کچھ میرے ہم نشیں

ایک زمانہ تھا کہ موسم گرما کے آغاز سے ہی اردو کے شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کی ٹولیاں برطانیہ آنا شروع کر دیتی تھیں اور لندن کے علاوہ برمنگھم، مانچسٹر، بریڈ فورڈ، گلاسگو اور دیگر کئی شہروں میں ان کے اعزاز میں تقریبات اور استقبالیے ترتیب دیئے جاتے تھے۔ ان شہروں میں اردو شعر وادب کے فروغ اور فنکاروں کی پذیرائی کے لئے مختلف تنظیمیں بھی قائم تھیں جن میں سے بہت سی اب بھی موجود ہیں۔ جب تک مانچسٹر، گلاسگو اور برمنگھم سے پاکستان کے لئے براہ راست پروازوں کا آغاز نہیں ہوا تھا تو اس وقت تک پاکستان اور بھارت سے آنے والے اہل قلم اور فنکاروں کا پہلا پڑاؤ لندن میں ہی ہوا کرتا تھا اور گذشتہ نصف صدی کے دوران لندن میں جس شخصیت نے اردو زبان کے حوالے سے اہل فن کی سب سے زیادہ میزبانی کی اور جس کے وسیع و عریض گھر میں سب سے زیادہ اہل قلم نے قیام کیا ان کا نام ڈاکٹر جاوید شیخ ہے۔ ڈاکٹر صاحب موسیقی اور شاعری کے دلدادہ، نفاست اور وضع داری کے پیکر، مہمان نوازی اور مروت کی شاندار مثال ہیں۔ وہ ایک طویل مدت سے برطانوی دارالحکومت میں اردو زبان و ادب کے فروغ اور تہذیبی اقدار کے علمبردار ہیں۔انہوں نے شاعر اور گلو کار نہ ہوتے ہوئے بھی ادیبوں اور شاعروں کے بہت ناز اٹھائے۔ حال ہی میں ڈاکٹر جاوید شیخ کی ایک کتاب ”کچھ میرے ہم نشیں“ کے نام سے شائع ہوئی ہے جس میں مشتاق احمد یوسفی، ڈاکٹر جمیل حالی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، افتخار عارف، زہرہ نگاہ، گوبی چند نارنگ، مشفق خواجہ، ساقی فاروقی، خلیل الرحمن ایڈووکیٹ، راشد اشرف، پروفیسر مشیر الحسن جیسے نامور ادیبوں اور دانشوروں کے علاوہ دلیپ کمار(محمد یوسف)، استاد بسم اللہ خان، خواجہ حسن ثانی نظامی، استاد اللہ رکھا خان موسیقار، نوشاد علی، گلزار دہلوی، استاد نصرت فتح علی، برجو مہاراج، ناہید صدیقی، آصف اقبال، دردانہ انصاری اور بہت سی معروف اور ممتاز شخصیات کے بارے میں ڈاکٹر جاوید شیخ نے اپنے تاثرات اور مشاہدات کوشاندار انداز سے قلم بند کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے بڑے بھائی آفتاب شیخ اور اپنی شریک حیات حسینہ شیخ کے لئے بھی مفصل مضامین تحریر کئے ہیں جو واقعی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مجموعے میں ایک سفرنامہ ”ایران میں مانوس اجنبی“ کے نام سے بھی شامل ہے جو کہ ایران کے اندرونی حالات کی عکاسی کرتا ہے اور مغربی پراپیگنڈے کے بارے میں غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ڈاکٹر جاوید شیخ کی اس کتاب ”کچھ میرے ہم نشیں“ کی تقریب رونمائی بلکہ تقریب پذیرائی گذشتہ ہفتے لندن کے پاکستان ہائی کمیشن میں منعقد ہوئی۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان ہائی کمیشن میں ادبی اور ثقافتی تقریبات کا انعقاد لندن میں آباد پاکستانی کمیونٹی کے لئے ایک خوشگوار تبدیلی ہے کیونکہ ہائی کمشنر سید ابن عباس اور نفیس ذکریا سے پہلے پاکستانی سفارت خانے میں اردو زبان و ادب کے فروغ اور اہل قلم کی پذیرائی کا کوئی رواج نہیں تھا۔ ملیحہ لودھی کے دور سفارت میں کبھی کبھی اردو کے شاعروں اورادیبوں کو ہائی کمیشن کی تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا اور ان کی عزت افزائی کی جاتی تھی۔ لندن کے علاوہ برطانیہ کے مختلف شہروں اور یورپ کے مختلف ملکوں میں جو پاکستانی قونصلیٹ اور سفارت خانے موجود ہیں انہیں چاہئے کہ وہ سرکاری طور پر بھی اردو زبان و ادب کے فروغ اور اہل قلم کی حوصلہ افزائی کے لئے کوئی موثر پالیسی ترتیب دیں۔ اس سے نہ صرف ہماری قومی زبان کی دیار غیر میں پذیرائی ہو گی بلکہ اوور سیز پاکستانیوں کی نئی نسل کو بھی اردو کی اہمیت اور افادیت سے آگاہی ہو گی۔

۔ہمارے سفارت خانوں کے ارباب اختیار پاکستان سے آنے والے سیاستدانوں، حکمرانوں اور حکومتی نمائندوں کے لئے تو دیدہ و دل فراش راہ کر دیتے ہیں اور ان کی میزبانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے بلکہ سرکاری وسائل کو پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ یعنی فارن سروس کے پالیسی ساز افسران کو چاہئے کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں میں اردو زبان و ادب اور ثقافتی اقدار کے فروغ کے لئے وسائل اور فنڈز مختص کریں تاکہ ہائی کمیشن ایمبیسی اور قونصلیٹ میں تسلسل اور تواتر کے ساتھ ہر سال ایسی تقریبات اور پروگرام منعقد ہوں جس کے ذریعے نئی نسل تک ہماری قومی زبان اور تہذیب و ثقافت کا ورثہ منتقل ہو سکے۔ اگر ہماری حکومتیں اور وزارت خارجہ کے ارباب اختیار اوور سیز پاکستانیوں کو واقعی اپنا سفیر سمجھتی ہیں تو ان سے محض زر مبادلہ کی توقع کرنے کی بجائے ان کی توقعات کو بھی پیش نظر رکھیں۔ وزیروں اور حکمرانوں کی میزبانی بھی ہمارے سفارخانوں کی سرکاری مجبوری ہوتی ہے لیکن حکومتیں اور وزیر آتے جاتے رہتے ہیں جبکہ اوور سیز پاکستانیوں کا اپنے سفارت خانوں سے ہر وقت رابطہ اور تعلق رہتا ہے۔ اس تعلق کو پائیدار اور خوش گوار بنانے کے لئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے کیونکہ ہر آڑے وقت میں بیرون ملک آباد پاکستانی ہی ہر حکومت کے کام آتے رہے ہیں اور آ رہے ہیں۔ اور پھر خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کو حکومت میں لانے کے لئے اوور سیز پاکستانیوں کی دامے درمے سخنے حمایت کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے عمران خان کے دور حکومت میں پاکستانی تارکین وطن کی تبدیلی سے وابستہ توقعات ضرور پوری ہونی چاہئیں اور دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کی حکمت عملی سے اس تبدیلی کا پتہ لگنا چاہئے۔ بہرحال ذکر ہو رہا تھا لندن کے پاکستان ہائی کمیشن میں ڈاکٹر جاوید شیخ کی کتاب ”کچھ میرے ہم نشیں“ کی رونمائی کا۔ اس تقریب کی صدارت ہائی کمشنر معظم احمد خان نے کی جو ان کے دور سفارت کی پہلی ادبی تقریب تھی جس میں لندن کے نمائندہ اہل قلم نے شریک ہو کر پروگرام کا لطف دوبالا کر دیا۔ کووڈ 19کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اس تقریب میں اہل ذوق کی ایک بڑی تعداد نے اس اہتما م سے شرکت کی کہ مہمانوں کے لئے کرسیاں کم پڑ گئیں اور بہت سے مندوبین نے کھڑے ہو کر تقریب کی کاروائی سے لطف اٹھایا۔ ممتاز براڈ کاسٹر اور برطانیہ کی رائل نیوی کی اعزازی کمانڈر دردانہ انصاری او بی ای نے بڑے سلیقے اور خوش گوارانداز سے اس تقریب کی نظامت کی جبکہ نامور ادیب رضا علی عابدی، ڈاکٹر افتخار ملک، خلیل الرحمن ایڈووکیٹ، نجمہ عثمان اور فاطمہ شیخ نے کتاب اور ڈاکٹر جاوید شیخ کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ مقررین نے کہا کہ ویسے تو ڈاکٹر صاحب اردو مرکز لندن کے سربراہ ہیں لیکن درحقیقت ان کی شخصیت خود اردو کا مرکز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے اردو کے ادیب اور شعراء ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔انہوں نے اپنی کتاب میں اپنی یادداشتوں اور محبت کے رشتوں کو شاندار انداز سے یکجا کیا ہے۔ ہائی کمشنر معظم خان نے ڈاکٹر جاوید شیخ کی اردو زبان و ادب سے محبت کو سراہا اور کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دی۔ ڈاکٹر جاوید شیخ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے جن نامور شخصیات کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا ان سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ یہ ان مشہور لوگوں کی مہربانی تھی کہ انہوں نے مجھے اپنی میزبانی کا موقع فراہم کیا۔مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنی کتاب کو ایک ایسا گلدستہ بنا دیا ہے جس میں ہر رنگ کے پھول سجے ہوئے ہیں اور جن کی مہک سے میر ی یادوں کا خزانہ بھرا ہوا ہے۔ اس موقع پر بزم سخن لندن کے روح رواں سہیل ضرار خلش اور معروف شاعر احسان شاہد نے ڈاکٹر جاوید شیخ کو گلدستے پیش کئے اور ممتاز براڈ کاسٹر عابد بیگ نے ہائی کمشنر معظم احمد خان کو اپنی کتاب ”قومی ترانہ اردو یا فارسی؟“ پیش کی۔ یہ ایک بھرپور ادبی تقریب تھی جس کا خوشگوار تاثر تا دیر قائم رہے گا۔
٭٭٭٭