یوم یکجہتی کشمیر پر سویڈن میں پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے ویبینار کا اہتمام

سٹاک ہوم سویڈن میں گزشتہ روز پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے ایک خصوصی ورچوئل تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کے اہم مقررین میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، سویڈش پارلیمنٹ کے رکن مسٹر سرکن کوزے، کشمیر پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرپرسن شہریار خان آفریدی، برطانیہ میں ایوان بالا کے رکن لارڈ واجد خان، سولنا سویڈن میں اپوزیشن کی میئر مسز سارہ کوکا سلام، ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشیا سٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر ماریہ سلطان اور سویڈن میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ظہور احمد صاحب کے نام شامل تھے۔ اس تقریب میں سویڈن کے لوکل صحافیوں اور پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن نے بھی شرکت کی ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، پاکستانی سفیر ڈاکٹر ظہور احمد صاحب نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہادر لوگوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی قیادت اور عوام دونوں حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی تقریب کا مقصد بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل مذمت کے ساتھ ساتھ عالمی برادری پر زور دینا بھی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم لوگوں کی حمایت میں آواز بلند کرے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر صرف علاقے کا تنازعہ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا بھی مسئلہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کا منصفانہ اور دیرپا حل ہی واحد راستہ ہے اور خطے میں اسی سے ہی پائیدار امن اور ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

سویڈش پارلیمنٹ میں کشمیر کو اجاگر کرنے پر اپنے کام کے بارے میں شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے، حکمران سوشل ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سویڈش پارلیمنٹ کے رکن مسٹر سرکن کوزے نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے بھارتی حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور میڈیا اور مواصلات کی بے مثال بلیک آؤٹ کے ذریعے مقبوضہ علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

سویڈش شہر سولنا میں اپوزیشن کی میئر مسز سارہ کوکا سلام نے کہا کہ ہندوستان کا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرنا منافقانہ ہے، کیونکہ وہ مقبوزعہ کشمیر میں دہشت گردی کی ظالمانہ کارروائیوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام 70 سال سے زائد عرصے سے انسانی حقوق کی بے پناہ خلاف ورزیوں اور من مانی حراستوں کا شکار ہیں۔ انہوں نے کشمیری سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور تنازعہ کشمیر کے پرامن حل پر زور دیا۔

مقبوزعہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، برطانیہ کے لارڈ واجد خان نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر کشمیری عوام کو بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا خون یورپیوں سے سستا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریبات، ویبینرز اور ورکشاپس کے انعقاد کے ذریعے کشمیر کاز کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوزعہ کشمیر کے ان لوگوں کی حمایت میں آواز بلند کرے جو ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت سے محروم ہیں۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ بھارتی قابض افواج غیر قانونی آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے کشمیریوں کے تشخص اور ثقافت پر حملے کے ذریعے دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستانی پارلیمنٹ میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے کہا کہ مقبوزعہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلوں، عصمت دری اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کی شکل میں انسانی مصائب ناقابل بیان ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آج کے ہندوستان پر فاشسٹ اور آر ایس ایس کے نظریے کی حکمرانی ہے جس کے انتہا پسند نظریے میں مسلمانوں یا دیگر اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ سے حکمران بی جے پی نے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے مزید ظالمانہ طریقے اختیار کیے ہوئے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ آزادی پر یقین رکھنے والے لوگ بھارتی قابض افواج کے خلاف منصفانہ جدوجہد میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ دنیا بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیری عوام کے خلاف دہشت گردی کی جارحانہ شکل دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج تمام بین الاقوامی اصولوں اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف کشمیریوں کو ہندوستانی شناخت کے حق میں اپنی کشمیری شناخت کو ترک کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ دائیں بازو کے ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے اغوا، عصمت دری اور زیادتی کے اندۂ ناک واقعات بھی رپورٹ ہورہے ہیں۔

کشمیر کونسل سویڈن کے صدر سردار تیمور عزیز کشمیری اور کشمیر کمیٹی سویڈن کے جنرل سیکٹری عامر جبار ملک نے بھی انڈین مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیری بھائی بہنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور انکے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا عہد کیا۔ تقریب کے دوران انڈین مقبوضہ کشمیر پر ایک مختصر دستاویزی فلم بھی چلائی گئی اور پاکستانی صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔