وزیراعظم کا دورہ روس اور یوکرین کی جنگ

وزیراعظم عمران خان کا دورہ روس بڑی اہمیت کا حامل ہے اس بارے میں بعض دانشور صحافی اور سیاسی رہنما خدشات کا اظہار کر رہے ہیں جب یہ دورہ شیڈول ہو رہا تھا یہ دو ملکوں کے تعلقات تک محدود نہیں تھایہ دو طرفہ تعلقات پر مبنی تھا جب دورہ کا وقت آیا تو یہ علاقائی سیاست پر اثرانداز ہونے والا دورہ بن گیا جب دورہ ہوا تو یہ بین الاقوامی حالات پر اثرانداز ہونے والا دورہ بن گیاپاکستان اور روس کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز ہوا ہے بعض بین الاقوامی قوتوں کی خواہش اور کوشش کے باوجود پاکستان تنہائی کا شکار نہیں ہوا چین اور روس سے تعلقات نے خطے میں پاکستان کی اہمیت کو مزید دوچند کر دیا ہے پاکستان اب جنوبی ایشیا کی سیاست کا چیمپئن بن گیا ہے دورہ روس سے مغرب اور امریکہ کو پیغام گیا ہے کہ پاکستان اہم ملک ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا پاکستان جس کے ساتھ ہو گا خطے میں بالادستی اس کی ہو گی ہمارے توانائی اور اقتصادی معاملات اپنی جگہ اس پر بھی روس سے بات ہوئی ہو گی لیکن اسلامو فوبیا پر روس کا مغرب سے ہٹ کر موقف اور اس معاملہ پر پاکستان کی آواز کے ساتھ آواز ملانے سے اسلامی ممالک کے اندر روس کے لیے ہمدردی پیدا ہو گی روس اس دورے سے دنیا کوتاثر دینا چاہتا تھاکہ میں جو گروپنگ کر رہا ہوں اس میں خطے کے ناراض ممالک بھی آج میرے ساتھ ہیں افغانستان میں روس کے خلاف جنگ میں اور دہشتگردی کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے والا آج میرے ساتھ ہے آج ون بیلٹ ون روڈ پر خطے کے ممالک اکھٹے ہو گئے ہیں اور چین نے جو اقتصادی سفر شروع کیا ہے اس میں سارے اکھٹے ہو رہے ہیں پاکستان نے اس دورہ سے اپنی اہمیت بھی واضح کی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ہمیں نظر انداز کرنا آسان نہیں ہمارے پاس متبادل راستے بھی ہیں جہاں تک روس یوکرین کی جنگ کا مسئلہ ہے تو اس بارے میں یہ سمجھنا ہوگا کہ یوکرین اور اس کے ساتھ واقع دوسری ریاستیں اتنی آزاد نہیں جتنی سمجھی جا رہی ہیں ان کی آزادی مشروط تھی یوکرین کے یورپ میں جانے بارے روس کے تحفظات تھے پاکستان کا اس حوالے سے پہلے دن سے موقف بڑا واضح ہے ہم ڈپلومیٹک حل کے حق میں ہیں امریکہ نے یوکرین کو شیر بن شیر بن میں تیرے ساتھ ہوں کی ہلہ شیری دے کر مروا دیا ہے پہلے اسے کہا جاتا رہا ہم تمھاری جنگ لڑیں گے وقت آنے پر امریکہ اور اس کے اتحادی صرف بیان بازی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

امریکہ نے روائیتی چال چلی کچھ لوگ اسے تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ بتا رہے ہیں میرے خیال میں ان لوگوں نے دوسری جنگ عظیم کو صیح معنوں میں پڑھا نہیں اس وقت کیا ہوا تھا کتنی تباہی آئی تھی اس کا اختتام کیا تھا انسانیت کے ساتھ کیا ہوا تھا ہٹلر جیسے ضدی کو کیا سبق دیا یہ دوسری جنگ عظیم کے خطرناک نتائج ہی تھے کہ ابھی تک تیسری جنگ عظیم نہیں ہوئی اور ساتھ ہی جو لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ کے اتحادی مل کر روس کے خلاف یوکرین کی جنگ لڑی لڑیں گے وہ افغانستان میں اتحادیوں کی حالت بھول گئے ہیں امریکی شہریوں سے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ72فیصد امریکی جنگ کا حصہ بننے کے مخالف ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اس تنازعہ میں امریکہ کو معمولی کردار ادا کرنا چاہیے یا بالکل نہیں کرنا چاہیے اس ایشو پر دنیا تقسیم ہو چکی ہے اور یہ تقسیم بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے روس کے دورہ کے بعد پاکستان کو انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا ہمیں ایوب خان کے دورہ تاشقند کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جس کے بعد ایوب خان کا امیج خراب کیا گیا تھا بین الاقوامی قوتیں ہمارے حالات خراب کر سکتی ہیں ہماری سیاست میں مداخلت ہو سکتی ہے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور لانگ مارچ کو ہوا دی جا سکتی ہے مغرب کا میڈیا اس بارے میں کردار ادا کر سکتا ہے قوم کو اس بارے نظر رکھنا ہو گی کسی بیرونی ایجنڈے کو پنپنے نہ دیا جائے حکومت کو بھی توجہ دینی ہوگی اور ہماری سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی سیاسی جنگ گھر تک محدود رکھنا ہو گی ماضی میں جب بھی ہماری سیاست میں غیر ملکی مداخلت ہوئی اس کا انجام مارشل لاء پر منتج ہوا جہاں تک وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا معاملہ ہے میرا خیال ہے کہ اگر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی فضاء بن رہی ہوتی تو روس کبھی ان کے دورہ کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچاتا نہ ہی ان کے دورے کو اتنی پذیرائی ملتی کیونکہ جانے والوں کو کوئی منہ نہیں لگاتا ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ترکی میں طیب اردگان کے خلاف بغاوت کی اطلاع روس کی انٹیلیجنس ایجنسی نے دی تھی اور روس نے بروقت طیب اردگان کو مطلع کر کے ان کو بچا لیا تھا اگر عمران خان کے اقتدارِ کو سنجیدہ خطرہ ہوتا تو روس وچین کبھی بھی عمران خان کے دورے کے لیے سہولتیں فراہم نہ کرتے وزیراعظم کے دورہ روس عمران خان اور پیوٹن کے تعلقات نہیں یہ پاکستان اور روس کے تعلقات ہیں آئیندہ بھی جو حکومت آئے گی وہ اسے آگے بڑھائے گی یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے اسے ہمیں کسی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیئے حزب اختلاف کو بھی چاہیے کہ وہ اسے سبوتاژ نہ کرے اپنا کھیل اپنے تک ہی محدود رکھا جائے۔