پارلیمانی نہیں عوامی دباؤ

بظاہر تو ایسا لگ رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اکثریت کی حمایت کھو بیٹھے ہیں تحریک انصاف کے 12ارکان تو منظر عام پر بھی آ چکے جو کہہ رہے ہیں کہ ہم تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے جس کے بعد ایک روائیتی کارروائی باقی رہ جاتی ہے کہ اپوزیشن والے منحرف حکومتی ارکان کے ساتھ اسمبلی جائیں اور حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے لیکن ایسا ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا اس سے پہلے بہت کچھ ہو سکتا ہے بہت کچھ ہونے کا خطرہ موجود ہے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جس کی حکومت کو خطرہ ہے وہ اسے بچانے کی کوشش ہی نہیں کر رہا روائیتی طور پر ایسے معاملات میں یہ ہوتا ہے کہ حکومتیں وسائل کے منہ کھول دیتی ہیں اور خاص کر وفاقی حکومت کے پاس دینے کو بہت کچھ ہوتا ہے اگر یہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو یہ بھی پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گی کیونکہ اس سے قبل کسی منتخب وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکی

بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا میں عینی شاہد ہوں اس وقت بے نظیر بھٹو کی کمزور حکومت تھی ادارے بھی ان کے ساتھ نہیں تھے پنجاب میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی پنجاب حکومت کے نے اپنے تمام تر وسائل تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے جھونک رکھے تھے بلکہ الزام تو یہ بھی ہے کہ میاں نواز شریف نے بے نظیر حکومت ختم کرنے کے لیے آسامہ بن لادن سے بڑی رقم لی تھی نوٹوں کے بریف کیس بھی چل رہے تھے اراکین اسمبلی کو نوازنے کے لیے بہت کچھ کیا جا رہا تھا لیکن مقابلے میں بھی روائیتی طور طریقے ہی آزمائے جا رہے تھے اور بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد صرف اس وجہ سے کامیاب نہ ہو سکی کہ وفاقی حکومت کے پاس اراکین اسمبلی کو نوازنے کے لیے پنجاب حکومت سے زیادہ تھا اس لیے بے نظیر بھٹو کی حکومت بچ گئی وہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں 58 ٹو بی کے ٹوکے سے ان کی گردن اڑا دی گئی موجودہ حالات میں ہم عجیب منظر دیکھ رہے ہیں جس کی حکومت جا رہی ہو اس کی جان کو لالے پڑے ہوتے ہیں لیکن عمران خان کو فکر ہی کوئی نہیں وہ حکومت بچانے کے لیے تگ و دو کرنے کی بجائے عوام میں جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں اگر انھیں حکومت بچانا مقصود ہو تو وہ اتحادیوں کے پاس جائیں ان کی منت سماجت کریں سرکاری وسائل سے انھیں نوازنا شروع کر دیں ناراض ارکان اسمبلی کو مکھن لگائیں پیار پوچا لگا کر انھیں واپس بلائیں ان کو اربوں کا ترقیاتی فنڈز دے دیں دو تین کو وزیر بنا دیں ان کے بھائی بیٹوں کو سرکاری محکموں کا ایم ڈی لگا دیں ان کے من پسند افسروں کو ان کے حلقے میں پوسٹ کر دیں ان کے یار دوستوں رشتہ داروں کے کیس ختم کر دیں اور اگر نقد رقم دینا مقصود ہو تو کسی سرمایہ دار ڈویلپر کے زریعے ان کی خدمت کروا دیں یہ سارے کام کسی بھی وزیراعظم کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتے ہیں عمران خان آج روایتی کھیل کا حصہ بن جائیں کل عدم اعتماد کی تحریک فشوں ہو جائے لیکن وہ کئی دہائیوں سے خون میں سرایت کر جانے والی خرافات کو ختم کرنا چاہتے ہیں ہو سکتا ہے اس میں وہ ناکام ہو جائیں کامیاب بھی ہو سکتے ہیں لیکن یہ تو ہو گا کہ کسی نے کوشش تو کی عمران خان اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے نمٹنے کے لیے عوامی دباو استعمال کر رہے ہیں

لوٹوں کے خلاف سوسائٹی اٹھ کھڑی ہوئی ہے اگر وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو معاشرے نے نشان عبرت بنا دیا تو اس سے بڑا اور کوئی انقلاب نہیں ہو گا اگر لوگوں نے وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کا معاشرتی بائیکاٹ کر دیا تو سمجھیں عمران خان کامیاب ہو گیا اور اس کامیابی کے سامنے حکومت کی قربانی کوئی معنی نہیں رکھتی اگر لوگوں نے وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو دوبارہ قبول کر لیا تو پھر آپ فاتحہ پڑھ لیں پھر معاشرے کو کوئی نہیں بچا سکتا عمران خان معاشرتی اقدار کی ترویج کے لیے اپنے حصے کی قربانی دے رہا ہے اب سوسائٹی نے اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو اگلے انتخابات میں عمران خان مجھے بڑی کامیابی کے ساتھ واپس آتا دکھائی دیتا لیکن اگر معاشرے نے روائیتی بے حسی نہ چھوڑی اور نوٹوں کے آگے سر نڈر کر دیا بریانی کھا کر آٹے کا تھیلہ اور گھی کا ڈبہ لے کر وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو دوبارہ منتخب کر لیا تو عمران خان کی ساری جدوجہد ناکام ہو جائے گی کسی نے یہ بھی سوچا ہے کہ ناراض ارکان کی ناراضی کی وجوہات کیا ہیں اگر عمران خان ان کو ان کے حلقوں کا خدا بنا دیتا ان کے کہنے پر پولیس پٹوار اور انتظامیہ ان کے ماتحت کر دیتا تو یہ آج حکومت کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف جہاد لڑنے والوں کی پہلی صف میں جہاد کر رہے ہوتے بہر حال یہ ایک اکیڈمک ڈبیٹ ہے اب دیکھتے ہیں کہ ہو کیا رہا ہے اور ہونے کیا جا رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ میدان جنگ سج رہا ہے اور گھمسان کا رن پڑنے والا ہے اگر عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنا کردار ادا کر کے بیچ بچاو نہ کرایا تو معاملات خانہ جنگی کی طرف جا سکتے ہیں مجھے خوف آ رہا ہے کہ کہیں کوئی مشتعل ہجوم کسی منحرف رکن کے گھر کو آگ نہ لگا دے کہیں اسمبلی جاتے ہوئے کسی منحرف رکن کے ساتھ مشتعل ہجوم کچھ کر نہ دے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ سارے لوگ تماشہ دیکھ رہےہیں آگ بجھانے کی کوشش کہیں سے بھی نہیں ہو رہی سارے راستے تصادم کی طرف جا رہے ہیں اس تصادم سے بچنے کے لیے درمیانی راستہ یہ نکالا جا سکتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تمام فریقین کو بٹھائے اور اگلے چھ ماہ بعد الیکشن پر راضی کر لے سارے فریقین الیکشن کی تیاریوں میں لگ جائیں گے دوسرا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عدلیہ اپنا کردار ادا کرے منحرف اراکین اسمبلی کے بارے میں فیصلہ دے کہ ان کی پوزیشن کیا ہے کیونکہ اگر وہ ووٹنگ والے دن تک خاموش رہتے اور چپکے سے اپنے ووٹ کا حق استعمال کر کے ایک جرم کا ارتکاب کرتے تو بعد میں سزا کو فیس کرتے رہتے لیکن اب انھوں نے اپنی نیت ظاہر کر کے اقرار جرم کر لیا ہے اب ان کی پوزیشن بارے کیا قانون حرکت میں آ سکتا ہے انھوں نے سندھ ہاوس میں بیٹھ کر اقرار کیا ہے کہ وہ فلور کراسنگ کرنے جا رہےہیں وہ اپنی جماعت کے خلاف ووٹ ڈالیں گے یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اگر ایک بندہ ہاتھ میں اسلحہ لے کر کہے کہ میں فلاں بندے کا قتل کرنے جا رہا ہوں تو کیا پولیس اسے روکے گی نہیں بلکہ یہ جواز تک انتظار کرے گی کہ چونکہ اس نے عملاً جرم کا ارتکاب نہیں کیا اس لیے ہم اسے نہیں روک سکتے کیا جرم کو روکنے کا کوئی قانونی راستہ نہیں بلکہ قانون تو کہتا ہے کہ اگر پتہ چل جائے کہ کوئی کسی کو مارنا چاہتا ہے تو اسے اقدام قتل میں گرفتار کیا جا سکتا ہے اسی طرح بد نیتی کی بنیاد پر مراعات لے کر وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کے بارےمیں بھی وضاحت ضروری ہے حکومت بھی اسی بنیاد پر سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر رہی ہے اس ریفرنس کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ بڑے گہرے اثرات مرتب کرے گا یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے جنھوں نے تحریک عدم اعتماد پر سرمایہ کاری کی ہے وہ عمران خان کے حق میں عوامی حمایت پر حیران ہیں اور مالک مال یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آپ تو کہتے تھے کہ عمران خان عوامی حمایت کھو چکے جس دن اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع ہو گی لوگ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے مگر یہاں تو الٹ ہو رہا ہے لوگ اس کے حق سے میں نکل آئے ہیں ضمیر کی آڑ میں امیر کے لیے بکنے والے اب پریشان نظر آتے ہیں کہ اب کیا بنے گا عوامی سطح پر جو ان کے ساتھ ہو رہا ہے یا ہونے جا رہا ہے الامان الحفیظ اللہ کرے پاکستان انتشار سے بچ جائے