صحت کارڈ یا عمران خان کا کریڈٹ کارڈ

صدیوں سے یہ مستند مقولہ تھا کہ اللہ کرے کسی کا ہسپتالوں اور کچہریوں سے واسطہ نہ پڑ جائے بیماری بھی گھر خالی کروا دیتی ہے اور کیس بھی برباد کر دیتے ہیں عدالتوں سے انصاف بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن سنا ہے وہاں بھی اصلاحات لائی جا رہی ہیں البتہ بیماری بارے تحریک انصاف کی حکومت نے یہ مقولہ آوٹ ڈیٹڈ کر دیا ہے کبھی کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے علاج کے لیے اتنی سہولتیں میسر ہوں گی لیکن یہ عجوبہ حکومت نے ممکن کر دیکھایا ہم نے دیکھا کہ لوگ اپنے مریض کے علاج کے لیے یا تو قرض لیتے تھے یا مکان گروی رکھواتے تھے اور ساری عمر قرض اتارنے میں لگے رہتے تھے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب جس کی ابادی آدھے پاکستان سے زیادہ ہے وہاں کے ہر خاندان کا ہیلتھ اکاوئنٹ کھول کر اس میں دس لاکھ روپے کی رقم رکھ دی گئی ہے اللہ نہ کرے کوئی بیمار ہو لیکن اب اگر کوئی بیمار ہو تو اس کو نہ تو قرض لینے کی ضرورت ہے نہ ہی کسی کی سفارش کی ضرورت ہے اب پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مکین ہر شہری کو سہولت میسر ہے کہ وہ اپنی پسند کے ڈاکٹر اور پسند کے ہسپتال سے معیاری علاج کروا سکتا ہے۔

عمران خان کی حکومت کا یہ اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ آنے والی کوئی بھی حکومت اس کو ختم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکے گی جس طرح چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں ریسکیو 1122 کا منصوبہ عظیم شاہکار تھا اسی طرح ہیلتھ کارڈ کا منصوبہ بھی انسانی خدمت کا بے مثال کارنامہ ہے اگر کسی نے اس کے ختم کرنے کی بات بھی کی تو لوگ اس کی تکہ بوٹی کر دیں گے لوگ احساس کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا چربہ کہتے تھے لیکن ہیلتھ کارڈ پروگرام تو خالصتاً تحریک انصاف کی حکومت کی سوچ کا مظہر ہے بلکہ صحت کی جو سہولت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے عوام کو حاصل ہے یہ تو خطے کے ممالک کے لیے بھی رول ماڈل ہے اس کارڈ نے اس تصور کو ختم کر دیا ہے کہ ایک دائمی بیمار خاندان کے لیے مالی بحران لے کر آتا ہے چند روز قبل پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس منصوبہ کے حوالے سے سنیر صحافیوں سے گفتگو کی ان کے ہمراہ پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور اور محکمہ صحت پنجاب کے تمام انتظامی افسران بھی موجود تھے ان کی لگن بتا رہی تھی کہ وہ اس منصوبے کو ایک کاز سمجھ کر کر رہےہیں ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایک سروے کر کے دیا تھا جس کے مطابق 86 فیصد لوگ ہسپتالوں میں داخلہ اس وجہ سے لیٹ لیتے ہیں کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے 75 فیصد اکنامک شاک میں چلے جاتے ہیں پنجاب کے ہسپتالوں میں ایک لاکھ بیڈ کی کمی تھی ہسپتالوں میں آپریشن کے لیے چھ چھ ماہ کا وقت دیا جاتا تھا بیڈ پر دو دو تین تین مریض لٹائے جاتے تھے فوری طور پر اتنی بڑی تعداد میں نئے ہسپتال نہیں بنائے جا سکتے تھے تحریک انصاف کی حکومت نے پچھلے دور حکومت میں خیبرپختونخوا سے ہیلتھ کارڈ کا نظام وضع کیا جو بہت کامیاب رہا اللہ نے ہمیں پنجاب کی خدمت کا موقع دیا تو ہم نے اسی طرز پر پنجاب میں پہلے دو ڈویژن ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان میں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کا منصوبہ شروع کیا اب پورے پنجاب میں چار سو ارب روپے سے یہ منصوبہ شروع کیا ہے جو مئی تک مکمل ہو جائے گا نادرا میں رجسٹرڈ پنجاب کا مستقل سکونتی شہری اس کارڈ سے مستفید ہو سکتا ہے آپ 8500 پر میسج کر کے نادرا سے اس سہولت کی تصدیق کر سکتے ہیں اس سکیم میں دس بیڈ سے لے کر تمام بڑے پرائیویٹ ہسپتال شامل ہیں جہاں سے علاج کروایا جا سکتا ہے۔

جنوری میں 1500 تک اور اب پانچ ہزار مریض روزانہ اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں 170000 خاندان اس کارڈ سے علاج کروا چکے ہیں پروگرام کو ہر صورت فعال رکھنے کے لیے اسٹیٹ لائف کے علاوہ ایک سیکنڈ انشورنس بھی کروا رکھی ہے ہر سال علاج کے لیے مختص رقم میں سے جو پیسہ بچ جائے گا وہ واپس حکومت کے خزانے میں آ جائے گا انھوں نے بتایا کہ ہیلتھ کارڈ کے سسٹم کو فول پروف بنانے کے لیے تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو سکے ہر ہسپتال میں اداروں کے لوگ موجود ہیں جو مریض کے ہسپتال آنے پر چیک کرے گا کہ وہ پنجاب کا مستقل رہائشی ہے اس کی فیملی کی شناخت کی جائے گی اس کے کارڈ کا بیلنس چیک کیا جائے گا داخلہ کے وقت اس کی تصویر لی جائے گی اور وقت نوٹ کیا جائے گا اس کا اصل شناختی کارڈ رکھ لیا جائے گا تاکہ علاج کے بغیر کوئی پیسہ استعمال نہ کر سکے فوری اس کے موبائل پر میسج آ جائے گا کہ آپ کا کارڈ استعمال کر کے علاج کیا جا رہا ہے مریض کے ڈسچارج ہونے پر اسے نادرا سے لائیو فون کال کی جائے گی اور اس سے پوچھا جائے گا کہ آپ کا علاج کیسا ہوا ، آپ اپنے علاج سے مطمئن ہیں ، ہسپتال کے عملہ کا رویہ ٹھیک تھا ، آپ سے کسی نے پیسے تو نہیں مانگے انھوں نے بتایا کہ ہیلتھ کارڈ پر علاج کرنے والے ہسپتالوں کو 7 سے 10 دنوں میں ادائیگی کر دی جاتی ہے تاہم حکومت نے ادائیگی کی ٹائم لمٹ ایک ماہ رکھی ہے اس پروگرام پر سالانہ 130 ارب روپے خرچ ہوں گے ہم نے تھیلسمیا کے مریضوں کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے اس پروگرام کا فنانشل اور کلینکل آڈٹ ہو گا انھوں نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور بھی چل رہے ہیں جہاں ہر سال 42 ارب روپے کی ادویات فراہم کی جاتی ہیں انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں 23 نئے ہسپتال بنائے جا رہے ہیں جن میں چار بڑے ہسپتال بھی بن رہے ہیں لاہور میں گنگا رام ہسپتال میں چھ سو بیڈ کا مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں کارڈیالوجی ہسپتال میانوالی میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال ملتان میں نشتر ٹو چار سو بیڈ کا ہسپتال بن رہا ہے۔