گھر اور ملک خودغرضی کے بغیر ہی بہتر چل سکتے ہیں

یہ ایک چھوٹا سا گھر ہے جہاں پانچ بھائی اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ جب یہ پانچ بھائی زیر تعلیم تھے تو والد صاحب اس خاندان کے واحدکفیل تھے۔ کتابوں اور سٹیشنری کی ایک دکان سے گھر کے اخراجات سہولت اور آسانی سے پورے ہو جاتے تھے۔ رفتہ رفتہ پانچوں بھائی پڑھ لکھ کر برسرروزگار ہوتے گئے تو والدین نے اچھے گھرانوں میں ان کی شادیاں کر دیں۔بیاہ کر آنے والی لڑکیاں بھی پڑھی لکھی تھیں مگر ان میں سے کوئی بھی مشترکہ گھر میں رہ کر خوش نہیں تھی اور پھر ایک ایک کر کے پانچوں بھائی والدین سے الگ ہو گئے اور اپنے اپنے گھروں میں رہنے لگے۔ والد کی عمر تقریباً 70برس ہو چکی تھی۔ بیٹوں نے اصرار کیا کہ اب آپ کو کام کرنے کی ضرورت نہیں ہم آپ کے اخراجات اٹھائیں گے۔ چاروناچار والد صاحب نے دکان فروخت کر دی اور گھر بیٹھ گئے۔ 45برس کی مسلسل محنت اور مصروفیت کے بعد چند ہفتے کا آرام تو اچھا تھا لیکن اس کے بعد ان کی طبیعت بیزار رہنے لگی اور چند ہی مہینوں میں انہیں کئی طرح کی بیماریوں نے گھیر لیا اور وہ ڈیڑھ برس تک علاج معالجے اور بیماریوں سے نبرد آزما رہنے کے بعد دنیا سے رخصت ہو گئے۔دکان کی فروخت سے انہیں جو رقم ملی تھی اس کا بیشتر حصہ ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کی نذر ہو گیا۔ والد کی وفات کے بعد والدہ اکیلی رہ گئیں۔ کچھ ہفتے تو بیٹے، بہوئیں اور پوتے پوتیاں انہیں ملنے کے لئے آتے رہے لیکن پھر سب اپنے اپنے معمولات زندگی میں ایسے مصروف ہوئے کہ کسی کو فون کر کے اکیلی والدہ کی مزاج پرسی کے لئے بھی کم ہی وقت ملتا۔

پانچوں بھائی اپنی اپنی زندگی میں مگن تھے اور اپنے اپنے مالی معاملات کو مستحکم کرنے کی تگ و دو میں ہمہ وقت مصروف رہتے۔ جس ماں کے بطن سے انہوں نے جنم لیا تھا کسی کو اس کی فکر نہیں تھی۔ فکر تھی تو اس بڑے آبائی گھر کی تھی جس میں ان کی تنہاماں رہائش پذیر تھی۔یہ گھر اب شہر کے کمرشل ایریا کے وسط میں آ چکا تھا جس کے دونوں طرف بڑی بڑی مارکیٹیں اور پلازے تعمیر ہوچکے تھے جن کی وجہ سے اس گھر کی مالیت کروڑوں تک جا پہنچی تھی۔ سب بھائی یہ چاہتے تھے کہ اس گھر کو فروخت کر کے اپنے اپنے حصے کی رقم حاصل کر لی جائے لیکن کوئی بھی بھائی والدہ کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے آمادہ نہیں تھا۔ سب سے بڑے بیٹے نے یہ مہربانی کی کہ والدہ کے لئے ایک ملازمہ کا بندوبست کر دیالیکن اس ملازمہ کو تنخواہ بھی والدہ کی جمع شدہ پونچی سے ہی ادا کی جاتی۔ جس والدہ نے ان پانچ بیٹوں کو پال پوس کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا اور تربیت کی وہ اب خاموشی سے اپنے ان لاڈلوں کے بدلتے ہوئے رویوں پر کڑھتی رہتی تھی جو اپنی اپنی بیویوں اور خودغرضیوں کے غلام بن چکے تھے۔ ماں پڑھی لکھی سمجھدار اور خوددار تھی اس لئے اپنے کسی بیٹے کو اپنی کسی ضرورت کے بارے میں نہ بتاتی۔

ایک روز سب سے چھوٹا بیٹا کئی ماہ بعد ماں سے ملنے آیا اور بتانے لگا کہ ”میرے مالی حالات اچھے نہیں ہیں اور میں اپنا ملک چھوڑ کربرطانیہ جانے کے لئے تگ ودو کر رہا ہوں، مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے ملک کے حالات آنے والے دنوں میں بہتر ہوں گے“۔ ماں مسکرائی اور استفسار کیا کہ اس ملک کے حالات کو کس نے خراب کیا ہے؟ بیٹے نے جواب دیا ”ظاہر ہے حکمرانوں، سیاستدانوں اور اختیارات والوں نے اس ملک کے حالات کو اس نہج تک پہنچایا ہے جنہوں نے ہر دور میں صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کا خیال رکھا ہے“۔ ماں کہنے لگی ”اس ملک کو خوشحالی سے بدحالی کی دلدل میں دھکیلنے اور وطن پرستی سے ذاتی مفاد پرستی کو فوقیت دینے میں ہم سب کا ہاتھ ہے۔ ہر گھر ایک ملک کی طرح ہوتا ہے۔ تم اپنے گھر کی مثال لے لو جب تک تم سب بھائی اپنے والد کی کمائی پر پل رہے تھے تو تم سب متحد اور یکجا تھے جیسے جیسے تم برسر روزگار اور خودکفیل ہوتے گئے تم نے اپنے آبائی گھر سے ناتا توڑ لیا اپنے ماں باپ کو تنہا چھوڑ دیا۔ جن والدین نے تمہیں تمہارے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا اب تم ان سے اس لئے گریز کرتے ہو کہ کہیں تمہیں ان کی کسی قسم کی مالی ضرورت پوری نہ کرنی پڑ جائے۔ یہ خود غرضی اور مفاد پرستی نہیں تو اور کیا ہے؟جس دن ہمارے گھروں سے مفاد پرستی، فریب اور خودغرضی کا خاتمہ ہونا شروع ہو جائے گا دولت کی ہوس کی بجائے قناعت، دیانتدار اور خلوص کا جذبہ غالب آنے لگے گا تو اسی دن سے ملک اور قوم کی تقدیر بدلنے کا آغاز ہو گا۔ ہر گھر کے حالات ٹھیک ہو جائیں تو محلے اور شہر کے حالات خود بخود بہتر ہونے لگتے ہیں۔ افراد ٹھیک ہو جائیں تو قوم کی بدحالی خوشحالی میں بدلنے لگتی ہے۔ ہرفرد کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ جن والدین نے ہمیں کسی قابل بنایا ہم نے ان کے لئے اپنی زندگی میں کیا کیا؟ جس وطن نے ہمیں پہچان دی ہمیں ترقی کے مواقع اور وسائل فراہم کئے ہم نے اس سرزمین کو جواب میں کیا دیا؟ اگر ہم حکمرانوں اور بااختیار لوگوں سے توقع لگانے اور ان سے حب الوطنی کے تقاضوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرنے کی بجائے خود اپنی سمت درست کر لیں، اپنے حصے کا سچ بولیں اپنے حصے کی دیانتداری سے کام لیں اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو پورا کریں، اپنے حصے کے فرائض کو پورا کریں اور اپنے حصے کا چراغ جلائیں تو مفاد پرستی، خودغرضی اور بددیانتی کا اندھیرا خودبخود کم ہونے لگے گا اور روشنی پھیلنے کا آغاز ہو جائے گا “۔ آخری جملہ بولتے وقت ماں کی آنکھوں میں ستارے جھلملانے لگے اور سب سے چھوٹے بیٹے نے خاموشی سے اپنی ماں کی آنکھوں کے اس پیغام کو اپنے لئے مشعل راہ بنانے کا فیصلہ کر لیا اور اسے پہلی بار احساس ہوا کہ دھرتی ماں ہو یا جنم دینے والی ماں ہر فرد پر ان دونوں کا قرض ہوتا ہے اور اس قرض کی ادائیگی فرض کی ادائیگی کی طرح لازمی ہے۔ حق مانگنے سے پہلے فرض ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ گھر بھی ایک چھوٹے سے ملک کی طرح ہوتا ہے۔ اگر گھر میں رہنے والے ایک دوسرے کی ضرورت کا خیال رکھیں خودغرضی سے اجتناب کریں اپنے گھر کو صاف ستھرا بنائیں اچھی عادتیں اپنائیں، قوت برداشت سے کام لیں، اختلاف رائے کا احترام کریں ایک دوسرے کی مدد کریں تو ان گھریلو رویوں کی جھلک پورے ملک میں بسنے والے افراد کے طرز عمل میں نظر آئے گی۔ جن اقوام کے گھروں میں سکون اور امن ہوتا ہے ان کے ملکوں میں بھی اطمینان اور شانتی کا راج ہوتا ہے۔ آپ بھی ذرا سا وقت نکال کر غور کیجئے کہ کیا ہمارے گھروں کا ماحول اور ان گھروں میں رہنے والے افراد کے رویے اور طرز عمل ہمارے ملک کے حالات کی عکاسی کرتے ہیں؟۔

٭٭٭٭