غیر قانونی طریقے سے یورپ آنے والوں کیساتھ کیا ہوتا ہے

میں نے انہیں فون پر سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن اُن کا مسلسل اصرار تھا کہ میں کسی طرح اُن کے بیٹے کو برطانیہ بلانے کا کوئی بندوبست کروں۔ جب میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ میں اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا تو وہ بتانے لگے کہ ’’کراچی میں ایک ایجنٹ 18 لاکھ روپے مانگ رہا ہے جو میرے بیٹے کو لیبیا کے راستے یورپ اور پھر برطانیہ پہنچانے کی یقین دہانی کروا چکا ہے چناں چہ اب مجھے اس ایجنٹ سے ہی رابطہ کرنا پڑے گا۔‘‘ میں انہیں بتانا چاہتا تھا کہ کہ یہ رسک نہ لیں لیکن انہوں نے میری مزید کوئی بات سنے بغیر فون بند کردیا۔

پاکستان میں ایسے نوجوانوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک بار کسی طرح یورپ کے کسی خوشحال ملک یا برطانیہ پہنچ جائیں تو اُن کی ترقی اور خوشحالی کے سب خواب شرمندۂ تعبیر ہوجائیں گے۔ آج سے تیس چالیس برس پہلے تک یورپ کے بیشتر خوشحال ملکوں میں امیگریشن کے ضابطے اور قوانین بہت نرم اور انسانی ہمدردی پر مبنی تھے لیکن موجودہ حالات میں غیرقانونی طریقے سے یورپ پہنچنے والے تارکینِ وطن کے لئے مزید مشکلات اور ملک بدری کے سوا کوئی اور گنجائش نہیں رہی۔ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن جو نوسرباز ایجنٹوں کو لاکھوں روپے دے کر کئی کئی مہینے صعوبتیں، مشکلیں اور مصیبتیں برداشت کرتے اور مختلف پُرخطر اور چور راستوں سے گزرتے ہوئے زندہ سلامت یورپ کے کسی ساحل تک پہنچ بھی جائیں تو انہیں کیمپوں اور حراستی مراکز میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے انہیں فاسٹ ٹریک امیگریشن سسٹم کے تحت چند دنوں بعد ہی ملک بدر ہونا پڑتا ہے۔ ان بدقسمت تارکینِ وطن سے اگر پوچھا جائے کہ پاکستان سے یورپ کے کسی ساحل تک پہنچنے میں ان پر کیا گزری اور ان کے وہ ہم سفر جو صحراؤں اور جنگلوں میں پیدل چلتے ہوئے بھوک اور پیاس اور سردی کی شدت یا گرمی کی حدت سے لقمۂ اجل بن گئے اور جن کی لاشوں کو تدفین کے بغیر کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا گیا اور جو باقی زندہ بچ گئے انہیں سمندروں کی لہروں نے نگل لیا اور جو زندہ لاشیں ٹوٹی پھوٹی کشتیوں میں ساحلوں تک پہنچ گئیں،انہیں واپس وہیں بھیج دیا گیا جہاں سے اُن کے سفر کا آغاز ہوا تھا اور جب یہ بدقسمت مسافر واپس اپنے وطن پہنچتے ہیں تو ہوائی اڈے پر قانون نافذ کرنے والے اُن کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں، وہ ایک الگ کہانی ہے۔

پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر کئی ایشیائی ممالک کے علاوہ بہت سے افریقی ملکوں سے ہر سال جو لاکھوں غیر قانونی تارکین اپنی جان کی بازی لگا کر یورپ پہنچنے کے لئے نکلتے ہیں، ان میں سے چند ایک ہی زندہ بچتے ہیں اور جو زندہ بچ جاتے ہیں، اُن کی حالت نیم پاگلوں جیسی ہوجاتی ہے۔ کئی برس پہلے پاکستان میں میری ملاقات ایک ایسے ہی نوجوان سے ہوئی جو کئی ماہ کے عذاب جھیل کر یونان کے ساحل تک پہنچا تھا اور پھر جسے چند روز بعد امیگریشن کیمپ سے واپس پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔ اس بدقسمت نوجوان نے سفر کے دوران جن تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کیا، اس کی تفصیل سن کر میرا دل دہل گیا۔ وہ امیگریشن ایجنٹ جس نے اس نوجوان سے 14 لاکھ روپے لئے تھے اور اسے بحفاظت برطانیہ تک پہنچانے اور ملازمت دلوانے کا جھانسہ دیا تھا، اب اپنا نمبرتبدیل کرکے روپوش ہوچکا تھا۔ انسانوں کی سمگلنگ کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک پس ماندہ ملکوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اُن بے روزگار نوجوانوں کو ہدف بناتا ہے جو یورپ جاکر اپنی قسمت آزمانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ یہ ایجنٹ روشن مستقبل کے خواب دیکھنے والے ان نوجوانوں کو ورغلاتے اور سبز باغ دکھاتے ہیں اور پھر بھاری رقم وصول کرنے کے بعد انہیں موت کے سفر پر روانہ کردیتے ہیں۔ ان ایجنٹوں کے ہتھے چڑھنے والے بیشتر نوجوان یا اُن کے والدین اپنی جائیداد اور اثاثے فروخت کرکے جمع شدہ پونجی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ اپنا ملک چھوڑ کر یورپ کی طرف غیرقانونی سفر کا رسک لینے کی ایک بڑی وجہ تو پاکستان میں معاشی بد حالی ہے، دوسری وجہ وہ اوورسیز پاکستانی ہیں جو وطن عزیز جاکر اپنے عزیزوں، رشتے داروں اور اہلِ محلہ کو اپنی شان و شوکت سے مرعوب کرنے کے لئے ہر طرح کا دکھاوا کرتے ہیں جس سے متاثر ہوکر بہت سے نوجوان کسی نہ کسی طرح یورپ پہنچنے کے لئے جتن کرنے لگتے اور کسی امیگریشن ایجنٹ کی تلاش شروع کردیتے ہیں جو ان سے مستقبل کے سنہرے خوابو کی پوری قیمت وصول کرتا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں سے ان کے رشتے دار اور دوست احباب اکثر اوقات یہ فرمائش کرتے ہیں کسی طرح آپ میرے بیٹے، بھانجے، بھتیجے کو برطانیہ بلا لیں۔ اُن کا خیال ہے کہ مڈل ایسٹ کے ممالک کی طرح برطانیہ میں رہنے والے بھی کسی کو سپانسر شپ یا اقامہ بھیج کر آسانی سے یونائیٹڈ کنگڈم کا ویزا لگوا سکتے ہیں اور اگر انہیں بتایا جائے کہ برطانیہ کی امیگریشن پالیسی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت یا دیگر ملکوں سے مختلف ہے تو وہ اس پر یقین نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی معلومات دینے والا انہیں برطانیہ بلانا نہیں چاہتا جس کے بعد بہت سے لوگ ایجنٹوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں جو انہیں بالکل غلط معلومات فراہم کرتا ہے اور ان سے لمبی رقم بٹور کر رفو چکر ہوجاتا ہے۔ جو پاکستانی نوجوان کسی بھی جائز یا ناجائز طریقے سے برطانیہ آنا چاہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ کسی ایجنٹ کے ہتھے چڑھنے اور اس کی طرف سے فراہم کی جانے والی معلومات پر اعتبار کرنے کی بجائے برطانوی ہوم آفس کی ویب سائٹ سے امیگریشن پالیسی کے بارے میں تازہ ترین اور پوری معلومات حاصل کرلیں۔ اب برطانیہ اور یورپ میں غیرقانونی تارکینِ وطن کے لئے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ وہ پاکستانی نوجوان جو پندرہ بیس لاکھ روپے کسی ایجنٹ کو دے کر یورپ پہنچنے کے خواہش مند ہوں، انہیں چاہئے کہ وہ اس رقم سے پاکستان میں ہی کوئی چھوٹا موٹا کام یا کاروبار شروع کردیں۔ اپنی جمع شدہ پونجی اور وسائل کو ضائع کرکے مسائل اور مشکلات کی دلدل میں دھنستے چلے جانے کا رسک نہ لیں۔ زندگی ایک بار ملتی ہے، اسے داؤ پر نہ لگائیں۔ جو لوگ غیرقانونی طور پر یورپ جانے کا تجربہ کرکے ذلیل و خوار ہوچکے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے تلخ تجربات کی کہانیاں سنیں تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے اور دل دہل جائے گا۔ برطانیہ آنے کا سب سے محفوظ طریقہ یہی ہے کہ آپ ایک بار وزٹ ویزے پر یہاں آکر حالات کا جائزہ لیں تاکہ آپ کو حقیقت کا پوری طرح ادراک ہوسکے۔

آج کل سٹوڈنٹ ویزے پر ہزاروں لوگ یونائیٹڈ کنگڈم میں آ رہے ہیں جنہیں یہاں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت ہے اور پڑھائی مکمل ہونے پر اس ویزے میں مزید توسیع کی آپشنز بھی میسر ہیں۔ اس کے علاوہ انویسٹمنٹ ویزے اور سپاؤس ویزے (برطانوی شہری سے شادی کے بعد جاری ہونے والا ویزہ) پر بھی لوگوں کو برطانیہ میں مستقل قیام کا حق دیا جاتا ہے۔ غیرقانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے یا ویزٹ ویزے پر اوورسٹے (Overstay) ہوکر روپوش ہوجانے والوں کے لئے اس ملک کے قانون میں کوئی رعایت نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی ملازمت یا کام مل سکتا ہے۔ بریگزٹ کے بعد برطانیہ کو افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ اس ملک میں ہر شعبے کے لئے ملازمتوں کی بڑی گنجائش موجود ہے لیکن صرف اُن لوگوں کے لئے جو یہاں قانونی طور پر قیام پذیر ہیں اور جن کو ورک پرمٹ کی سہولت حاصل ہے۔

یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ اگر پاکستان میں انصاف اور قانون کی بالادستی ہو اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی اشیاء سہولت کے ساتھ میسر ہوں اور لوگوں کو جان و مال کا تحفظ حاصل ہو تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں اوورسیز پاکستانی ترقی یافتہ اور خوشحال ملکوں کو چھوڑ کر واپس اپنے آبائی ملک میں آبسیں گے لیکن یہ کس قدر تلخ حقیقت اور المیے کی بات ہے کہ جو لوگ پاکستان میں انصاف اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے ذمہ دار اور اربابِ اختیار ہیں، وہ خود ریٹائرمنٹ کے بعد خوشحال اور ترقی یافتہ ملکوں میں آباد ہونے کے لئے پنا گاہیں ڈھونڈ نا شروع کردیتے ہیں۔

……….