اپوزیشن ایک فون کال کی مار ؟

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ذمے داروں کے ایک فون پر ساری اپوزیشن نوے کی ڈگری پر لیٹ گئی۔پریس کانفرنس میں وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ سیاست گرم ہے۔ ساری سیاست ٹی وی پر ہو رہی ہے۔ بہت سارے لوگ شور مچا رہے ہیں۔ بلاول کے دودھ کے دانت بھی نہیں نکلے۔بلاول کہتے ہیں کہ وہ دھرنا دیں گے، اپنی شکل تو دیکھیں۔ان کا کہنا ہے کہ جوکچھ سندھ ہاﺅس میں ہوا اس کی مذمت کرتا ہوں۔ کسی شخص کوووٹ ڈالنے کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ عمران خان کے جلسے کے دن اپوزیشن بھی پہنچے گی۔جلسوں کے لیے دونوں اپنی اپنی جگہ کا انتخاب کریں۔شیخ رشید نے کہا کہ اگر ایم این ایز کو مال مل رہا ہے تو مال لے لو اور واپس آ جاﺅ، کل بھی سیاسی کمیٹی میں کہا کہ پاکستان اور جمہوریت کو آگے لے کر جائیںیہ دھمکیاں دے رہے ہیں اور سفیروں کو فکر ہے کہ ان کے وزرائے خارجہ پاکستان آ رہے ہیں۔ عمران خان 27 مارچ کے جلسے سے واپس نہیں ہو رہے، وہ جلسہ کریں گے۔جلسے کے بعد نفری کی مزید ضرورت پڑی تو بلوائیں گے۔وزیرِ داخلہ نے کہا کہ شہباز شریف بھی 27 مارچ کو جلسہ کر لیں، اگر تصادم ہوا توان پر کیس ہوں گے، سارے راستے میںنہیں روکیں گے، اللہ کو منظور ہوا تو اتحادی واپس آ جائیں گے اور کچھ ناراض اراکین بھی بائیس سفیروں نے رابطہ کیا ان کو کہا کہ دھمکیاں دینے والوں کا باپ بھی او آئی سی کو نہیں روک سکتا، جو اس کانفرنس کو ناکام کرنے کی کوشش کرے گا وہ سامراجی ایجنٹ ہے، اگر کسی میں ہمت ہے، کوئی مائی کا لال ہے توآئی سی کانفرنس میں مداخلت کر کے بتائے۔

اپوزیشن نے شٹ اپ کال سننے کے بعد ایک مثبت پیغام دیا ہے جس سے معاملات بہتری کی طرف جائیں گے ملکی وققار کا سودا کرنے والوں کو منہ کی کھانا پری ہے بچے سے بچگانہ سیاست کرانے والوں کو خود سامنے آنا چاہئے بلاول کے کمزور کندھے پر’ پرتھوی‘ نہیںلادنا چاہئے ملک دشمنوں کے مقاصد کی جذبات میں آکر تکمیل کرنا کوئی سیاست ہے نہ ہی دانشمندی خدانخواستہ جیسا کہ کہا جارہا ہے کہ اگلے سیٹ اپ میں بلاول کو وزیر کارجہ بنایا جائے گا تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہوگا او ر صدارت مولانا فضل الرحمان کے ہتھے چڑھی ہو ،یہ منصب بھی بے توقیری کا شاخسانہ ہوگا ۔

کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی مجال نہیں ہونی چاہئے اور وزیر داخلہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان کو یقینی بنانے اور عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہر وہ اقدام کریں جوکہ ناگزیر ہو ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن کا راستہ نہ روکیں لیکن کسی کو قانون بھی ہاتھ میں نہ لینے دیں سیکورٹی کے فول روف اقدامات کو یقینی بنائیں اور اسلام آباد بالخصوص فیض آباد کسی صورت بند نہ ہونے دیں۔ اسلام آباد داخل ہونے والے ہر شخص کو غیر مسلح کریں اور تلاشی کا عمل سخت کریں ،اسی سے تصادم کی راہ روکی جاسکتی ہے کوئی ایسا معاملہ نہ ہونے دیا جائے جس سے اپوزیشن کو مظلوم بننے کا موقع ملے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہو۔اسی طرح ہمارا فارن آفس بھی متحرک ہوجائے اور سفارتکاری کی آڑ میں سفارتی پرو ٹوکول سے ہٹ کر کوئی ایسی سرگرمی کو وقوع پذیر نہ ہونے دیا جائے جس سے کسی کے مذموم مقاصد کی تکمیل ہوسکے ۔

پی ڈی ایم نے اپنے پاس ایک دوسرا آپشن بھی رکھا ہوا ہے۔اگر تحریکِ عدم اعتماد منظور نہیں ہوتی تو لانگ مارچ کا آپشن بہرحال موجود ہے۔ سب اپوزیشن جماعتوں کا 25 مارچ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بہت سے لوگوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوسکتا ہے۔یہ کہنا بہت ضروری ہے کہ یہ پہلی تحریک عدم اعتماد ہوگی جس میں حکومت کے جانے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آئندہ کا سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا؟ نیا وزیر اعظم کون اور کس جماعت کا ہوگا؟ یہ بات اگرچہ ظاہر ہوچکی ہے لیکن عدم اعتماد ہونے کی صورت میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک دوسے کو نیچا دکھائیں گی اور کوئی بھی نیا سیٹ اپ چل نہیں پائے گا کیونکہ اقتدار کی ایک کرسی کےلئے سارے ایک دوسرے کے حریف بن جائیں گے کیونکہ ان جماعتوں کو معلوم ہے کہ جس کے پاس بھی اقتدار ہوگا وہی آئندہ الیکشن میں کامیابی سمیٹے گا۔ ق لیگ کیس صورت بھی پنجاب کو ہاتھ سے نکلنے نہیں دئے گی اور وہ ن لیگ سے سارے پچھلے حساب بے باق کرے گی اور ن لیگ کے ہاتھ سے پنجاب نکلنے کی دیر ہے وہ پیپلز پارٹی کی طرح ایک صوبے تک محدود ہوکر رہ جائے گی اور قومی پارٹی نہیں رہے گی ن لیگ کیس صورت بھی نہیں چاہے گی کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو ملے بلکہ وہ حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ بنوائیں گے کیونکہ پنجاب اسمبلی میں ان کی پوزیشن اچھی ہے ۔کیا نئے الیکشن کی کال دی جائے گی؟ اس حکومت کے دن کسی اور وزیراعظم کے تحت پورے کروائے جائیں گے؟ اس مشکل ترین وقت میں پیپلز پارٹی حکومت میں آئے گی اور اس دور کی خرابی کا سارا الزام اپنے سر لے لے گی؟اگلا بجٹ کون پیش کرے گا؟ کیا حکومت کو مقتدر حلقوںکی حمایت حاصل نہیں رہے گی؟ اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جو فیصلہ ہونا ہے 25 مارچ سے پہلے ہوجائے گا۔ او رعدم اعتماد کی ناکامی کی سورت میں جو قرائن سے ظاہر ہے اس کے بعد عمران خان ایک مختلف زاویہ سے اپوزیشن کو نظر آئیں گے جو صرف باتیں نہیںکرے گا اپوزیشن کی لوت ما کا رونا نہیںروئے گا نہ ہی سرف تنقید کرے گا بلکہ اسکے خاتمے کا عملی قدم بھی اٹھائے گا ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن اپنی جمع کرائی گئی عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے ہر حربہ اختیار کر رہی ہے اور ماضی میں ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا اور نجی ٹی وی چینلز کی زینت بن چکی ہیں جن میں بکنے والے لئے گئے نوٹ گن رہے ہیںاور وہ ڈھیر جمع کئے دیکھے گئے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی اب بھی جو ارکان اپنا ضمیر بیچیںگے اور اگلے الیکشن کیلئے خرچے کا مال جمع کریں گے ان کو بھی کی کسی قانونی اور تادیبی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ اس لعنت کو سیاست کا ایک حصہ سمجھ لیا گیاہے۔مغرب میں کسی کا ضمیر خریدنے کا کوئی تصور بھی نہیں ہے اور اگر کسی پر شک پڑ جائے تو پھر وہ معاشرے میں اپنا منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہتا۔

بدقسمتی ہے کہ ان چوروں نے 35 سال حکومت کرکے اچھے اور برے کی تمیز ختم کر دی ہے۔ سینٹ کے انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کی پی ٹی آئی کے رکن کو پیسے دینے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ مغرب میں اگر ایسا واقعہ پیش آتا تو اس کا ذمہ دار جیل میں ہوتا جبکہ وزیراعظم اس حوالے سے یہ بات کہ چکے ہیں کہ مجھے پتہ تھا کہ لوگ پیسے پکڑرہے ہیں۔ ہمارے جن ارکان کو رقوم کی پیشکشیں ہو رہی ہیں وہ مجھے بتا دیتے ہیں، میں نے ان سے کہا ہے کہ حرام کا پیسہ ہے کبھی اپنا ضمیر نہ بیچنا، عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اگر یہ پیسے دیتے ہیں تو بے شک لے لو، اس پیسے سے کوئی یتیم خانہ یا لنگر خانہ کھول دینا اور غریبوں کی مدد کرنا۔ وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے ایک دن پہلے قوم کو اس لئے ڈی چوک میں بلا رہے ہیں تاکہ اپوزیشن کو یہ پیغام دیا جائے کہ ہماری قوم زندہ ہے اور وہ اچھائی کے ساتھ کھڑی ہے اور بدی کو ختم کرنا ہے دوسری طرف ن لیگ لاہور سے قافلہ لے کر آئے گی اور مولانا اپنے رضاکاروں کو میدان میں اتاریں گے ایسی صورتحال میں یقینی طور پر امن قائم نہیں رہ سکے گا اور یہ ملکی سلامتی کے اداروں کیلئے پریشان کن صورتحال ہوگی جس سے سول ایڈمنسٹریشن کا نمٹا ناممکن ہوگا اس محاذ آرائی اوراسلام آباد میں بدترین حالات کو تخلیق کرنا کسی کیلئے بھی سود مند ثابت نہیں ہوگا ضروری ہے کہ اس صورت حال کو ڈی فیوز کیا جائے آئین اور قانون کو راستہ دیا جائے اسی میں سب کا بھلا ہوگا ۔