کیا عمران خان خطرناک ہورہا ہے

لاکھ کوششوں کے باوجود سیاست سے آگے کچھ سلجھائی نہیں دے رہا ہر طرف اب کیا ہوگا اب کیا ہوگا کا شور ہے بے یقینی اتنی بڑھ گئی ہے کہ بات ہر روز بدلتی صورتحال سے ہر لمحہ بدلتی صورتحال پر آ گئی ہے اگلے لمحے کون کس کے ساتھ کھڑا ہو گا کون کس کو چھوڑ جائے گا کون کس کو جاملے گا کوئی پتہ نہیں چلتا سیاستدانوں کی پٹوسیاں ہمارے معاشرتی اقدار کی تنزلی کی نشاندھی کر رہی ہیں دراصل یہ اس بات کی غمازی ہے کہ معاشرہ اکھڑ چکا ہے عہدوپیماں وفا اصول ضابطے کسی کی حیثیت نہیں سارا کچھ مفادات ہیں دن رات لوگ فون کر کے پوچھتے ہیں کیا ہو گا کون کس کے ساتھ ہے میرا جواب ہوتا ہے ابھی میدان میں کھڑے کھلاڑیوں کو بھی پتہ نہیں انھوں نے کس کے ساتھ جانا ہے لہذا انتظار کروں اور تماشہ دیکھتے جاو ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے البتہ ایک بات واضح ہے کہ حکومت نے اپنے اراکین اسمبلی کو کسی صورت ووٹ نہیں ڈالنے دینا انھیں جیسے بھی روکنا پڑا وہ روکیں گے بات اتحادیوں پر ختم ہو گی وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں حکومت کی قسمت کا فیصلہ اتحادیوں کے ہاتھ میں ہیں اتحادی ابھی تک واضح اشارے کے منتظر ہیں اسٹیبلشمنٹ تا حال خاموش ہے اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن تمام سیاستدان انھیں اپنے کاروبار میں گھسیٹ رہے ہیں سوئے ہوئے شیر کو تنگ کر رہےہیں اپوزیشن ہو یا حکومت تمام لوگ اپنی سیاست میں کسی نہ کسی طرح اسٹیبلشمنٹ کو گھسیٹ لاتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ جو صورتحال بن رہی ہے اس میں وہ زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہیں گے انھیں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا حالات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں اور ایسی گیم بنائی گئی ہے کہ نہ اپوزیشن کو سو فیصد یقین ہے کہ ان کی تحریک عدم کامیاب ہو گئی اور نہ ہی حکمرانوں کو سو فیصد یقین ہے کہ وہ بچ پائیں گے یا نہیں اپوزیشن والے واضح طور پر اپنے نمبرز شو نہیں کر پا رہے یہ بھی پتہ نہیں کون ان کے ساتھ ہے کون نہیں وہ کس طرح 172 اراکین قومی اسمبلی کو سامنے لائیں گے لیکن دعویٰ یہی کیا جا رہا ہے کہ حکومت ابھی گئی دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے جلسے اتحادیوں کی سرگرمیاں کچھ اور ہی تاثر دے رہی ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمران خان پاکپتن مزار شریف پر بھی حاضری دے آئے ہیں ان کے قریبی حلقوں سے پتہ چل رہا ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات کے لیے تیار ہیں ان کی باڈی لینگویج سے تو ایسے لگتا ہے جیسے ان کی اپنی خواہش ہو کہ آؤ مجھے نکالو کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا اینٹی امریکن کارڈ عوام میں بہت بکے گا اور اگر وہ تین چار باتیں اسٹیبلش کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ مجھے خود مختار پاکستان بنانے کی سزا دی جارہی ہے مجھے ایبسلوٹلی ناٹ کہنے مجھے ڈیم بنانے ،روس اور چین کے ساتھ روابط بڑھانے انڈیا کو خبردار کرنے مودی کو دنیا میں ذلیل کرنے کی سزا دی جا رہی ہے تو وہ بھٹو سے بڑا لیڈر بن کر سامنے آئے گا جو کسی کے کنٹرول میں نہیں ہو گا اس کے اتحادی اگر بے وفائی کر گئے تو پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں ایک طرف اور وہ اکیلا ایک طرف کھڑا ہو گا لہذا عمران خان کو روکنے کے لیے اپوزیشن کی جماعتوں کو تھوڑا سا صبر کرنا چاہیے اور عمران خان کو وقت پورا کرنے دینا چاہیے اگر معاملات کو ایسے ہی چلایا گیا تو چند دنوں میں ملک خوفناک انتشار کا شکار نظر آئے گا عدم اعتماد کی ووٹنگ والے دن سے کام شروع ہو جائے گا اور عین ممکن ہے کہ ووٹنگ کے دوران ہی اندر اور باہر سے کام شروع ہو جائے کیونکہ سپیکر قومی اسمبلی بھی اپنے تمام تر اختیارات اور حربے استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں اور ووٹنگ کے دوران کئی نئی روایات نظر آئیں گی ہوسکتاہے کہ اپوزیشن سپیکر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ووٹنگ کا بائیکاٹ کر جائے باہر کھڑا مجمع منحرف ارکان کو اندر نہ جانے دے حالات کوئی بھی رخ اختیار کر سکتے ہیں لیکن بعض چیزیں سمجھ سے بالاتر ہیں وزیراعظم کی کئی باتوں سے لگتا ہے جیسے ان کی خواہش ہو کہ مجھے نکال دو لیکن اسلام آباد میں تمام کام روٹین کے مطابق چل رہے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ نہیں ہونے والا حالانکہ ایسے حالات میں بیوروکریسی کام کرنا چھوڑ دیتی ہے بے شمار معاملات میں ہاتھ کھینچ لیا جاتا ہے لیکن اسلام آباد میں ساری چیزیں شیڈول کے مطابق جاری ہیں بلکہ پنجاب میں کئی معاملات میں بریک آ گئی ہے پنجاب کی بیوروکریسی میں تحرک نہیں لیکن اسلام آباد میں سارے معاملات روٹین سے چل رہے ہیں توقع ہے کہ حکومت جمعہ یا ہفتہ کے روز ایوان میں ووٹنگ کرا سکتی ہے آخر میں ایوان کارکنان پاکستان کے سیکرٹری شاہد رشید کی اچانک وفات سب کو افسردہ کر گئی ایک دن پہلے تک وہ انتہائی متحرک رہے آخری تقریب ایوان کارکنان پاکستان کے لان میں مشاعرہ تھا جس کے انھوں نے بہترین انتظامات کر رکھے تھے وہ بہت اچھے منتظم اعلی درجے کے مقرر اور مفکر تھے وہ تحریک پاکستان کے وکیل تھے اور تحریک پاکستان کے کارکنوں ان کے خاندانوں میں رابطہ کار تھے امام صحافت مجید نظامی صاحب نے ان کی بہت اعلی تربیت کی ان کی رحلت کے بعد شاہد رشید نے معاملات کو نظامی صاحب کے ویژن کے مطابق چلایا شاہد رشید کی وفات سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے وہ ہر دلعزیز اور یاروں کے یار تھے ہر ایک سے رابطوں میں رہتے تھے میں نے ان کے جنازے میں بے شمار دوستوں کو روتے دیکھا اللہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ان کی منزلیں آسان فرمائے