جہاں برف گرتی ہے

سردی اتنی شدید تھی کہ ہڈیوں کے گودے تک ٹھنڈک محسوس ہو رہی تھی۔ درجہ حرارت اگرچہ منفی 4تھا مگر تیز سرد ہوا کے باعث ٹھنڈ کی شدت انسانی جسم کو شل کر رہی تھی۔ مجھے لندن پہنچے ابھی چند ہی دن ہوئے تھے۔ یہ دسمبر 1993ء کی بات ہے، برطانوی محکمہ موسمیات کی طرف سے آئندہ ہفتے برفباری کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ مجھے زندگی میں برفباری کا منظر دیکھنے کی بڑی حسرت تھی جو بہاول پور میں رہتے ہوئے تو کبھی پوری نہیں ہوئی۔ کئی بار گرمیوں کے موسم میں پاکستان کے شمالی حصوں ناران، کاغان، کالام بھی گئے لیکن وہاں بھی برف باری دیکھنے سے محروم رہے۔ مجھ جیسے صحرا نورد کے لئے لندن کی شدید سردی ایک نیا تجربہ تھا۔ کرسمس سے چار دن پہلے ایک صبح میں سو کر اٹھا اور کھڑکی کا پردہ سرکایا تو باہر برفباری ہو رہی تھی۔ ہر طرف برف کی ایک دبیز تہہ نے ہر شے کو ڈھانپ لیا تھا۔ میں بے ساختہ گھر سے باہر نکل آیا۔ آسمان سے گرنے والی روئی کے باریک گالوں جیسی برف نے میرے اندر ایک انوکھی سرشاری کی کیفیت کو بیدار کر دیا۔ بہاول پور میں رہ کر برفباری دیکھنے کی حسرت لندن میں آ کر پوری ہوئی۔اس کے بعد دنیا کے کئی ملکوں میں سفر کیا اور برفباری سے لطف اندوز ہوا لیکن زندگی کی پہلی برفباری کا منظر پہلی محبت کے احساس کی طرح آج تک خوشگوار یادوں کا حصہ ہے۔

مجھے شدید سردی اور برفباری کے دنوں میں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ اور ڈنمارک کے درالحکومت کوپن ہیگن جانے کا موقع ملا لیکن موسم کی شدت کے باوجود وہاں معمولات زندگی جاری تھے۔برطانیہ میں بھی جہاں کہیں برفباری ہوتی ہے وہاں مرکزی شاہراہوں (موٹرویز)،سکول جانے والے راستوں اور مصروف سڑکوں پر نمک کے کنکروں کا چھڑکاؤ کر دیا جاتا ہے تاکہ وہاں برف نہ جم سکے۔ یورپ کے بیشتر ملکوں میں موسم سرما برف باری کا سندیسہ لے کر آتا ہے۔ بہت سے ممالک میں کئی کئی دن مسلسل برف گرتی رہتی ہے لیکن روز مرہ کے کام حسب معمول جاری رہتے ہیں۔ ویسے تو جاپان کے شہر اوموری کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ برف باری کینیڈا اور امریکہ کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں ہوتی ہے لیکن یورپ کے بہت سے ملک جن میں فرانس، آسڑیا، سوئیٹزرلینڈ اور سیکنڈے نیویا کے ممالک شامل ہیں برف باری کے موسم میں سیاحوں کے لئے خاص کشش رکھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا جن ملکوں میں برف گرتی ہے دہاں کے لوگ دھوپ کی حدت کو ترستے ہیں اور چھٹیاں منانے کے لئے گرم ممالک کا سفر اختیار کرتے ہیں۔ مڈل ایسٹ کے صحرا کی خاک چھاننے کو تفریح سمجھتے ہیں۔ جو لوگ گرم ملکوں میں بستے ہیں انہیں بارش اور برف باری کے موسم سے لطف اندوز ہونے کی حسرت رہتی ہے۔

جو لوگ میدانی علاقوں کے مقیم ہوں انہیں پہاڑ اچھے لگتے ہیں اور جو لوگ پربتوں کی وادیوں میں پلے بڑھے ہوں انہیں سمندر اور ساحل اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ دنیا میں بہت تھوڑے ملک ایسے ہیں جہاں صحرا بھی ہو، سمندر بھی ہوں، پہاڑ بھی ہوں، میدانی علاقے بھی ہوں، برف پوش بلندوبالا پہاڑی سلسلوں سے آبشاریں گرتی ہوں، دریا بہتے ہوں، ساحلی ہوائیں گیت گاتی ہوں، تیز دھوپ سے فصلیں پکتی اور پھولوں میں رس بھرتا ہو، زمین سونا اگلتی ہو اور معدنیات کے قدرتی خزانوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہو۔ خوش قسمتی سے پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جسے خالق کائنات نے ان تمام نعمتوں سے نوازا ہوا ہے اور ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہم قدرت کے ان انعامات کی قدر نہیں کرتے اور نہ ہی ہمیں ان کی اہمیت اور افادیت کا احساس ہے۔ جھیل سیف الملوک اور چولستان کا قلعہ ڈیراور اگر یورپ کے کسی ملک میں ہوتے تو پوری دنیا کے سیاح انہیں دیکھنے کے لئے کھنچے چلے آتے اور ان پرکشش سیاحتی مقامات تک پہنچنے کے لئے ایسی سہولتیں مہیا کی جاتیں جن کا پاکستان میں تصور بھی ممکن نہیں۔ باشعور قوموں کو خالق کائنات نے جو قدرتی نعمتیں اور حسن عطا کیا ہے انہوں نے اس کی حفاظت کرنے بلکہ انہیں مزید سنوارنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جبکہ پاکستان کو قدرت کی طرف سے جو کچھ میسر ہے ہمارے لوگ اس کو ملیا میٹ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ جو ملک اور قوم قدرت کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتی ان کی زندگی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ وہاں دریا اپنے رخ بدل لیتے ہیں۔ زلزلے، سیلاب، آفتیں اور خشک سالی اس کا مقدر بن جاتی ہیں۔ اگر کبھی آپ کو 67لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلے چولستان میں جانے کا موقع ملے تو وہاں ریت کے اندر گھونگوں اور سیپیوں کے خستہ خول دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے کہ اس صحرا میں کبھی دریا بھی بہتا تھا۔آج کی دنیا میں ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ فطری حسن کا تحفظ کیا جائے۔ قدرتی ماحول کو خراب ہونے سے بچایا جائے۔

اس کائنات کی دیگر مخلوقات کی بقا کا خیال رکھا جائے۔ جیو اور جینے دو کے طرز عمل کو اپنایا جائے۔ ہماری زمین کا تقریباً دس فیصد حصہ یعنی 15ملین مربع کلومیٹر رقبہ ہر وقت برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ دنیا کا پانچواں بڑا براعظم انٹارکٹیکا 98فیصد برف کی تہوں میں دبا رہتا ہے۔ ایک کروڑ 42لاکھ مربع میل پر پھیلے ہوئے اس براعظم میں صرف ایک ہزار کے قریب لوگ آباد ہیں اور یہاں کے کئی حصوں میں 1.9کلومیٹر موٹی برف کی تہہ جمی رہتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں فریش واٹر یعنی میٹھے پانی کی دستیابی کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے اور ہماری اس سرزمین کو 69فیصد میٹھا پانی برف اور گلیشئرز کے پگھلنے سے ملتا ہے۔ اس لئے ہماری اس دنیا کی بقا کے لئے برفانی علاقوں کی اہمیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہماری زمین کے لئے پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس لئے برف کا گرنا، جمنا اور پگھلنا انسانی زندگی کے تسلسل کے لئے ضروری ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں برف گرتی ہے وہاں کے لوگوں کے دل برف کے گالوں کی طرح نرم ہوتے ہیں۔ جہاں ہر شے منجمند ہو جاتی ہے وہاں مکینوں کے احساسات کی حرارت سے زندگی سرگرم عمل رہتی ہے۔ اگر کوئی برف میں پھنس جائے،کسی کی گاڑی خراب ہو جائے، کسی کو کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا سامنا ہو، کوئی مسافر راستے سے بھٹک جائے، کسی کو طبی امداد کی ضرورت ہو تو برفانی علاقوں کے لوگ ہمہ وقت ایک دوسرے کی مدد کے لئے تیار رہتے ہیں اور جو لوگ برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لئے دور دراز سے سفر کے لئے نکلتے ہیں وہ موسم کی پیش گوئی کے مطابق اپنے انتظامات مکمل کر کے سفر کا آغاز کرتے ہیں یعنی ہوٹلز اور رہائش کی پیشگی بکنگ اور ٹریفک رش کو ضرور ملحوظ خاطر رکھتے ہیں تاکہ کسی بھی طرح کی زحمت اور پریشانی سے بچا جا سکے۔ یورپ میں گاڑیوں کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر معمول کی بات ہے اور جو لوگ بھی یہ سفر کرتے ہیں وہ اپنے تمام تر انتظامات اور ضروریات کا خیال رکھتے ہیں جبکہ پاکستان میں سفر کے بہت سے شوقین ایسے بھی ہوتے ہیں جو نئی شلوار تو سلوا لیتے ہیں لیکن ازار بند کے انتظام کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم مسلمانوں کی اکثریت اہل مغرب کو بے حس او رظالم سمجھتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغربی ممالک نے اپنے حکومتی نظام کو اس طرح حالات کے تقاضوں کے مطابق ڈھال رکھا ہے کہ ایمرجنسی اور حادثوں کے موقع پر متعلقہ اداروں کے تربیت یافتہ لوگ فوری طور پر وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں رستے بند ہوں وہاں ہیلی کاپٹر ایمبولینس کے ذریعے امداد فراہم کی جاتی ہے۔ کافر ملکوں میں ہیلی کاپٹرز کو وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا گورنر کی آمد ورفت کی بجائے مصیبت میں پھنسے لوگوں کی امداد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جن ملکوں میں کوئی سسٹم موجود ہے وہاں مصیبت میں پھنسے ہوئے معصوم بچے امداد کے لئے بے حس لوگوں کے رحم و کرم پر نہیں ہوتے۔ حکومتی نظام ایسے موقع پر ان کے کام آتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭