میں واپس آنا چاہتا ہوں

ایم ایس سی کیمسٹری میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے کے باوجود جب مجھے کسی سفارش کے بغیر ملازمت نہ ملی تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب اس ملک میں نہیں رہوں گا کیونکہ میرے والدین کے چہروں پر مایوسی اور بے بسی مجھے اندر سے کاٹتی رہتی تھی۔ میرے 4 چھوٹے بہن بھائی زیر تعلیم تھے۔ والد ایک پرائیویٹ سیکورٹی فرم میں گارڈ تھے۔ گھر کے کرائے کی ادائیگی کے لئے انہیں اوور ٹائم کرنا پڑتا مگر پھر بھی مشکل سے گزارہ ہوتا۔ میں نے میٹرک اور ایف ایس سی کے طالبعلموں کو ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات کی وجہ سے مالی مشکلات دور نہ ہوئیں۔ میں نے زندگی میں کبھی کسی سے ادھار نہیں مانگا لیکن ملک چھوڑنے کے لئے مجھے کئی دوستوں کے سامنے دست ِ سوال دراز کرنا پڑا۔ بڑی مشکل سے اتنی رقم جمع ہوئی کہ میں ایجنٹ کے ذریعہ ویزا لگوا کر استنبول پہنچ گیا اور پھر ترکی سے یونان پہنچنے کے لئے مجھے کئی مہینے جو پاپڑ بیلنے پڑے اور جن صعوبتوں سے گزرنا پڑا وہ ایک الگ ہی دکھ بھری داستان ہے۔

میرا خیال تھا کہ یورپ پہنچتے ہی میری زندگی کی مشکلات ختم ہو جائیں گی لیکن جب ایتھنز میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مجھے گرفتار کیا تو مجھے احساس ہوا کہ مصیبتوں کا ایک سمندر پار کرنے کے بعد مشکلات اور آزمائش کا ایک اور سمندر میرے سامنے ہے جسے میں نے ہی کسی کشتی کے بغیر عبور کرنا ہے۔ اپنا وطن چھوڑنے کے بعد ایک سال کے دوران میں صعوبتیں جھیلنے کا اس قدر عادی ہو چکا تھا کہ میں کسی بھی نئی مصیبت کا سامنا کرنے کے لئے ذہنی طور پر ہر وقت تیار رہتا تھا۔ یونان میں 6ماہ امیگریشن کیمپ میں گزارنے کے بعد مجھے انسانی حقوق کی بنیاد پر ذرا سی سہولت دی گئی کہ میں کیمپ سے باہر بھی جا سکتا اور مقررہ وقت پر واپس اپنے سیل میں آ سکتا تھا۔ ڈیڑھ برس تک میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے مسلسل رابطے میں بھی نہ رہ سکا اور نہ ہی کوئی رقم بھجوا سکا۔ اس دوران انہوں نے جن مالی مسائل کا سامنا کیا اس کے بارے میں سوچ سوچ کر میں خون کے آنسو روتا اور اپنی بے بسی پر اللہ سے شکوے شکایت کرتا رہتا اور پھر بالآخر نہ صرف مجھے امیگریشن کیمپ سے رہائی مل گئی بلکہ کام کرنے کی اجازت اور یونان میں قیام کا مشروط ویزا بھی مل گیا جس کے بعد مجھے یوں لگا کہ خالق کائنات نے مجھ سے ہر طرح کا امتحان لے کر میرے لئے منزل کا رستہ ہموار کر دیا ہے۔ اللہ رب العزت نے مجھے اسی لئے آزمائشوں کے منجھدھار سے گزارا ہے کہ وہ میری ثابت قدمی، ہمت اور حوصلے کو پرکھنا چاہتا ہے۔

میرے لئے کامیابیوں اور کامرانیوں کے انعام کی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہتا ہے۔ یونان میں امیگریشن سٹیٹس ملنے کے بعد میری زندگی میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا۔ میں نے چھوٹی موٹی ملازمتوں سے اپنی مالی خوشحالی کے سفر کا آغاز کیا اور پھر ایتھنز میں ایک چھوٹے سے گفٹ سنٹر سے اپنے ذاتی کاروبار کی بنیاد رکھی اور الحمد للہ اب میں امپورٹ ایکسپورٹ کے کاروبار کے علاوہ ایک بہت بڑے پیکجنگ یونٹ (Packaging Unit) کا مالک ہوں۔ پاکستان میں میرے والدین اور بہن بھائیوں کو زندگی کی ہر سہولت میسر ہے اور وہ شاندار زندگی گزار رہے ہیں۔ اپنے وطن سے ہجرت کے بعد پندرہ برس میں نے جن دکھوں اور تکلیفوں کو سہا اور جن عذابوں کا سامنا کیا ان کے بارے میں آج تک کسی کو نہیں بتایا حتیٰ کہ اپنے والدین کو بھی نہیں۔ میں اپنے والدین کا ہر حکم بجا لانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے اپنے انتہائی محدود وسائل کے باوجود مجھے ایم ایس سی کیمسٹری تک تعلیم دلوائی۔ میں نے شادی بھی اپنی والدہ کی مرضی سے کی۔ میری بیوی بھی یونان آ چکی ہے اور ہم دونوں ایک عالیشان پر آسائش گھر میں رہتے ہیں۔ میری بیوی مجھ سے چھپا کر ہر مہینے ایک خطیر رقم اپنے بہن بھائیوں کو بھیجتی رہتی ہے لیکن میں اس پر ظاہر نہیں ہونے دیتا کہ مجھے اس کا علم ہے بلکہ گھر کے خرچ کے لئے اسے اضافی رقم بھی دیتا رہتا ہوں۔ اپنی کاروباری مصروفیت کی وجہ سے میں ہر سال پاکستان نہیں جا سکتا اس لئے دوسرے تیسرے سال وطن عزیز کا چکر لگاتا ہوں اور وہ بھی چند روز کے لئے۔ ان چند دنوں میں جو بھی مجھے ملتا ہے ان میں سے بیشتر لوگوں کی ایک ہی فرمائش ہوتی ہے کہ میں کسی طریقے سے انہیں، ان کے کسی بھائی، بیٹے، بھانجے یا بھتیجے کو یونان بلا لوں۔ جب میں انہیں یہ بتاتا ہوں کہ اب کسی کو یونان بلانا اتنا آسان نہیں جتنا کہ دس پندرہ سال پہلے تھا تو وہ سمجھتے ہیں کہ میں ان کی مدد نہیں کرنا چاہتا یا خود ترقی کر کے دوسروں کو ترقی کے مواقع فراہم نہیں کرنا چاہتا۔ اپنا ملک چھوڑنے کے خواہشمندوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو کاہل، کام چور، آرام طلب اور زندگی کو موج میلا سمجھنے کے عادی ہوتے ہیں۔

انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اپنا وطن چھوڑنے والوں کو مالی آسودگی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچنے کے لئے کیسے کیسے عذاب جھیلنے پڑتے ہیں۔ پندرہ برس اپنے دیس کی مٹی کی خوشبو اور اپنے گھر والوں کی قربت سے محروم رہنے کے بعد اب میں جب بھی پاکستان جاتا ہوں تو مجھے وطن عزیز کی ہر شے پرکشش لگتی ہے۔میں جب اپنے بھائیوں اور اپنے سسرالی رشتے دار نوجوانوں کو ملتا ہوں تو وہ مجھ پر رشک کرتے ہیں اور میں ان پر رشک کرتا ہوں کہ وہ کوئی کام کاج کئے بغیر شاندار زندگی گزار رہے ہیں اور پھر بھی اپنا ملک چھوڑنے کے لئے بے تاب اور بے چین پھرتے ہیں۔ بیرون ملک جانے کے خواہشمندوں کی اکثریت اس غلط فہمی اور مغالطے میں مبتلا رہتی ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں پہنچتے ہی ان کا مقدر روشن ہو جائے گا اور پہلے ہی دن خوشحالی ان کے قدم چومے گی۔ خوشحال ملکوں میں امیگریشن سٹیٹس حاصل کرنے اور اپنے قدم جمانے میں کئی برس لگ جاتے ہیں اور وہی لوگ کامران اور کامیاب ہوتے ہیں جن کو محنت کرنے بلکہ مسلسل محنت کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ اجنبی ملکوں میں قدم جمانے کے لئے جتنی محنت اور جتن کرنے پڑتے ہیں اتنی جستجو اور کوشش سے انسان اپنے وطن میں حالات کو اپنے لئے سازگار بنا سکتا اور خوشحالی کی منزل تک جا سکتا ہے۔ گذشتہ برس جب میں چند روز کے لئے پاکستان گیا تو میں نے اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے کہا کہ میں واپس اپنے وطن آ کر آباد ہونا چاہتا ہوں۔ میری اس خواہش پر خوش اور سرشار ہونے کی بجائے وہ سب حیرانی اور پریشانی سے میرا منہ تکنے لگے۔ میں نے کہا کہ میں اپنی باقی زندگی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں تو سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ پاکستان کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ کاروبار ٹھپ ہو رہے ہیں۔ لاقانونیت اور عدم تحفظ کا احساس خوفناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ بہتر ہے آپ یورپ میں ہی رہیں بلکہ ہم سب کو بھی یونان بلانے اور وہاں کی شہریت دلوانے کا کوئی بندوبست کریں۔ پاکستان اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ ان کی یہ سب باتین سن کر اب میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا اور ابھی تک سوچ رہا ہوں کہ وہ ہزاروں بلکہ لاکھوں خوشحال تارکین وطن جو وطن عزیز میں آباد ہونے کے خواب دیکھتے ہیں انہیں شاید اس تلخ حقیقت کا اندازہ نہیں ہے کہ جب میٹھے پانی کی جھیلوں کا پانی گدلا اور خشک ہونے لگے تو مقامی پرندے بھی وہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں۔ انسانوں کے لئے اپنے آبائی وطن کو چھوڑنا اور آباد گھروں سے ہجرت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جو کوئی بھی ہجرت کے ستم سہتا ہے وہی اس کی تلخیوں اور اثرات سے واقف ہوتا ہے۔ اپنی مٹی سے جدائی اور اپنے خونی رشتوں سے دوری کے عذاب سہنا کوئی آسان کام نہیں ہے، لکھنے کو تو یہ ایک خوشحال پاکستانی تارک وطن کی داستان ہے جس نے مجھے بھی آبدیدہ کر دیا لیکن درحقیقت یہ ان لاکھوں اوور سیز پاکستانیوں پر گزرنے والی کیفیات کی عکاس ہے جو واپسی کے سفر کے متلاشی اور اپنی زندگی کا باقی حصہ وطن عزیز میں گزارنے کی حسرت کے ساتھ اجنبی ملکوں میں مقیم ہیں۔
٭٭٭٭٭٭