پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کی وجوہات

ہمسایوں کے اثرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا جاسکتا لیکن پچھلے چالیس سال سے افغانستان کے تمام تر معاملات ہم بھگت رہے ہیں افغانستان کی خاطر دو عالمی جنگیں لڑ کر اس کا خمیازہ ہم بھگت چکے وہاں کی اقتصادی صورتحال کا سامنا ہمیں کرنا پڑتا ہے مہاجرین کا بوجھ ہم برداشت کر رہے ہیں ان کے کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کے بھی ہم ذمہ دار ہیں غرضیکہ وہ پورے طور پر ہمارے کھاتے پڑ چکے ہم نے ان سے قریب ہو کر بھی دیکھ لیا ان سے دوری اختیار کر کے بھی دیکھ لیا نہ دنیا ان سے ہمیں علیحدہ ہونے دیتی ہے اور نہ ہی ان کا ہمارے بغیر گزارا ہے البتہ پاکستان نے نامساعد حالات کے باوجود ایک اچھا کام کیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگا کر شتر بے مہار آمدورفت کو روک لیا ہے یہ باڑ ابھی مکمل نہیں ہوئی پاکستان کو ہر وقت حالت جنگ میں رکھنے والوں کو یہ باڑ ہضم نہیں ہو رہی اس کو ختم کرنے کے لیے بھی حملے ہو رہے ہیں لیکن پاکستان قربانیاں دے کر اسے محفوظ بنائے ہوئے ہے یہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کا ثمر ہے کہ ہم پوری دنیا کے ساتھ افغانستان کا کیس لڑ رہے ہیں ہم جو مرضی کر لیں ہمیں پتہ ہے کہ وہاں کے حالات کے اثرات سے ہم بچ نہیں سکتے ایک خوشحال اور پرامن افغانستان ہی پرامن پاکستان کی ضمانت ہے۔

امریکہ کا افغانستان میں عالمی طاقتوں کے ساتھ داخل ہونا اس کی بہت بڑی غلطی تھی جس کا اس نے شکست کا داغ کی صورت میں خمیازہ بھی بھگتا لیکن وہ افغانستان سے پرامن انخلاء کے بعد اپنی شکست کا بدلہ اتنے خوبصورت انداز میں لے رہا ہے کہ اس بدلے پر نہ افغانی رو سکتے ہیں نہ داد دے سکتے ہیں امریکہ اس وقت تک مجبور تھا جب تک وہ افغانستان میں موجود تھا افغانستان سے انخلاء کے بعد وہ اپنی چالبازیوں سے افغانستان اور پاکستان کو سبق سیکھا رہا ہے کہتے ہیں بھوک ننگ انسان کو کفر تک لے جاتی ہے انسان وہ والے کام بھی کر گزرتا ہے جس کی سوچ سے بھی اس کی روح کانپ جائے جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں موجود تھے افغانیوں کی موجیں لگی ہوئی تھیں وہ ان کو مارتے بھی تھے اور ان کی روزی روٹی کا معاملہ بھی چل رہا تھا اب افغانیوں کے پاس کرنے کا کوئی کام نہیں ان کی روزی روٹی کا سامان ہی جنگ میں ہے اور جنگ کے علاوہ انھیں آتا بھی کچھ نہیں غیر ملکی افواج کی موجودگی میں ان کی ضروریات کی اشیاء افغانستان میں آتی تھیں اس میں سے افغانی کچھ چھین کر کچھ سمگلنگ کی صورت میں حاصل کر لیتے تھے ڈالروں کی لہریں بہریں تھیں کنٹریکٹروں کی موجیں تھیں افغانستان کا کام چل رہا تھا امریکہ نے جان چھڑانے کے لیے ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کیا اور طالبان کو باور کروایا کہ ہم تمھیں آزادی دیتے ہیں تم ہمیں یہاں سے نکلنے کا محفوظ راستہ دو اس محفوظ انخلاء کے لیے امریکہ نے پاکستان قطر سعودی عرب متحدہ عرب امارات کویت اور ترکی کو خوب استعمال کیا اور باحفاظت اپنی جان چھڑوا کر گھر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اس وقت پوری دنیا امریکہ کو بھاگ جانے شکست کھانے کے طعنے دے رہی تھی لیکن امریکہ نے خوبصورت چال کے زریعے نہ صرف افغان جنگ سے جان چھڑوائی بلکہ اپنے وسائل بچائے آج امریکہ گرم کمروں میں بیٹھ کر افغانیوں کی بے بسی کو انجوائے کر رہا اور بغیر جنگ کے اپنی چالوں سے افغانیوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے آج افغانیوں کی جان کو لالے پڑے ہوئے ہیں امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کے بعدآنکھیں ماتھے پر رکھ لی ہیں تو کون اور میں کون افغانیوں کے زرمبادلہ کے ذخائر منجمند کر دیے ہیں اور ساتھ ہی دنیا کو باور کروادیا کہ خبردار افغانستان کی کوئی مدد نہ کرے اور غیر محسوس طریقے سے افغانیوں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔

موسم سرما میں افغانستان میں زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے اب افغانستان کا سارا ملبہ پاکستان پر آن پڑا ہے پاکستان میں مہنگائی کی ایک وجہ افغانستان میں خوراک کابحران بھی ہے پاکستان خوراک کے حوالے سے جو مدد کر رہا ہے اس کے علاوہ پاکستان سے خوراک سمگل ہو کر افغانستان جا رہی ہے پاکستان سے ڈالر خرید کر افغانستان جا رہا ہے پاکستان میں کرنسی ڈی ویلیو ہونے کے پیچھے بھی افغانستان ہے افغانستان میں جنم لینے والا انسانی المیہ خطے کے ممالک کو بھی متاثر کر رہا ہے اور سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر مرتب ہو رہے ہیں افغانستان میں بھوک ننگ کے مارے لوگوں کو کوئی بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے خاص کر پاکستان وارداتوں کا آسان ہدف ہے پاکستان کے دشمن اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو ڈسٹرب کرنا چاہتے ہیں آج پاکستان میں دہشتگردی کی جو وارداتیں ہو رہی ہیں اس کے پیچھے بین الاقوامی قوتوں کا سرمایہ اور افغانستان کی افرادی قوت کام کر رہی ہے ان کا ٹارگٹ بلوچستان ہے لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں بھتہ اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں شروع ہو گئی ہیں اور اس کے پیچھے بنیادی طور پر افغانستان کی بھوک ننگ ہے اگر افغانستان کے المیہ کو ہینڈل نہ کیا گیا تو اس کے خوفناک اثرات مرتب ہوں گے پاکستان کو ان اثرات سے بچنے کے لیے حکمت عملی طے کرنی چاہیے