جنرل اختر عبدالرحمن مرحوم کی کرپشن کہانی

اسی کی دہائی میں پاکستانی آئی ایس آئی چیف جنرل اختر عبدالرحمن کو افغان جہاد کا روح رواں سمجھا جاتا تھا اور یہ بات زبان زد عام اور مشہور تھی کہ انکی بدولت ہی افغانستان میں روس کو شکست ہوئی تھی اور اگر محترم 17 اگست 1988 کو جنرل ضیاء کیساتھ جہاز کریش ہونے پر ہلاک نہ ہوتے تو انڈیا کے ٹکڑے ہو کر نہ صرف خالصتان بن چکا ہوتا بلکہ کشمیر بھی آزاد ہوچکا ہوتا لیکن بدقسمتی سے بعد میں آنے والی بینظیر بھٹو نے خالصتان اور کشمیر میں لڑنے والوں کی لسٹیں اس وقت کے انڈین وزیراعظم راجیو گاندھی کو دے دی تھیں جس سے خالصتان اور کشمیر کی آزادی ادھوری رہ گئی۔ ایسی کہانیاں پاکستانی تاریخ میں فوجی جرنیلوں کی طرف سے خود ڈالی جاتی ہیں انکا مقصد یہی ہوتا ہے کہ فوجی جرنیلوں کو اسلامی مجاہدین کے کمانڈر کے طور پر پیش کر کے عوام کے دماغوں میں انکی ہمیشہ کی عزت بنائی جاسکے۔ اس کہانی میں بھی جنرل اختر عبدالرحمن کو بھی ہیرو بنا کر پیش کیا گیا تھا جبکہ بینظیر بھٹو کو غدار بنا کر پیش کیا گیا تھا، ان دونوں میں غدار اور محب وطن کون تھا یہ تو خدا ہی کو معلوم ہے لیکن دونوں شخصیات مالی طور پر اوّل درجے کی کرپٹ تھیں اور دونوں نے کڑوروں امریکی ڈالرز پر مبنی سوئٹزرلینڈ میں خفیہ بنک اکاؤنٹس کھولے تھے، بینظیر کے اکاؤنٹس تو انکی زندگی میں ہی ظاہر ہوگئے تھے جبکہ جنرل اختر عبدالرحمن کے اب جا کر سوئس سیکریٹ لیکس کے ذریعے ظاہر ہوئے ہیں۔

سن اسی کی دہائی میں جب افغان جہاد اپنے زوروں پر تھا تب امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو بھیجی جانے والی تمام رقم سوئٹزر لینڈ میں سی آئی اے کے اکاؤنٹس میں جمع کی جاتی تھی اور یہی رقم بعد میں پاکستان کی آئی ایس آئی کو منتقل کر دی جاتی تھی جس کے چیف جنرل اختر عبدالرحمن افغان مجاہدین کے لیے اسلحے، ٹریننگ اور دوسری رسد کا بندوبست کرتے تھے۔ جنرل اختر نے اسی وقت اپنے تینوں بیٹوں اکبر، ہارون اور غازی کے نام پر سوئٹزر لینڈ کے کریڈٹ سوئز بینک میں یکم جولائی 1985 کو ایک مشترکہ بنک اکاؤنٹ کھولا تھا تاکہ انکی آنے والی نسلیں امیر ہوسکیں۔ اس وقت جنرل اختر کے تینوں بیٹوں کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان تھیں۔ اس دور میں سوئٹزر لینڈ میں کسی بھی طرح کے خفیہ فنڈز کے لیے اکاؤنٹ کھلوانا بہت ہی آسان تھا اور اسی دور میں اس وقت کے امریکی صدر رونلڈ ریگن نے افغان جہاد کے لیے مختص فنڈ کے حوالے سے بارہا اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ یہ فنڈ آخر جا کہاں رہا ہے۔ سنہ 2003 میں اس اکاؤنٹ میں موجود رقم کی مالیت تقریبا پونے چار ملین امریکی ڈالر تھی جبکہ نومبر 2010 میں اس اکاؤنٹ میں موجود رقم کی مالیت تقریبا دس ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

سوئس سیکریٹ لیکس کے بعد جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے جنرل اختر عبد الرحمان کے بیٹوں سے رابطہ کیا توان میں سے ایک نے جواب دیا کہ یہ معلومات درست نہیں اور قیاس آرائی پر مبنی ہیں، ظاہر ہے ان سے ایسے ہی جواب کی توقع تھی کیوں کہ جنرل اختر کے دو بیٹے ہمایوں اختر خان اور ہارون اختر خان نہ صرف پاکستان کی بڑی کاروباری شخصیات ہیں، بلکہ ہمایوں اختر خان چار بار رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہو چکے ہیں اور پانچ سال وفاقی وزیر برائے کامرس بھی رہے ہیں۔ آج کل وہ تحریک انصاف سے وابستہ ہیں جبکہ انکے بھائی ہارون اختر خان موجودہ سینیٹ کے رکن ہیں اور پاکستان مسلم لیگ نواز سے وابستہ ہیں، یعنی دونوں بھائی مختلف سیاسی جماعتوں سے منسلک ہیں تاکہ کسی بھی پارٹی کے اقتدار میں آنے سے انکی اور انکے والد کی کرپشن چھپی رہے۔