گالم گلوچ کا کاروبار

مہذب معاشرے اپنے آپ کو اعتدال میں رکھنے کے لیے رونما ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اصلاح معاشرہ کے لیے بروقت اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تاکہ معاشرے میں خرابیاں پیدا نہ ہوں جن معاشروں میں ہمارے ہاں سمجھی جانے والی خرافات کو بھی برا نہیں سمجھا جاتا وہ بھی اپنی حدود وقیود سے آگے نہیں جاتے وہاں بھی لیمٹیشن کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن ہمارا معاشرہ تو شتر بے مہار ہو چکا اور شاید کسی کو احساس تک نہیں کہ ہم معاشرے کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں معاشرے کے اندر کس قسم کی برائیاں جنم لے رہی ہیں ان کے کیا اثرات مرتب ہو رہےہیں ،اندرواندری، کیا کام پڑ رہا ہے ہمیں اس کا ادراک بھی نہیں ہے ، اے- ایم -بی , انفوٹینمنٹ نامی ایک ادارے نے ایک تحقیق کی ہے جس میں رونگھٹے کھڑے کر دینے والے چشم کشا حقائق سامنے لائے گئے ہیں اور عوام کی اس بڑھتے ہوئے ناسور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اظہارِ رائے کی آڑ میں سوشل میڈیا کے ہاتھوں معاشرہ بے نقاب ہو چکا ہے اور یہ بےنقاب ماحول ستر پوشی کا تقاضا کرتا ہے سوشل میڈیا پر اظہار رائے اور انفارمیشن کی آڑ میں فحاشی کے کاروبار کو پروان چڑھایا جا رہا ہے اور اخلاقی اقدار کی تذلیل گھر گھر بانٹی جا رہی ہے۔

باہمی رابطے اور اظہار رائے کا میڈیم گالم گلوچ کا فورم بن چکا ہے ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور بدتمیزی کے کاروبار سے اخلاقی اقدار سے کھلم کھلا ہولی کھیلی جا رہی ہے تحقیق کے مطابق ڈیجٹل میڈیا پرپاکستان میں ایک منٹ میں 80ہزار سے ایک لاکھ گالیاں لکھی یا بولی جا رہی ہیں پاکستانی یہ انوکھا ریکارڈ مرتب کر رہے ہیں یہ اعزاز بھی پاکستانیوں کے پاس ہے کہ یہاں فحش مواد دیکھنا سننا اور پڑھنا لوگوں کا محبوب مشغلہ ہے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ایسے موبائل کی تعداد گیارہ کروڑ ہے جن میں تھری جی اور فور جی کی سہولت موجود ہے تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سب سے زیادہ گالیاں سیاستدانوں کے بارے میں لکھی جا رہی ہیں ایک سیاسی شخصیت کے بارے میں 54لاکھ گالیاں ہفتہ وار لکھی جا رہی ہیں پچھلے دو تین سالوں میں اس ٹرینڈ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے دوسرا ڈیجیٹل میڈیا پر سب سے زیادہ فراڈ جعلی حکیم اور جعلی عامل کر رہے ہیں آپ اس کا اندازہ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ آپ کسی بھی ایپ پر صرف لفظ حکیم لکھیں تو ایسی ویڈیو آنا شروع ہو جائیں گی جن میں غلیظ واہیات گفتگو کی جاتی ہے اتنا فحش قسم کا مواد اپ لوڈ ہو رہا ہے کہ ناقابل بیان ہے اس میں صرف حکیم ہی نہیں بعض نام نہاد مولوی بھی شامل ہیں یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ ان حکیموں کا زیادہ تر شکار مرد حضرات خصوصاً نوجوان ہوتے ہیں جو ان کی پراڈکٹ کی طرف جاتے ہیں ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پوری قوم ہی نفسیاتی مسائل کا شکار ہے جعلی عامل بھی حکیموں سے کم نہیں آپ سوشل میڈیا پر لفظ جنات یا عامل لکھیں ایسے ایسے عاملین آنا شروع ہو جائیں گے جو دنیا بھر کے مسائل کا حل بتائیں گے پہلے یہ کہتے تھے کہ فلاں فلاں عمل کریں اب کہتے ہیں عمل بھی ہم خود کر لیں گے بس آپ ہماری ویڈیو دیکھتے جائیں اور پیسے بجھواتے جائیں ان عاملوں کا ٹارگٹ زیادہ تر خواتین بن رہی ہیں اور ان کے ویوز دیکھیں انتہائی غلیظ ذو معنی فحش گفتگو کی جاتی ہے یہ کسی بھی مسلہ پر کہتے ہیں ان باکس میں آ جائیں جو ان باکس میں آتا ہے یہ گھیرنا شروع کر دیتے ہیں ان عاملوں نے کئی گھر تباہ کر دیے ہیں کئی عورتیں اپنی عزت اور دولت لٹا بیٹھی ہیں کئی عورتوں نے خود کشی کر لی ہے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ دانشور جنم لے رہے ہیں ہر سال 800 دانشور پیدا ہو رہے ہیں جو جو مختلف اقسام کے تجزیے پیش کر رہے ہیں آپ کسی بھی اہم شخصیت کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ اوپن کر کے دیکھیں جو لوگ ان کو ری ٹوئیٹ کرتے ہیں وہ کس طرح کی لینگویج استعمال کر رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 8 کروڑ افراد اوپینین دے رہے ہیں جن میں زیادہ استعمال گالیوں کا ہوتا ہے جواب الجواب میں بھی گالیاں دی جا رہی ہیں اس وقت پاکستان میں چار کروڑ سوشل میڈیا کے چینلز ہیں جو مختلف اقسام کا مواد ڈال رہے ہیں سوشل میڈیا پر 45 فیصد ایسے یوزر بھی ہیں جو خواندہ نہیں ایک اور خوفناک ٹرینڈ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ایسی جنونی کلاس معرض وجود میں آ چکی ہے جو ہر وقت سوشل میڈیا پر چپکی رہتی ہے رات گئے دو سے تین لاکھ افراد جاگ رہے ہوتے ہیں جو ساری رات آن لائن رہتے ہیں اس کلاس میں بالترتیب اضافہ ہو رہا ہے ہر وقت آن لائن رہنے والے کئی لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر ایسے ایسے اشتہارات تخلیق یو رہے ہیں جو معاشرے میں تباہی پھیلا رہے ہیں اب سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ آزادی رائے ہے یا کچھ اور ہے معاشرے کی فیصلہ کن قوتوں کو اس بارے توجہ دینی چاہیے فوری طور پر کوئی اصلاحی تحریک چلائی جائے معاشرے کو اخلاقی تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ معاشرہ کو بے راہ روی سے بچایا جا سکے۔