عدم اعتماد یا عدم استحکام

پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ سیاسی حالات زیر بحث ہیں ہر کوئی یہ جاننے کی کوشش میں ہے کہ کیا ہونے جا رہا ہے اپوزیشن کیا تیر آزما رہی ہے اور حکومت کس قسم کی دفاعی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے اپوزیشن تا حال اپنے پتوں کو ہوا نہیں لگوا رہی بظاہر حکومتی اتحادی بھی حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ایسے ناراض ارکان کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں جو حکومت کو چھوڑ کر اپوزیشن کے کھیل کا حصہ بن چکے ہیں لیکن پہلی بار دال میں کچھ کالا نظر آ رہا ہے حکومت کو سنجیدہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ پاکستانی سیاستدانوں کو اپنے آپ پر اعتماد نہیں انھیں جب تک اندرون ملک سے یا بیرون ملک سے کوئی اشارہ یا آسارہ نہیں ہوتا یہ متحرک نہیں ہوتے یار لوگوں کا کہناہے کہ اپوزیشن کو اندرون ملک سے نہیں بیرونی قوتوں سے اشارہ ہوا ہے کہ کام چک کے رکھو ہم تمھارے ساتھ ہیں اور اس کام کے لیے جہاں کہیں اخراجات کی ضرورت ہو گی وہ بھی دستیاب ہوں گے بڑا پیسہ دیکھ کر بڑے بڑوں کے منہ میں پانی آ جاتاہے یہ باتیں بھی زبان زد عام ہیں لیکن اس سے کون کون مستفید ہوا ہے اور کون کون مستفید ہونے جا رہا ہے اس بارے ابھی تک کاروبار پوشیدہ ہے اور یہی راز داری کامیابی کی ضمانت سمجھی جا رہی ہے حکومت کی مدت میں سوا سال باقی رہ گیا ہے کئی ارکان اسمبلی یہ بھی سوچتے ہوں گے کہ اگر اگلے الیکشن کے لیے کسی خرچے پانی کا بندوبست ہوتا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ اس سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے نہ سہی کسی دوسری جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ لیں گے بلکہ کئی تو آزاد الیکشن لڑنے کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ جس کی بھی حکومت بنے گی اس میں ایڈجسٹمنٹ آسانی سے ہو جائے گی اور مول بھی زیادہ پڑے گا سیاست کا انتخابی پہلو اپنی جگہ پر لیکن اس وقت جو حکومت کو گھر بھیجنے کی جدوجہد ہو رہی ہے اس کے ہماری سیاست ،معاشرت، سیکورٹی،پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس بارے میں کسی نے سوچا ہے اصل معاملہ عدم اعتماد سے بڑھ کر عدم استحکام کا ہے اس ساری ایکسرسائز سے حکومت تبدیل ہو یا نہ ہو لیکن ایک کام ضرور ہو گا اوراس سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہو گا اور شاید اس وقت انٹرنیشنل لابی یہی چاہتی ہیں کہ پاکستان کو اس کے اندرونی معاملات میں اتنا الجھایا جائے اور انھیں اندر سے اتنا کمزور کر دیا جائے کہ انھیں باہر کی ہوش نہ رہے سارے معاملات افراتفری کی طرف بڑھ رہے ہیں.

میرے ایک دوست نے چند دن قبل مجھے کہا کہ عالمی طاقتوں کو پاکستان کا کردار پسند نہیں لہذا پاکستان میں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے دہشتگردی کی لہر سر اٹھا سکتی ہے پاکستان کے سارے دشمن پاکستان کے عالمی کردار سے نا خوش ہیں اب پاکستان کو ڈسٹرب کرنے کی ہر کوشش ممکن بنائی جائے گی اور تقریباً وہی کچھ ہو رہا ہے ایک طرف سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب ملک میں بم دھماکے شروع ہو گئے ہیں پشاور کا واقعہ ہمارے ہوش اڑانے کے لیے کی کافی ہے راولپنڈی میں آسٹریلیا کی ٹیم کرکٹ میچ کھیل رہی ہے اور دشمن اپنا کھیل کھیل رہے ہیں یہ سارا کچھ ملک میں انتشار پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ پنجاب میں سے گزر رہا ہے اللہ اسے محفوظ رکھے اس کی سیکورٹی پر ہمارے اداروں کو خصوصی توجہ دینی چاہیے پوری قوم کو دہشتگردی کی متوقع یلغار کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ورنہ ہم پھر اس دور میں واپس چلے جائیں گے جس سے بڑی قربانیوں کے بعد جان چھڑوائی ہے اور مشکل سے پاکستان نے دہشتگردی پر قابو پایا تھا ابھی لوگوں کو کچھ تحفظ کا احساس ہونے لگا تھا اور کاروباری لوگوں نے اپنا سرمایہ باہر نکالنا شروع کیا تھا کہ خوف کے سائے دوبارہ مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی اللہ خیر کرے اب آخر میں عدم اعتماد کی تحریک کی طرف آتے ہیں مجھے تو عدم اعتماد کی تحریک کے پیچھے عدم استحکام کی تحریک نظر آتی ہے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ ساری سیاسی جماعتیں اس وقت موجودہ حکومت کے رہنے یا نہ رہنے سے زیادہ مستقبلِ کے سیٹ اپ کو مد نظر رکھ کر کھیل کھیل رہی ہیں ہر کوئی اگلے سیٹ اپ میں اپنی ایڈجسٹمنٹ چاہ رہا ہے اپوزیشن کو خطرہ لاحق ہے کہ اگر حکومت وقت پورا کر لیتی ہے تو کہیں اگلے سیٹ اپ کے لیے اپنے آپ کو قابل قبول نہ بنا لے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جائے گی حکومتی اتحادی بھی گو مگو کا شکار ہیں اور اپنی اہمیت کو دو چند بنا کر انجوائے کر رہے ہیں وہ حکومت سے بھی مزید مراعات لینے کو تیار ہیں اور اپوزیشن سے بھی کامیابی کی صورت میں بڑا حصہ وصول کرنے کے لیے بعض معاملات میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اپوزیشن نے عدم اعتماد کے غبارے میں جتنی ہوا بھر دی ہے اب انھیں اسے اڑانا ہی پڑے گا توقع یہی ہے کہ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لائے گی لیکن کس کے خلاف اور کب لاتی ہے یہ فیصلہ ابھی باقی ہے تاہم حکومت نے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی صورت میں جو حکمت عملی اختیار کرنے کا سوچا ہے اس کے مطابق سب سے پہلے تو اس پراسس کو آگے بڑھانے کے لیے تاخیری حربے استعمال کیے جائیں گے اور کوشش ہو گی کہ کسی طرح 23 مارچ کو قومی اسمبلی کی عمارت میں ہونے والی اسلامی ممالک کی کانفرنس کے بعد تک ٹالا جائے اور دوسرا یہ کہ اس پر خوب بحث مباحثہ کے بعد ووٹنگ والے دن حکومتی ارکان کو اسمبلی میں نہ آنے دیا جائے اور اپوزیشن سے کہا جائے کہ آپ 172 ارکان کی تعداد پوری کریں اس سے وفاداریاں تبدیل کر کے اپوزیشن کا ساتھ دینے والے ارکان بے نقاب ہو جائیں گے اور پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ اسمبلی ہی نہ پہنچ پائیں کیونکہ پیراشوٹ کے ذریعے تو ارکان کو اسمبلی بلڈنگ میں نہیں اتارا جا سکتا آنا تو انھوں نے زمینی راستے سے ہی ہے ان میں سے کچھ کو اگر حکومت راستے میں شرم دلانے میں کامیاب ہو گئی تو عدم اعتماد کی تحریک تو گئی یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے ابھی سے مشکوک ارکان اسمبلی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے اب عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب بنانے اور ناکامی سے دوچار کرنے کے لیے برابر کا زور لگایا جا رہا ہے نہ تو کسی کے ساتھ کوئی اشارے بازی ہو رہی ہے اور نہ ہی یہ اسٹیبلشمنٹ کا کھیل ہے ہر کوئی اپنا اپنا زور دیکھا رہا ہے اور میری سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے کہ سارے راستے عدم استحکام کی طرف جا رہے ہیں۔عدم اعتماد ہونا ممکن نہیں