پاکستانیوں میں احساس برتری کا خبط

میں ان دنوں یونیورسٹی کے آخری سال کا طالب علم تھا کہ مجھے ایک بینک منیجر سے کسی کام کے سلسلے میں ملنے کے لیے ان کے دفتر جانا پڑا۔ اس مختصر سی ملاقات کے بعد رخصت ہونے والا تھا کہ ایک صاحب منیجر سے ملنے کے لیے تشریف لائے۔ سب سے پہلے انہوں نے میز پر اپنی کار کی چابی، ایک قیمتی لائٹر اور مہنگی سگریٹ کا پیکٹ رکھ دیا۔ (اس وقت تک پاکستان میں موبائل فون کا رواج عام نہیں ہوا تھا)۔ یہ صاحب اپنے لباس سے بھی کوئی امیر کبیر اور رئیس لگ رہے تھے۔ خیر سلام دعا کے بعد میں نے اجازت لی اور چلا آیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ صاحب ایک معمولی سے دکاندار ہیں جنہیں قیمتی اور بڑ ے بڑے برینڈ کی چیزوں سے عام لوگوں کو متاثر کرنے کا شوق بلکہ خبط ہے۔ برطانیہ آنے کے بعد میری ملاقات بہت سے ایسے پاکستانیوں سے ہوئی بلکہ اب بھی ہوتی رہتی ہے جو مہنگے برینڈ کے لباس، موبائل فون، گھڑیوں، جوتوں اور گاڑی کے ذریعے عام لوگوں کو اپنی برتری کا احساس دلانے کے خبط میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس خبط کا شکار ہونے والے لوگ درحقیقت اپنی شخصیت کے کھوکھلے پن اور کسی نہ کسی احساس محرومی کو چھپانے کے لیے مہنگی اور برانڈڈ چیزوں کا سہارا لیتے ہیں جبکہ آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سمیت لندن کی بہت سی شاندار یونیورسٹیز کے پروفیسرز جو سالانہ6 ہندسوں میں تنخواہ لیتے ہیں لیکن بہت سادہ اور آسان زندگی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ کبھی بڑے اور قیمتی برانڈ کی اشیاء استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے دل میں دوسروں کو اپنی مہنگی اشیاء سے متاثر کرنے کی کوئی حسرت ہوتی ہے۔

دراصل علم اور قابلیت والے لوگوں کے لیے یہ سب چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کے متمول مسلمان ہوں یا سعودی عرب کے شاہی خاندان کے افراد، انہیں اپنی دولت سے دنیا کو مرعوب کرنے اور شان و شوکت کے اظہار یعنی شو آف کا بہت زیادہ شوق ہوتا ہے۔ وہ اپنے کردار اور اچھے کاموں کی بجائے اپنی دولت کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرنے کا کوئی نہ کوئی نیا طریقہ ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں۔ درحقیقت دولت اور وسائل کا حاصل ہونا جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے وہیں یہ نعمت انسان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے۔ دولت یا اختیار ملنے کے بعد انسان کی شخصیت کے بہت سے مخفی پہلو کھل کر سامنے آنے لگتے ہیں۔ بہت سے لوگ مہنگے ریستورانوں میں کھانا کھانے یا قیمتی اشیاء خریدنے والوں کو ایک ”اعلیٰ کلاس“ میں شمار کرتے ہیں حالانکہ اعلیٰ کلاس یا اعلیٰ نسل کا تعلق انسان کے طرزِ عمل اور رویوں سے ہوتا ہے۔ کسی گدھے پر قیمتی کاٹھی رکھ دینے یا اس کے گلے میں جواہرات کا ہار ڈال دینے سے وہ گھوڑا نہیں بن جاتا۔ میرے ایک جاننے والے پاکستانی جو خود کو بہت خاندانی اوراعلیٰ کلاس میں شمار کرتے ہیں، وہ جب بھی لندن آتے ہیں تو بیوی بچوں کو ہوٹل میں چھوڑتے ہی ریڈ لائٹ ایریا کا رخ کرتے ہیں۔ برطانیہ اور لندن میں بہت سے اوورسیز پاکستانی جنہوں نے غربت سے امارت کا سفر طے کیا اور بہت محنت یا فراڈ کر کے دولت اکٹھی کی ہے، وہ بھی نفسیاتی طور پر پاکستان کے کلاس سسٹم سے متاثر ہیں۔ مالی خوشحالی حاصل کرنے کے بعد وہ خود کو ایک الگ کلاس کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں۔ یونائیٹڈ کنگڈم میں رہتے ہوئے بھی وہ اپنی اوقات کو بھول جاتے ہیں حالانکہ یہاں کوئی کسی کو کم ہی اس کی اوقات یاد دلاتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے بہت سے چھوٹے علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی تارکینِ وطن سے جب کوئی پوچھتا ہے کہ آپ کہاں سے ہیں؟ تو وہ اسلام آباد، لاہور، یا کراچی سے اپنا تعلق بتا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ معلوم نہیں بڑے شہروں سے نسبت کا تعلق بھی کلاس سسٹم سے ہوتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں رہتے ہوئے بھی بہت سے اوورسیز پاکستانی ذات پات کو بہت اولیت دیتے ہیں۔ میرے ایک ملنے والے جن کو اپنی اونچی ذات اورخاندان پر بڑا مان اور گھمنڈ ہے۔ انہیں لوگوں سے ادھار رقم بٹورنے کی عادت ہے اور وہ اکثر مہربانوں کی رقم ہضم کر چکے ہیں اور یہ مہربان ان کی اونچی ذات اور خاندان کے بارے میں ”قصیدے“ پڑھتے رہتے ہیں۔ انسان اپنے خاندان یا کلاس سے اونچا نہیں بنتا بلکہ اس کا طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ وہ کس درجے کا انسان ہے۔ اعلیٰ ظرف انسان مشکل میں بھی ہوں تو وہ گری ہوئی کوئی حرکت نہیں کرتے۔ جیساکہ کہا جاتا ہے کہ شیر بھوکا مرجاتا لیکن گھاس نہیں کھاتا۔ بہت سے کم ظرف لوگ جن کو دولت اور شہرت مل جاتی ہے، انہیں یہ اٹل حقیقت یاد رکھنی چاہئے کہ گرد آسمان پر بھی پہنچ جائے تو گرد ہی رہتی ہے اور ہیرا مٹی یا ریت میں دبا رہے تو بھی ہیرا ہی رہتا ہے۔

بہت سے اوورسیز پاکستانی جنہوں نے وطنِ عزیز میں شاندار بنگلے تعمیر کروا رکھے ہیں انہیں سال میں چند دن ہی ان قیمتی گھروں میں رہنا نصیب ہوتا ہے لیکن انہوں نے ان رہائش گاہوں میں ہر طرح کی آسائش اور آرام کا اہتمام کر رکھا ہے۔ چند برس پہلے اسلام آباد میں ایک ایسا ہی گھر میں نے دیکھا جس کا ہرکمرہ اعلیٰ فرنیچر، ایرانی قالینوں اور قیمتی سازوسامان سے مزین تھا۔ جن صاحب کا یہ گھر تھا وہ مجھے ہر چیز دکھا کر اس کی قیمت بھی ساتھ ساتھ بتاتے جاتے۔ خاص طور پر ایرانی قالینوں کی مالیت بتا کر وہ اپنی مالی حیثیت کا رعب مجھ پر ڈالنے کی پوری کوشش کررہے تھے تو میں نے جواباً کہا کہ گھر کے قالین کو گھروالوں سے زیادہ قیمتی نہیں ہونا چاہئے تووہ کہنے لگے کہ اس گھر میں تومیرے نوکر رہتے ہیں، میں تو سال میں ایک بار چند دنوں کے لیے یہاں آتا ہوں۔ میں ان کی یہ بات سن کر مسکرا دیا۔ برطانوی گوروں یعنی انگریزوں کا بھی ایک کلاس سسٹم موجود ہے لیکن یہ درجہ بندی ان کی زندگی میں بڑی ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریز اس چکر میں نہیں پڑے رہتے کہ اپنی دولت سے دوسروں کو مرعوب کریں یادوسروں کو احساس دلائیں کہ ہم اعلیٰ درجے کے انسان ہیں۔ ویسے بھی برطانیہ میں دولت کی غیر مساوی تقسیم، ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک کی طرح نہیں ہے۔ مفلوک الحال ملکوں میں ایک مراعات یافتہ طبقے کے پاس بے شمار دولت ہے جبکہ دوسرا طبقہ جو اکثریت میں ہے، غربت یا خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے یعنی ایک طبقے کے پاس سب کچھ ہے بلکہ گنجائش سے بھی زیادہ ہے جبکہ دوسرے طبقے کو بنیادی ضروریاتِ زندگی کی اشیاء تک میسر نہیں ہیں۔ برطانیہ چونکہ فلاحی ریاست ہے اس لیے یہاں لوگوں کو روٹی کپڑے اور مکان کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کرتی اور اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لاتی ہے۔ تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہاں دولت کی غیر مساوی تقسیم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ غریب لوگ اپنی آبادی میں اضافہ کر کے اپنی مشکلات کو مزید بڑھاتے چلے جا رہے ہیں جبکہ مراعات یافتہ طبقہ اپنے وسائل اور دولت کے انبار میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے۔
پاکستان سمیت مسلمان ممالک کے حکمران ہوں یا سیاستدان، صنعت کار ہوں یاجاگیر دار، بڑے اور بااختیار سرکاری افسران ہوں یا مذہبی رہنما اِن کی اکثریت مال بنانے، دولت اکٹھی کرنے اور وسائل کو اپنی ذات اور خاندان تک محدود رکھنے کے خبط میں مبتلا رہتی ہے اور خود کو ایک مراعات یافتہ کلاس کا حصہ سمجھتی ہے۔ اس کلاس سے عوامی فلاح و بہبود یا ملک و قوم کی خیر خواہی کی توقع کرنا خود کو دھوکہ دینے اور خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے سوا کچھ نہیں اسی وجہ سے مسلمان ملکوں میں اب دو ہی درجے اور کلاس کے لوگ باقی رہ گئے ہیں۔ ایک بہت زیادہ امیر اور دوسرے بہت زیادہ غریب اور اب ان دونوں درجے کے لوگوں کے درمیان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تفریق اور زیادہ بڑھتی جا رہی ہے۔ مڈل کلاس اور سفید پوش طبقے کا ہمارے معاشرے سے تیزی سے خاتمہ ہو رہا ہے جوہم سب کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کاش ہم آنے والے خطرات کا ادراک کرتے ہوئے نوشتہ دیوار پڑھ لیں۔
٭٭٭٭٭٭