سیاست کی گاڑی دلدل میں پھنس گئی

تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ بدلے بدلے سے سرکار نظر آتے ہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اپنا رنگ نہ جما سکی نہ ہی جلوے بکھیر کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکی سپیکر نے جھٹ پٹ میں اپنا کام کیا اور یہ جا اور وہ جا اپوزیشن والے سپیکر کی اس بے اعتنائی پر منہ دیکھتے رہ گئے اجلاس کے بعد اپوزیشن لیڈروں کی گفتگو میں وہ والا دم خم نہیں تھا جس کا وہ چند دنوں سے تاثر قائم کرکے چھڈاں گے نیں والا ماحول بنائے بیٹھے تھے پتہ نہیں ہوا کیاہے اپوزیشن کی باڈی لینگویج سے پتہ چل رہا ہے کہ ان کے پلان میں کہیں کوئی گڑ بڑ ہو گئی ہے اور کام ٹھنڈا پڑ گیا ہے نہ جانے اپوزیشن والے کس انتظار میں تھے جو بار بار حکمت عملی تبدیل کرتے رہے تین بار تو انھوں نے اسلام آباد ریلی اور جلسے کا شیڈول تبدیل کیا اب بھی مہنگائی مکاو مارچ میں مسلم ن اور جے یو آئی زور لگا رہی ہے پیپلزپارٹی کا انٹرسٹ نظر نہیں آ رہا اس کی وجہ ہے کہ وہ پہلے ہی لانگ مارچ کے ذریعے اپنا رانجھا راضی کر چکے ہیں اور اب وہ ن لیگ وجے یو آئی کی طاقت دیکھنا چاہ رہے ہیں مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے کارکن زیادہ جذباتی دکھائی دے رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں وہ والا جذبہ نہیں نہ ہی مسلم لیگ ن کی قیادت نے اسلام آباد جانے کے لیے کارکنوں کا خون گرم کیا کوئی بڑا جلسہ نہیں کیاپتہ نہیں وہ کس پہ تکیہ کیے بیٹھے تھے کہ اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی پہلے ہی کام ہو جائے گا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کا کارکن پورے ملک میں چارج یو چکا ہے عمران خان کے جلسوں نے تحریک انصاف کو نئی جلا بخشی ہے تحریک انصاف کا کارکن بڑا جذباتی ہوا پھرتا ہے عوامی پذیرائی نے تحریک انصاف میں جان ڈال دی ہے عمران خان ایک بار پھر عوامی طاقت کے ساتھ ماحول کو اپنے حق میں کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور شاید بہت سارے لوگ اپنی سوچیں بدلنے پر بھی مجبور ہو گئے ہیں تحریک انصاف کے منحرف اراکین عوامی غیض وغضب سے خوفزدہ نظر آتے ہیں کئی واپسی کا راستہ لے رہےہیں اتحادی زیادہ سمجھدار تھے وہ تیل کی دھار دیکھ رہے تھے اور اب بدلتا ماحول دیکھ کر انھوں نے بھی اپنا ذہن بدل لیا ہے کئی جگہوں پر بریکیں لگ چکی ہیں عمران خان کے ہاتھوں سے سرکتے اقتدار میں ٹھراو سا محسوس ہو رہا ہے چند روز قبل تک جن کے منہ لٹکے ہوئے تھے وہاں اب تھوڑی سی رونق نظر آ رہی ہے عمران خان نے روائیتی گیم اصولوں کے برعکس عوام پر اعتماد کیا انھوں نے جگہ جگہ منتیں ترلے کرنے کی بجائے عوام سے رجوع کیا اور عوام نے ایک بار پھر ان پر اعتماد کرتے ہوئے عمران کی حکومت میں سوراخ کرنے والوں کے فعل کو برا تصور کرتے ہوئے عمران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جس نے بازی پلٹ دی ہم بھی یہ تصور کرتے تھے کہ پاکستان میں تمام چیزیں بے معنی ہوچکی ہیں لیکن عوام نے ثابت کیا کہ اصل طاقت وہ ہیں۔

اداروں نے بھی عوامی مزاج کو سمجھتے ہوئے عوام کا احترام کیا منحرف اراکین کے بارے صدارتی ریفرنس عدالت میں ہے اس کا فیصلہ کیا ہوتا ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن عدالتی ریمارکس بڑے حوصلہ افزا ہیں دراصل تمام قوانین جرم کا راستہ روکنے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور عدالتیں بھی معاشرے کی خرافات اور جرم کی بیخ کنی کے لیے اقدامات کرتی ہیں ہارس ٹریڈنگ کو معاشرے نے بھی ناسور قرار دیا ہے اور عدالتی آبزرویشن بھی یہی تاثر دے رہی ہیں اس لیے عوام نے اپوزیشں کے تبدیلی کے طریقہ کار سے اتفاق نہیں کیا انھوں نے تبدیلی کے لیے پارلیمنٹرین کی خریداری کو برا سمجھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اگر اپوزیشن تحریک انصاف کے بندے توڑنے کی بجائے اتحادیوں کو توڑنے پر توجہ دیتی اوران کے ذریعے تبدیلی کا پراسس شروع کرتی تو عوام اس کا شاید اتنا برا نہ مناتے یا یہ بھی ہو سکتا تھا کہ منحرف اراکین کو سندھ ہاوس میں محفوظ کرنے کی بجائے اسمبلی سے ان کے استعفے دلوائے جاتے تو عدم اعتماد سے بڑا بحران پیدا ہوتا اور پھر عمران خان کو اعتماد کے ووٹ کے لیے کہاجاتا تو وہ اپنی اکثریت برقرار نہ رکھ پاتے اور حکومت ختم ہو جاتی اپوزیشن کا خیال تھا کہ ہم ایسا ماحول پیدا کریں گے کہ عمران خان خود ہی استعفی دے دے گا لیکن یہ کام الٹ پڑ گیا ہے موجودہ حالات میں عمران خان کو اخلاقی برتری تو حاصل ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ان کی طاقت میں اتنے چھید ہو چکے ہیں کہ اب اگر وہ عدم اعتماد سے بچ بھی جائیں تو مستحکم حکومت قائم رکھنا بہت مشکل ہو گا

سیاسی عدم استحکام اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ سیاسی ڈمیج ریکور کرنا بہت مشکل کام ہے معاملات اتنے پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ ہمارے سیاستدان سیاسی گاڑی کو دلدل میں پھنسا بیٹھے ہیں اسے ٹریک پر چڑھانا اتنا آسان کام نہیں اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو بھی اپوزیشں کی جماعتیں حکومت نہیں چلا پائیں گی کیونکہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ فطری اتحادی نہیں دونوں نے کل کو ایک دوسرے کے مقابلے میں جانا ہے مسلم لیگ ن نہ تو پیپلزپارٹی کو پنجاب میں قدم جمانے دینا چاہتی ہے اور نہ ہی وہ مسلم لیگ ق کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے مسلم لیگ ن کو فوری الیکشن فائدہ مند دکھائی دیتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے کے حق میں ہیں معاشی حالات بھی اتنے دگر گوں ہیں کہ کوئی بھی حکومت اس سے نبرد آزما ہونے کی سکت نہیں رکھتی سیاسی عدم استحکام نے کاروباری حلقوں کو جمود کا شکار کر دیا ہے لہذا مجھے تو محسوس ہو رہا ہے کہ اس بحران سے نکلنے کا واحد حل جلد الیکشن ہیں اور شاید سیاستدان ذہنی طور پر اس کے لیے تیار بھی ہو چکے ہیں اور شاید کہیں کمٹمنٹ بھی دے چکے ہیں اب لگتا یہ ہے کہ حکومت کو تھوڑا وقت دیا جائے گا اس سال کے آخر تک حکومت خود ہی الیکشن کروا دے گی حکومت کے پاس جواز ہو گا کہ انھوں نے خود عوام میں آنے کا فیصلہ کیا ہے کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکا اور اپوزیشن عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کہے گی ہمارے دباو کے پیش نظر حکومت جلد الیکشن کروانے پر مجبور ہوئی ہے۔