سیاسی پاور شو

پاکستانی سیاست جیسی بے اعتباری کوئی اور شے نہیں نہ جانے کب کیا ہو جائے کون کس کے ساتھ ہاتھ کر جائے اور کون کس کے ساتھ ہاتھ ملا لے کچھ پتہ نہیں چلتا پہلے کہتے تھے ہم اصولوں کی سیاست کرتے ہیں اس لیے ہمارے اصول ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم پینتھرے بدلتے رہیں سیاسی جماعتوں کے نظریات ہوتے تھے اور ان ہی نظریات کے پیش نظر تجزیہ کرنے والوں کو بھی آسانی ہوتی تھی زیادہ سے زیادہ ہم خیال لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے کسی کی مخالفت اور تعاون کسی بنیاد پر کیا جاتا تھا اس کا کوئی ٹھوس جواز موجود ہوتا تھا ورکر سیاسی قائدین سے سوال پوچھتے تھے اور قائدین کو اپنے ورکرز کو مطمئن کرنا پڑتا تھا اب سارا کچھ بدل گیا کون کس کا ساتھ دے رہا ہے کن بنیادوں پر دست تعاون بڑھایا جارہا ہے کچھ پتہ نہیں ورکرز کا بھی خیال ہوتا ہے جیسے تیسے ہمارا لیڈر اقتدار میں آجائے اور ہماری دیہاڑی لگ جائے جیسی روحیں ویسے فرشتے لیڈر بھی اقتدار کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے اور ورکر بھی دونوں کا مقصد حیات دیہاڑی لگانا ہے دیہاڑیاں لگاتے لگاتے ہم یہاں تک پہنچ گئے ہیں سوسائٹی کے ایک طبقہ میں بیزاری کی رمق اٹھی ہے اور وہ معاشرے کو اصولوں کی سیاست کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں ہیں لیکن کیا جائے کہ خمیر میں مفاد پرستی اتنی سرائیت کر چکی ہے کہ دل اور دماغ کے اندر جنگ کی سی کیفیت ہے ہر کوئی اپنے آپ کو حق اور دوسرے کو باطل قرار دے رہا ہے سوسائٹی میں کنفیوژن بڑھائی جا رہی ہے اتنا گند اچھالا جارہا ہے کہ سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے سیاسی جنگوں میں تمام تقاضے کھوہ کھاتے ڈال دیے گئے ہیں آج بھی لوگ پاور پالیٹکس کو فالو کرتے ہیں سب کی نظریں کہیں اور ہیں اور اشارے کہیں اور ہو رہےہیں سیاستدانوں کی اکثریت کا مقصد بہتری نہیں بلکہ گند ڈال کر اگلے کو ناکام بنانا اور اپنی راہ ہموار کرنا ہے جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے اس وقت تک تحریک انصاف اسلام آباد میں پاور شو کر چکی ہوگی اور عین ممکن ہے کہ وزیراعظم ماحول کو دیکھ کر ترب کا پتہ پھینک چکے ہوں یا صرف جلسے کے ذریعے اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنا مقصود ہو اور اس کے ذریعے مخصوص لوگوں کو پیغام پہنچانا درکار ہو کے ذرا سوچ کر یہ بھر پور جلسہ انھیں مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے اور مستقبل کے فیصلوں میں مدد دے گا

عوامی پذیرائی نے عمران خان کی دنیا بدل دی ہے ان کے ساتھی بھی انھیں قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ اگر جلد الیکشن کی طرف بھی جانا پڑے تو سودا برا نہیں کیونکہ اپوزیشن بے اصولی کے بوجھ تلے دب چکی ہے اور تحریک انصاف سخت موقف کے ساتھ اپنی نااہلی اور مہنگائی کا داغ چھپانے میں کامیاب ہو گئی ہے اب الیکشن کرپشن ہارس ٹریڈنگ اور بلیک میلنگ پر ہو گا لیکن خوف آتا ہے کہ پاکستان میں پاپولر لیڈر شپ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہوتی عمران خان جس قدر عوامی حمایت حاصل کرتے جا رہے ہیں ان کے لیے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں جب جنرل ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کی تو کچھ دنوں کے بعد انھیں چھوڑ دیا گیا اور شاید یہ چیک کرنے کے لیے تھا کہ عوام کا مزاج کیا ہے لیکن جب وہ لاہور پہنچے تو عوام کے سمندر نے ان کے لیے مشکلیں پیدا کر دیں ضیا الحق نے اس کے بعد بھٹو کو کبھی نہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا جوں جوں پیپلز پارٹی کی مزاحمت سامنے آتی گئی بھٹوکی پھانسی قریب آتی گئی آج بھی صورتحال کچھ عجیب سی ہے بہت سارے واقعات میں مشابہت پائی جاتی ہے عمران خان کی زندگی کا نیا فیز پاکستان کے لیے بہتری کی امید بھی بن سکتا ہے اور پاکستان کو نئے بحرانوں میں بھی دھکیل سکتا ہے یہ تو خدشات تھے بدلتے حالات میں بہت کچھ بدل سکتا ہے ہمیشہ صورتحال بھی ایک جیسی نہیں ہوتی اور فیصلے بھی ایک جیسے نہیں ہوتے وقت بہت کچھ نیا ہونے کی طرف اشارہ کر رہا ہے عدم اعتماد کی تحریک میں تاخیر عمران خان کے حق میں جا رہی ہے عمران خان اپنا کیس مضبوط کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے دوسری جانب نہ جانے کیوں میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ زرداری کسی بھی وقت ن لیگ کے ساتھ کوئی نیا ہاتھ کر جائیں جس طرح انھوں نے یوسف رضا گیلانی کو سینٹر منتخب کروانے کے لیے جادو گری دکھائی تھی وہ عمران خان کو بچانے میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں عدم اعتماد کی تحریک میں زرداری کو مقاصدِ حاصل نہیں ہو رہے زرداری کا مقصد پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کو لانا تھا جو کہ پورا نہیں ہو رہا اور پنجاب میں اس کی جگہ نہیں بن رہی اس لیے زرداری کی جادوگری کسی وقت بھی کچھ بھی کر سکتی ہے اس حوالے سے آپ کو ایک واقعہ بتانا چاہ رہا ہوں جب عمران خان نواز شریف کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے تھے ہم آصف علی زرداری کو ملے ہم نے کہا کہ آپ کے پاس یہ بہترین موقع ہے آپ عمران خان کی حمایت کر کے نواز شریف سے بدلہ لے سکتے ہیں اور اس کی حکومت ختم ہو سکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی حکومت تو ختم ہو جائے گی لیکن مجھے کیا فائدہ ہو گا اب بھی اگر عمران خان کی حکومت ختم کر کے ن لیگ کو فائدہ پہنچتا ہوا تو زرداری صاحب کبھی ایسا نہیں ہونے دیں گے البتہ اگر انھیں یہ یقین دہانی مل گئی کہ اگلی حکومت ان کی ہو گی تو وہ منٹ نہیں لگائیں گے تحریک انصاف کے منحرف اراکین ن لیگ کے ہاتھ میں نہیں زرداری کے ہاتھ میں ہیں اور وہ کسی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں لہذا اپریل میں کوئی بھی فول بن سکتا ہے یار لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کو تا حال قبولیت کی سند نہیں مل رہی جبکہ زرداری کسی کے دل میں گھر کر چکے ہیں بے اعتباری سیاست میں کون کس کو ہاتھ دیکھا جائے کون کس کو ریسکیو کر جائے کون کس کے ترکش کا تیر بن جائے ابھی کافی سارا کھیل باقی ہے اتحادی تا حال فیصلہ سے دور ہیں اور حکومت کا حصہ ہیں عمران خان کرپشن کے خاتمہ اور لوٹا ہوا مال ریکور کرنے کا نعرہ لے کر آئے تھے کرپشن تو وہ ختم نہ کر سکے لیکن لوگوں کے ذہن بدلنے میں وہ ضرور کامیاب ہو گئے آج چند ارکان اسمبلی کے بکنے پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں کیا یہ چھوٹی تبدیلی ہے