وکٹوریہ اور عبدل

یہ وہی یونائیٹڈ کنگڈم ہے جو سمٹ کر اب ترانوے ہزار چھ سو اٹھائیس 63,628 مربع میل تک محدو ہوگیا ہے اور جس کی آبادی پونے سات کروڑ افراد پر مشتمل ہے اور جہاں سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ کی آزادی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ برٹش راج 65ممالک تک پھیلا ہوا تھا اور کہا جاتا تھا کہ برٹش ایمپائر کی وسعت اتنی ہے کہ وہاں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا اور آج بھی آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ سمیت 35ممالک ایسے ہیں جن کے کرنسی نوٹوں اور سکوں پر ملکہ برطانیہ یعنی کوئین ایلزبتھ کی تصویر ہوتی ہے۔ برطانوی شاہی خاندان کی تاریخ انتہائی دلچسپ اور عجیب واقعات و حادثات سے بھری ہوئی ہے۔ کسی کو پاگل پن اور دیوانگی کے مسائل کی وجہ سے بادشاہت چھوڑنی پڑی تو کسی نے اپنی محبت کی وجہ سے شاہی تاج کو ٹھکرا دیا، کوئی برطانوی بادشاہ اولادِ نرینہ سے محروم رہا تو کسی کو جائز اولاد نہ ہونے کے سبب شاہی اعزاز نصیب نہ ہوسکا۔ برطانیہ کے شاہی خاندان میں سب سے زیادہ عرصے تک ملکہ کے منصب پر فائز رہنے کا اعزاز کوئین ایلزبتھ کے پاس ہے۔ وہ 6/فروری1952ء کو ملکہ بنی تھیں یعنی ان کی تاج پوشی کو ستر برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ ملکہ برطانیہ کے تاج، جواہرات اور زیورات ٹاور آف لندن کے عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھے جاتے ہیں اور ان کی مالیت کا اندازہ اربوں پاؤنڈز میں لگایا جاتا ہے۔ جبکہ برطانوی شاہی خاندان کے محلات اور رہائش گاہوں کی مالیت بھی14 بلین ڈالرز سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ملکہ برطانیہ اس وقت دنیا کی واحد شخصیت ہیں جنہیں کسی بھی ملک میں جانے کے لیے کسی پاسپورٹ کی ضرورت نہیں۔ برطانوی شاہی خاندان کے عروج کازمانہ وہ تھا جب الیگزینڈریا وکٹوریہ برطانیہ کی ملکہ بنیں وہ20 جون 1937ء کو 18برس کی عمر میں اس منصب پر فائز ہوئیں اور ان کی تاجپوشی کی رسم کا اہتمام28 جون1938 کو کیا گیا۔ وہ کنگ ولیم ہیری کی وفات کے بعد ملکہ بنائی گئیں۔ اور وہ مرنے والے بادشاہ کے بھائی پرنس ایڈورڈ کی بیٹی تھیں۔ کنگ ولیم چہارم کی کوئی جائز اولاد نہیں تھی۔ اس لیے شاہی منصب کم سن وکٹوریہ کے حصے میں آیا اور وہ تقریباً63برس تک وسیع برطانوی سلطنت کی ملکہ رہیں اور ان کا عہد حکومت وکٹورین دور کہلاتا ہے۔ انہیں 1876ء میں برطانیہ کی طرف سے ایمپریس آف انڈیا کا ٹائٹل بھی دیا گیا۔21برس کی عمر میں ملکہ وکٹوریہ نے اپنے کزن پرنس البرٹ سے اپنی پسند کی شادی کی۔ وکٹورین عہد میں دنیا بڑی بڑی اقتصادی تبدیلیوں کے مرحلے سے گزری۔ اسی دور مین صنعتی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی۔ برطانیہ سے پہلا ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ لندن اور برمنگھم کے درمیان دنیا کی پہلی ریلوے لائن بچھائی گئی۔ پہلا الیکٹرانک ٹیلی گراف سسٹم اور ٹیلی فون متعارف ہوا اور برطانیہ مین بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کا قانون منظور کیا گیا۔

ملکہ وکٹوریہ کا قد 4فٹ11انچ تھا اور بچپن سے ہی ان کی تربیت ایک جرمن خاتون لیزن نے کی تھی اسی لیے ملکہ کو ابتدائی عمر سے ہی مختلف زبانیں سیکھنے کا شوق تھا اور وہ جرمن کے علاوہ فرانچ، اطالوی اور لاطینی زبانوں سے بھی آشنا تھیں اور اردو زبان سیکھنے میں بھی دلچسپی رکھتی تھیں۔ ملکہ وکٹوریہ شاہی خاندان کی وہ پہلی فرد تھیں جنہوں نے بکنگھم پیلس میں رہائش اختیار کی۔38برس کی عمر تک وہ 9 بچوں کی ماں بن چکی تھیں اور اُن پر کئی قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔ 1887ء میں ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی کے سلسلے میں لندن سمیت پورے برطانیہ میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پرملکہ اور شاہی خاندان کے لیے ہندوستان سے دو خدمت گار انگلستان لائے گئے جن میں سے ایک کا نام عبدالکریم تھا۔ یہ24سالہ نوجوان آگرے کی جیل میں محرر تھااور اسے انگریزی زبان سے بھی خاطر خواہ واقفیت تھی اسی لیے عبدالکریم کو ویٹر کے طور پر شاہی خاندان کی خدمت پر مقرر کیا گیا۔ملکہ وکٹوریہ کو یہ نوجوان اچھا لگا اورپھر رفتہ رفتہ ملکہ عبدالکریم سے ہندوستان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی لینے لگیں اور یوں وہ ہندوستانی زبان اردو سے بھی واقف ہوئیں اور اس زبان کو سیکھنے کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا۔ نوجوان نے ملکہ کو اردو زبان سکھانے کی ذمہ داری لے لی اور یوں عبدالکریم کو شاہی دربار میں منشی اور انڈین کلرک کا درجہ مل گیا۔ کوئین وکٹوریہ نے عبدالکریم کو خصوصی اہمیت دینے کے لیے کئی طرح کے احکامات بھی جاری کیے اور اپنے نوجوان منشی کے آرام کا خیال رکھنے کے لیے خصوصی ہدایات دیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منشی عبدالکریم پر ملکہ کا اعتبار بڑھتا گیا جو شاہی خاندان کے بعض افراد اور خصوصاً ولی عہد البرٹ ایڈورڈ(برٹی) کو بہت کھلنے لگا، اسی طرح ملکہ کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریڈ کو بھی منشی عبدالکریم سے خدا واسطے کا بیر ہوگیا۔ منشی عبدالکریم کے والد آگرہ کے انگلش میڈیکل سکول کے سند یافتہ معالج تھے اور آگرہ کی جیل میں ایک ڈاکٹر کے طور پر متعین تھے۔ ڈاکٹر ریڈ نے ملکہ کے کان بھرنا شروع کر دئیے کہ منشی عبدالکریم کے والد آگرے میں کوئی تربیت یافتہ معالج نہیں بلکہ ایک دیسی نام نہاد ڈاکٹر ہیں۔ کوئین وکٹوریا نے اپنے منشی اور اس کے خاندان کے بارے میں کسی بھی قسم کی منفی باتوں کو درخورِِ اعتنا نہ سمجھا بلکہ عبدالکریم پر اور زیادہ اعتماد کرنے لگیں یہاں تک کہ ان کے روزمرہ کے اہم کاغذات اور دستاویزات منشی کی دسترس میں رہنے لگیں۔ عبدالکریم کی وجہ سے ملکہ وکٹوریہ کے دل میں ہندوستان جانے کی خواہش جاگی اور اس خواہش کا اظہار انہوں نے اپنی ایک بہو کو خط لکھ کر بھی کیا جو اس وقت اپنے شوہر کے ساتھ ہندوستان گئی ہوئی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ملکہ نے اپنے ذاتی سیکرٹری کو لکھے جانے والے ایک مکتوب میں منشی عبدالکریم کی خاموش طبیعت، نفاست، ذہانت، مستعدی، فرض شناسی اور خوش ذوقی کی بڑی تعریف کی۔ 1890ء کی ابتداء میں منشی عبدالکریم بیمار ہوئے تو ملکہ نے ان کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی بلکہ وہ اُن کی تیمارداری کے لیے ان کی رہائش گاہ پر جاتیں جو کہ شاہی محل کے اندر ہی واقع تھی۔ ایک بار منشی عبدالکریم 6ماہ کی تعطیلات پر ہندوستان گئے تو کوئین وکٹوریہ نے وائسرائے کو خصوصی احکامات جاری کیے کہ میرے منشی کو ان کے آبائی علاقے میں سرکاری زمین الاٹ کی جائے جو کہ کردی گئی۔ عبدالکریم ہندوستان سے واپس آئے تو اپنی بیگم اور ساس کے علاوہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی انگلستان لے آئے جن کی آمد پر ملکہ نے نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ ان کے لیے رہائش اور مراعات کا خصوصی اہتمام کیا جس سے محل میں کھلبلی مچ گئی اور منشی عبدالکریم کے حاسدوں کے سینے پر مونگ دلا جانے لگا۔ ملکہ نے12دسمبر1893 ء کو عبدل کے نام ایک خط لکھا جس میں انہوں نے خود کو منشی عبدالکریم کی ماں تحریر کیا اور اس خط کے آخر میں دستخط اردو میں کئے۔ ملکہ جب سکاٹ لینڈ یا فرانس کے دورے پر گئیں تو عبدالکریم بھی ان کے ہمراہ تھے۔ 22 جنوری1901ء میں ملکہ کی وفات تک وہ اُن کے ساتھ رہے۔ منشی عبدالکریم نے اپنی سوانح عمری لکھنے کا بھی ارادہ کیا تھا لیکن پھر مصلحتاً اس ارادے کو ترک کردیا۔ اپنی زندگی میں ملکہ نے انہیں کئی سرکاری اعزازات اور انعامات سے بھی نوازا۔ کوئین وکٹوریہ کے اس دنیا چے چلے جانے کے بعد منشی عبدالکریم واپس آگرے چلے گئے اور باقی زندگی دل گرفتگی اورخاموشی سے گزاری اور اپریل1909ء میں بہت سے راز اپنے سینے میں لے کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ منشی عبدالکریم ملکہ وکٹوریہ کے عہد کا ایک اہم باب تھے۔ اُن کے بارے میں نامور براڈ کاسٹر اور ادیب رضا علی عابدی کی کتاب ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم بہت دلچسپ دستاویزی مجموعہ ہے جبکہ سٹیفن فرئیرز کی فلم وکٹوریہ اینڈ عبدل بھی دیکھنے کے لائق ہے جسے انتہائی سلیقے اور شاندار طریقے سے2017ء میں فلمایا گیا اور اس فلم کو اکیڈمی ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔