مشاعرے


عام طور پر کہا جاتا ہے کہ برطانیہ اور یورپ کے مختلف ملکوں میں اردو زبان و ادب کی بقاء اور ارتقاء کے لئے مشاعرے ایک اہم ذریعہ ہیں جن کے طفیل دیار غیر میں اردو کی شعری روایت پروان چڑھ رہی ہے اور سات سمند پار اردو شعر و سخن کی شمع روشن ہے۔ مشاعرے میں جب کوئی شاعر سامعین سے براہ راست مخاطب ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف سننے والوں کے شعری ذوق کی تسکین ہوتی ہے بلکہ شاعر کو اپنے کلام کے فوری تاثر کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ مشاعرے کے بہانے شاعروں کو آپس میں مل بیٹھنے اور ایک دوسرے کو سننے کا موقع بھی میسر آتا ہے جو ان کے لئے مزید نئی شاعری کی تحریک کا سبب بنتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو زبان کے قدردان موجود ہیں وہاں وہاں مشاعروں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک زمانے میں مشاعروں کو ادبی، تہذیبی اور ثقافتی اقدار کے اظہار کا اہم وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔ مشاعرے برصغیر کی ادبی زندگی کا اہم جزو رہے ہیں جن کا انتہائی سلیقے سے بڑے پیمانے پر اہتمام کیا جاتا تھا۔ ان معاشروں میں نامور شعراء کو سننے کے لئے اہل ذوق کا جم غفیر امڈ آتا تھا اور یہ سخن فہم کبھی ادب آداب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ ہر وقت تہذیبی رویے کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا مگر اب مشاعروں کو کسی حد کت محض تفریح کا ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے۔ برطانیہ میں مشاعروں کے انعقاد کا سلسلہ یہاں اہل ادب کی آمد کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ تقریباً 4دہائیاں پیشتر جب اس ملک کے مختلف شہروں میں پاکستانی اور کشمیری آباد ہونا شروع ہوئے تو ادبی نشستوں کا آغاز ہوا جس کے بعد چراغ سے چراغ جلتا گیا اور اب برطانیہ کے علاوہ جرمنی، فرانس، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، ہالینڈ، اٹلی اور یورپ کے دیگر کئی ملکوں میں مشاعروں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

لندن میں اردو مرکز کے قیام نے برطانیہ کی ادبی فضا کواردو شعرو ادب کے فروغ کے لئے سازگار بنایااور درجنوں ایسی شاندار ادبی محفلیں منعقد کیں جنہیں لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ اردو مرکز کے خاتمے کے بعد لندن (جسے اردو کا تیسرا بڑا مرکز کہا جاتا ہے) میں اردو کے حوالے سے بڑی تقریبات کی ضرورت کو محسوس کیا جانے لگا۔ کئی ادبی تنظیموں نے مختلف نوعیت کی اردو کانفرنسز اور سیمینارز کے انعقاد سے اس کمی کو پورا کیا لیکن عالمی مشاعروں کی طرح شاہد علی سید نے ڈالی۔ انہوں نے پہلے مشاعرے کا اہتمام 1996ء میں کیا۔ فاصلے انٹرٹینمنٹ کے تحت کوئین ایلزبتھ ہال میں ہونے والے اس مشاعرے میں احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، ضمیر جعفری، احمد فراز، افتخار عارف، انور مسعود، سلیم کوثر اور دیگر شعراء نے شرکت کی۔ اس مشاعرے میں نامور شعرا کو اہل ذوق کی بڑی تعداد نے ٹکٹ خرید کر سنا۔ اس کامیاب مشاعرے کے بعد اگلے برس شاہد علی سید نے ایک اور عالمی مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں زہرا نگاہ، عبید اللہ علیم، سلیم کوثر، عطاء الحق قاسمی، شاہدہ حسن، جمال احسانی، اسد مفتی، عقیل دانش، مظہر ترمذی، ارشد لطیف اور راقم نے شرکت کی۔ اس مشاعرے کی نظامت معروف براڈ کاسٹر رضا علی عابد نے کی۔ 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں اردو زبان کے نامور ادیب اور شاعر برطانیہ کے مختلف شہروں میں آتے تھے جہاں ان کی بے حد پذیرائی کی جاتی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان سے شاعروں کی ٹولیاں اور قافلے لندن آتے تو اردو مرکز اور دیگر تنظیمیں ان کے اعزاز میں استقبالیوں اور مشاعروں کا اہتمام کرکے اہل ذوق اور سخن فہم لوگوں کو ان سے ملاقات کا موقع فراہم کرتیں لیکن پھر کچھ مہمان شاعروں نے اپنے برطانوی میزبانوں سے طرح طرح کی فرمائشیں کر کے انہیں ایسا زچ کیا کہ انہوں نے آئندہ کے لئے اردو کے کسی بھی شاعر یا ادیب کی پذیرائی سے توبہ کر لی۔ خاص طور پر وہ شاعر جو پہلی مرتبہ برطانیہ یا یورپ کے کسی ملک میں آتے ہیں ان کے تصورات مغربی معاشرے کے بارے میں بالکل اور طرح کے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی بہت سی ناآسودہ خواہشوں کے خواب لے کر سات سمندر پار آتے ہیں اور اپنے میزبان کو ان خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کا ذمہ دار سمجھنے لگتے ہیں۔ کرونا کی وبا کے باعث گذشتہ دو برس سے برطانیہ میں بڑی تقریبات اور مشاعروں کا سلسلہ معطل ہے۔ اس لئے آن لائن عالمی مشاعروں کی بھرمار ہو چکی ہے اور ان مشاعروں کو براہ راست دیکھنے اور سننے والوں کی تعداد بھی اتنی ہی ہوتی ہے جتنے شعراء اس میں اپنا کلام سنانے کے لئے شریک ہوتے ہیں۔ ان آن لائن مشاعروں نے اینکر پرسن شاعروں تک بندوں اور متشاعروں کی تعدادکو بھی لامحدود کر دیا ہے۔ آن لائن مشاعروں کی میزبانی اور بے تکی شاعری کو آسان ذریعہ شناخت سمجھ لیا گیا ہے۔ اس لئے اب ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی والا معاملہ عروج پر ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ برطانیہ میں بھی کسی بے وزن شعر کہنے والے کو مشاعرے میں کلام سنانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور اب یہ عالم ہے کہ اگر کسی مشاعرے میں 15شاعر شریک ہوں تو ان میں سے دو چار ہی ایسے ہوں گے جو وزن میں شعر سنا سکتے ہوں۔ جس طرح پاکستان میں جمہوری اور سیاسی اقدار پر کرپٹ مافیا کا قبضہ ہو چکا ہے اسی طرح اردو شاعری بھی تک بندوں اور متشاعروں کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے باعث اب شاعری کے نام پر تک بندی کو فروغ مل رہا ہے۔ جب لوگ بھارتی کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سدھو اور موسیقار انو ملک کی تک بندی کو شاعری سمجھ کر داد دینا شروع کر دیں تو وہاں معیاری اور اچھی شاعری کے قدر دانوں اور اہل ذوق کو تلاش کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ مشاعروں میں ملنے والی داد اور واہ واہ سے بہت سے سامعین کو یہ مغالطہ ہو جاتا ہے کہ وہ بھی شعر کہہ سکتے ہیں اورمشاعروں کی زینت بن کر اپنی پہچان کو نمایاں کر سکتے ہیں اور اگر ایک بار ان کو تک بندی پر داد مل جائے تو پھر وہ خود کو احمد فراز اور پروین شاکر کے ہم پلہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اردو شاعری کی لاج اور معیاری مشاعروں کا بھرم قائم رکھنے کے لئے لازمی ہے کہ تک بندی اور بے وزن شاعری کرنے والوں کو اسٹیج پر زحمت کلام نہ دی جائے۔ اس سلسلے میں مجاہد علی سید اور شاہد علی سید جیسے شاندار منتظمین کو چاہئے کہ وہ معیاری ادبی تقریبات اور مشاعرے کرانے کے خواہشمندوں کی رہنمائی کریں کیونکہ ان دونوں برادران نے بالترتیب اوسلو(ناروے) اور لندن میں جس سلیقے سے بے مثال عالمی مشاعروں کا اہتمام کیا ان کی خوشگوار یادیں آج بھی سخنوروں اور سخن فہموں کے حافظے میں تازہ ہیں۔ اب اگرچہ بہت سی چیرٹی آرگنائزیشنز کچھ نامور شعراء اور خاص طور پر مزاحیہ شاعروں کو مہمان بنا کر مشاعروں یا چیرٹی ایونٹس کا اہتمام کر کے فنڈز بھی اکٹھا کر لیتی ہیں لیکن لندن میں معیاری ادبی تقریبات اور عالمی مشاعرے کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں اکرم قائم خوانی اور ان کے احباب ہر سال لندن میں فیض میلے کا اہتمام کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں ادبی گہما گہمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اردو کے باذوق اور سخن شناس لوگوں کو اس نوعیت کے میلوں اور تقریبات کی بھرپور پذیرائی کرنی چاہئے جن کی وجہ سے ہمارا ادبی ماحول جمود کا شکارہونے سے محفوظ ہے۔
٭٭٭٭