان بھی نہیں۔پھراسلام میں تو دہشت، خوف، ظلم، ستم اور اس طرح کی درندگی اورحیوانیت کا تصور تک نہیں۔ اسلام کیا۔؟ ہم تو سمجھتے ہیں کہ دنیا کا کوئی اور مذہب بھی اس طرح کی کسی قبیح، فعل، حرکت، ظلم اور درندگی کی اجازت نہیں دیتا ہوگا۔آپ یقین کریں مذہب اور اسلام کے نام پر اس ملک میں شیطانوں، حیوانوں اور بلوائیوں کے ہاتھوں اس طرح کے جوواقعات رونماہورہے ہیں ان کا دین اسلام کے ساتھ ذرہ بھی کوئی تعلق نہیں۔ اللہ کے پیارے حبیب اور نبی آخرالزمان حضرت محمدﷺکی عزت وحرمت پرایک نہیں لاکھوں، کروڑوں اور اربوں وکھربوں جانیں قربان کرنا ہم بھی سعادت سمجھتے ہیں۔ حضورنبی کریم ﷺکی عزت وناموس سے آگے ہمارے لئے بھی کچھ نہیں۔ گستاخان رسول کو زندہ درگور کرناہم بھی ثواب سمجھتے ہیں لیکن فقط ایک پوسٹریابینرکے اتارنے کوگستاخی کانام دے کراس انسان جس کے ناحق قتل کواللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کاقتل قراردیاہے کوبڑی بیدردی،سنگدلی اوربے غیرتی سے مارنا اور پھر ہجوم کے درمیان زندہ جلانا واللہ۔

یہ اللہ کے حبیب ﷺسے کوئی عشق ہے اورنہ ہی کوئی محبت ۔ کوئی مانے یانہ۔ لیکن حق اور سچ یہ ہے کہ سیالکوٹ واقعے نے ہم سب کے سرشرم سے جھکا دیئے ہیں۔ ماناکہ مذہبی پوسٹر اور بینرز کواتارنا اور پھاڑناگناہ ہوگا لیکن یہ اتنا بڑا گناہ اورجرم بھی تونہیں کہ آپ ایک پوسٹروبینر اتارنے یا پھاڑنے پر ایک انسان کوکسی چوک اورچوراہے میں آگ لگادیں ۔ایک پوسٹراوربینرکی بے حرمتی کارونارونے والوں کو کیا ایک انسان کی حرمت کابھی کوئی اندازہ ہے۔۔؟ ہم جس دین کے نام لیواہیں کیااس دین میں ایک انسان کواس طرح آگ لگانے اورجلانے کی کوئی اجازت ہے۔؟ غیرمسلموں کوتومذہبی لٹریچر،بینراورپوسٹرز کی حرمت وبے حرمتی کا کوئی اتہ ہے اورنہ کوئی پتہ۔ان کوکیامعلوم کہ کسی مذہبی پوسٹراوربینرپر کیالکھاہے اورکیانہیں۔لیکن مذہب کے نام پریہ حرمت وبے حرمتی کاجوچورن ہم بیچتے ہیں کیا ہم نے ان بے حرمتیوں پراپنے آپ کوآگ لگانے یازندہ جلانے کے بارے میں بھی کبھی سوچاہے۔؟ دیوارسے ایک پوسٹراوربینراتارنے سے اگر شعائراسلام کی توہین یادین کی بے حرمتی ہوتی ہے توکیا۔؟چہرے سے نبی ﷺکی مبارک سنت (داڑھی) کواپنے ہاتھوں سے کاٹنے ،گندے نالوں اورواش رومزمیں پھینکنے سے کیادین اسلام کی بے حرمتی اور شعائر اسلام کی توہین نہیں ہوتی۔؟ ایک پوسٹراوربینراتارنے کی آڑمیں ایک غیرمسلم کوزندہ جلانے اورآگ لگانے والے اگرسری لنکن منیجرکوآگ لگانے اورزندہ جلانے سے پہلے صرف ایک باربھی عشق رسول کوسامنے رکھ کراپنے چہروںکی طرف دیکھتے یاایک منٹ کے لئے اپنے گریبان میں جھانکتے توانہیں اس آگ میں کسی اور کوجلانے کی ضرورت اورنوبت کبھی پیش نہ آتی۔

چھاننی اٹھ کے جب کوزے کوکہے کہ آپ میں دوسوراخ ہے توتب تکلیف ہوتی ہے۔ اللہ رحم کرے آج اس ملک کے اندر ہم میں سے اکثرنے اس چھاننی کی جگہ لی ہوئی ہے۔خودتوسرسے پائوں تک چھان چھان ہوں گے لیکن انگلی اور نظریں دوسروں کی طرف ہوگی۔ ان کے من اور تن خود گناہوں اور جرائم سے اٹے ہوئے ہوں گے لیکن گناہ گارانہیں پھربھی دوسرے نظرآئیں گے۔آج اس ملک میں دین کی حرمت اور بے حرمتی کے فیصلے وہ لوگ کرنے لگے ہیں جنہیں خوددین کی الف ب کابھی علم اورکوئی پتہ نہیں۔یہ لوگ ذرہ بھی اگردین اسلام کے بارے میں کوئی معلومات یااللہ اوراس کے رسول ﷺکی تعلیمات سے کوئی واقفیت حاصل کرتے توہم اس طرح کبھی دنیامیں بدسے بدنام نہ ہوتے۔دینی احکامات وتعلیمات سے بے خبران لوفرلفنگوں کے ہاتھوں سیالکوٹ میں دین اسلام کے نام پرجوکچھ ہوا۔اب دنیاہمارے اورہمارے دین کے بارے میں کیاسوچے گی ۔؟کیاہماراایمان اورہماری مسلمانی اب ان کاموں کے لئے ہی رہ گئی ہے۔؟سیالکوٹ میں جس ڈھٹائی،جس بے شرمی اورجس بیدردی کے ساتھ یہ واقعہ رونماہوااس کودیکھ کریوں محسوس ہورہاہے کہ جیسے دین اسلام کوبدنام کرنے کاہم نے کوئی ٹھیکہ لیاہو۔ہم اگردین اسلام کی خدمت نہیں کرسکتے توہمیں اس کواس کے نام پراس طرح بدنام کرنے کابھی کوئی حق نہیں پہنچتا۔اللہ کے آخری پیغمبرحضرت محمدﷺتوپوری دنیاکے لئے رحمت بن کرآئے۔آپ ﷺنے توگالیاں دینے اورپتھرمارنے والوں کوبھی دعائیں دیں۔ وہ عظیم پیغمبرجوامتی امتی کی صدائیں لگاتے ہوئے دنیاسے رخصت ہوئے۔ اس شفیق کائنات کے مبارک نام پراسی کے ایک امتی کومحض ایک پوسٹراتارنے پرکیسے زندہ جلایاجاسکتاہے۔؟ جوشخص نبی کریم ﷺ سے حقیقت میں محبت کرتاہو۔ جس کے دل میں نبی سے پیاراورآپ ﷺکی تعلیمات کاذرہ بھی احترام ہووہ نبی کے نام پراخلاق سے اس طرح گری ہوئی حرکت کبھی نہیں کرسکتا۔سوچنے کی بات ہے جس شخص یااشخاص کی اپنی پانچ چھ فٹ بدن شعائراسلام کی توہین سے خالی نہ ہوں۔جو خود صبح سے شام تک جھوٹ، فریب، دجل اورفریب کے ذریعے حضرت محمدﷺ کی سنتوں کامذاق اڑاتے پھررہے ہوں۔ جولوگ اپنے ایک بدن پرشریعت نافذنہ کرسکتے ہوں۔ وہ دین اسلام یاناموس رسالت کی کیاحفاظت اورکیادفاع کریں گے۔؟ سیالکوٹ واقعے میں ملوث جتنے لوگ اب تک سامنے آئے ہیں ان کی شکل وصورت،ڈھول ڈھال اوربول چال سے ذرہ بھی یہ نہیں لگ رہاکہ یہ کوئی عاشق رسول ہوں گے۔ ایسے درندوں اورحیوانوں نے پہلے بھی دین کوبہت نقصان پہنچایااورایسے درندے اب بھی دین کوبدنام کرنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ دین اورنبی کے مبارک نام پراخلاق اورانسانیت سے اس طرح گری ہوئی حرکتیں کرنایہ دین کی کوئی خدمت ہے اورنہ ہی نبی کریم ﷺسے کوئی عشق اورمحبت۔ہمیں ایسے درندوں اورحیوانوں کااب ہرحال میں راستہ روکناہوگا۔ یہ کہاں کاانصاف اورکونسی مسلمانی ہے کہ جس کوکسی سے بھی اپناکوئی مسئلہ یاکوئی بغض اورعناد ہو وہ دین کی آڑلیکرمذہب کے نام پراس پر چڑھائی شروع کردیں۔ نبی سے محبت،دین اوراسلام یہ آخرت سنوارنے کے لئے ہیں کسی پرچڑھائی ،ظلم وستم کرنے کے لئے نہیں۔مقتول سری لنکن منیجرسمیت وہ تمام بے گناہ جنہیں ہم نے مذہب کی آڑلیکردین کے نام پرنشانہ بنایاکل کوقیامت کے دن اگرانہوں نے خون میں لت پت یاآگ میں جلی سڑی اپنی نعشیں اورلاشیں پیش کردیں توپھر ہم خدااوراس کے رسول ﷺکوکیاجواب دیں گے یا کیا منہ دکھائیں گے۔؟