کھلاڑی اور سفیر

جون 2017ء میں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم نے سیمی فائنل میں انگلینڈ اور فائنل میں بھارت کو شکست دے کر چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کی تو برطانیہ سمیت دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینلز نے اس خبر کو نمایاں طور پر شائع اور نشر کیا جبکہ سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی ٹیم کی شاندار کارکردگی کا بہت دنوں تک چرچا ہوتا رہا۔ پاکستان کے اندر اس کامیابی پر جو جشن منایا گیا وہ اپنی جگہ لیکن اوورسیز پاکستانیوں کے لئے یہ جیت خوشی اور فخر کے بہت سے جواز ساتھ لے کر آئی۔ بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو وطن عزیز کے حوالے سے بہت ہی کم اچھی خبریں ملتی ہیں لیکن جب کھیل کے میدان میں کسی بڑی کامیابی پر پاکستان کا پرچم بلند ہوتا ہے اور قومی ترانہ بجتا ہے تو ہم تارکین وطن کے سینے فخر سے پھول جاتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ جو کام پوری دنیا کے 195ملکوں میں موجود ہمارے 80 سے زیادہ سفارت خانے نہیں کر پائے وہ ہمارے گیارہ کھلاڑیوں نے کر دکھایا۔

کرکٹ کا آغاز سولہویں صدی میں برطانیہ سے ہوا تھا اور یہاں آج بھی کرکٹ مقبول ترین کھیلوں میں سے ایک ہے۔ اس ملک میں کرکٹ کے کھلاڑیوں کو تربیت کے لئے ہر طرح کے وسائل اور سہولتیں میسر ہیں۔ اسی طرح آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں بھی پروفیشنل کرکٹرز کو ہر طرح کی آسانیاں فراہم کی جاتی ہیں جبکہ بھارت جو کہ پاکستان کے مقابلے میں آبادی اور رقبے کے اعتبار سے کئی گنا بڑا ملک ہے وہاں کرکٹ کا جنون ناقابل یقین ہے اور اس کھیل سے اربوں روپے کے کاروباری معاملات وابستہ ہیں مگر اس کے باوجود مذکورہ بالا ملکوں میں سے کسی بھی ملک میں فضل محمود، عمران خان، جاوید میانداد، وقار یونس، عبد القادر، انضمام الحق، وسیم اکرم، شعیب اختر، محمد یوسف، ثقلین مشتاق، بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے بے مثال کھلاڑی پیدا نہیں ہوئے۔مختلف کھیلوں کے ورلڈ کپ ہوں یا اولمپک گیمز آج کی دنیا میں انہیں اس لئے غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے کہ ایک تو یہ کھیل تفریح کا ذریعہ ہیں۔ دوسرا ان کھیلوں کی وجہ سے ملکوں اور قوموں کی پہچان نمایاں ہوتی ہے۔ ہاکی کھیلنے والی قومیں آج بھی پاکستان کو حسن سردار، سمیع اللہ، سہیل عباس اور شہباز احمد وغیرہ کے حوالے سے جانتی اور پہچانتی ہیں اور جن ملکوں میں سکواش کھیلی جاتی ہے وہاں پاکستان کی شناخت جہانگیر خان اور جان شیر خان کے حوالے سے ہوتی ہے۔ وسائل اور سہولتیں نہ ہونے کے باوجود جہانگیر خان کی 6بار ورلڈ اوپن اور 6بار مسلسل برٹش اوپن کا ٹائٹل جیتا اور اسی طرح جان شیر خان کی 8بار ورلڈ اوپن اور 6بارمسلسل برٹش اوپن میں کامیابی کسی معجزے سے کم نہیں۔

دنیا بھر میں کھیلوں کے تجزیہ کار اور ماہرین اس بات پر حیران ہوتے رہتے ہیں کہ جس ملک میں کرپشن، اقرباپروری اور سفارش انتہا پر ہوں اور باصلاحیت کھلاڑیوں کا راستہ روکنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جاتی ہو وہاں سے کرکٹ، سکواش اور ہاکی کے ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کا سامنے آنا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا بلاشبہ ایک کارنامے سے کم نہیں۔ جس ملک میں سیاست کو کھیل اور کھیل کو سیاست بنا دیا جائے وہاں اہلیت، صلاحیت اور قابلیت ایک ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ ناسازگار حالات اور تربیت و وسائل کی کمی کے باوجود پاکستان کا 1992ء میں کرکٹ کا ورلڈ کپ حاصل کرنا اور 2009ء میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنا، اسی طرح 1971، 1978ء، 1982ء اور 1994ء میں ہاکی کے ورلڈ کپ میں کامیابی اور اولمپک گیمز میں ہاکی ٹیم کا 1960ء، 1968ء اور 1984ء میں گولڈ میڈل کا حصول اس حقیقت کی دلیل ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کمی نہیں۔ صرف کھیل کا میدان ہی نہیں بلکہ اوورسیز پاکستانیوں نے اقتصادیات، سائنس، سیاست، شوبز، فیشن، سماجی بہبود اور موسیقی کے شعبوں میں بھی وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں کہ جنہیں دنیا بھر میں ستائش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر مغربی ممالک میں آباد ایسے پاکستانیوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں تو سینکڑوں میں ضرور ہے جنہوں نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر اپنے آبائی وطن کا نام بھی روشن کیاہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایسے لوگوں کی قابلیت سے پاکستان کو براہ راست فائدہ پہنچتا لیکن ناسازگار حالات کے باعث یہ لوگ وطن عزیز سے ہجرت پر مجبور ہوئے اور اب اہل مغرب اور پرائے ملک ان نایاب لوگوں کی ذہانت اور اہلیت سے استفادہ کر رہے ہیں۔ یہ بات ہم میں سے اکثر لوگ بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان میں وسائل اور قابلیت کی کمی نہیں ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو اس حقیقت کا زیادہ شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہمارا وطن کیسی کیسی نعمتوں سے مالامال ہے اور کیسے کیسے ذہین لوگ اس ملک کو میسر ہیں لیکن بدقسمتی سے مفاد پرستی اور کرپشن نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے کر ہر نعمت اور ذہانت کے شفاف چشمے کو گدلا بلکہ زہر آلود کر دیا ہے۔ آج بھی اگر ہمارے حکمران اور ارباب اختیار اپنی ترجیحات درست کر لیں اور پوری قوم کی یکساں معیاری پرائمری تعلیم و تربیت کو اپنی پہلی ترجیح بنا لیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مصلحت کو خاطر میں نہ لا کر ٹھوس حکمت عملی اپنائیں تو پندرہ سے بیس برس بعد ہمارے ملک میں ایسے باشعور نوجوان میسر آنا شروع ہو جائیں گے جو پوری قوم کو ترقی اور خوشحالی کے رستے پر گامزن کر سکتے ہوں۔اس وقت پوری دنیا میں جو کھیل سب سے زیادہ کھیلا جاتا ہے وہ فٹ بال ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں فٹ بال کے بڑے بڑے ٹورنامنٹ منعقد ہوتے تھے اور لوگوں میں فٹ بال کھیلنے اور میچ دیکھنے کا بہت شوق ہوا کرتا تھا لیکن پھر کرکٹ کی مقبولیت اور بالادستی کی وجہ سے پاکستان کا قومی کھیل ہاکی اور عوامی کھیل فٹ بال پس منظر میں چلے گئے کیونکہ ہاکی اور فٹ بال کے لئے پاکستان کو جو وسائل میسر تھے ان پر کرپٹ مافیا مسلط ہو گیا اور اب یہ عالم ہے کہ ان دونوں کھیلوں کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کسی بھی شمار قطار میں نہیں ہے بلکہ فیڈریشن انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن یعنی فیفا نے اپریل 2021ء میں پاکستان پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے فیفا کی طرف سے فراہم کی جانے والی مالی مدد کے سلسلے میں کئی طرح کے ضابطوں کی پاسداری نہیں کی تھی اور نہ ہی پاکستان نے ورلڈ کپ کے کسی کوالیفائنگ راؤنڈ کے لئے اپنے گروپ میں کہیں کوئی کامیابی حاصل کی ہے۔ موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ہاکی، سکواش اور فٹ بال پر بھی توجہ دے۔ ملک کے وزیر اعظم عمران خان جو خود بھی ایک کھلاڑی ہیں اگر ان کے دور حکومت میں بھی کھیلوں کی سرپرستی نہ کی گئی تو یہ ایک بہت بڑی بدقسمتی ہو گی۔ آج بھی ہمارے ملک میں جہانگیر خان اورحسن سردار جیسے باصلاحیت نوجوان کھلاڑی موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے انہیں مواقع اور وسائل میسر نہیں۔ جس طرح پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ذریعے سے کرکٹ کے کئی نامور ستارے جگمگانے لگے ہیں اسی طرح اگر ہاکی، سکواش، فٹ بال اور دیگر کھیلوں کے فروغ کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کی جائے تو اس سے نہ صرف عوام کو مثبت تفریح کے مواقع ملیں گے بلکہ کھیلوں کے شاندار ٹورنامنٹس کے انعقاد سے معاشرتی گھٹن بھی کم ہو گی۔ ہاکی اور سکواش کے کھیلوں میں تو ہمارے کھلاڑیوں نے کمال حاصل کیا ہوا ہے۔ اس لئے دونوں کھیلوں میں پھر سے اپنا مقام بنانا کوئی بہت زیادہ دشوار کام نہیں ہے کیونکہ نئے کھلاڑیوں کی تربیت کے لئے ہمارے پاس ابھی تک سپر سٹار اور تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں۔ اسی طرح اگر پاکستان میں فٹ بال کے فروغ کے لئے حکمت عملی اپنائی جائے اور دنیا کے تجربہ کار اور نامور کھلاڑیوں کی خدمات پاکستانی ٹیم کی کوچنگ اور ٹریننگ کے لئے حاصل کی جائیں تو ممکن ہے کہ پاکستان میں بھی کوئی رونالڈو اور میسی دریافت ہو جائے۔ موجودہ حالات میں کھلاڑی ہی وہ سفیر ہیں جو دنیا بھر میں اپنے ملک اور قوم کا نام روشن کرتے اور اپنے قومی پرچم کو سربلند کرنے کا باعث بنتے ہیں۔کپتان صاحب اس طرف بھی تھوڑی سی توجہ دیجئے۔

٭٭٭٭٭٭