کتابیں اور سوشل میڈیا

ایک زمانہ تھا کہ عمر بھر کی ریاضت، تحقیق اور تخلیقی شعور کی پختگی کے بعد کسی شاعر یا ادیب کی کتاب شائع ہوتی تھی اور یہ کتابیں اہل قلم کی شناخت اور ادبی اہمیت کا حوالہ ثابت ہوتی تھیں۔ یہ کتابیں زندہ رہتی تھیں اور ان کے لکھنے والے ادب کے آسمان پر ستاروں کی طرح جگمگاتے تھے لیکن پھر پاکستان کے معاشرتی زوال نے دوسرے شعبوں کی طرح شعر و ادب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پھر ہر ایرا غیرا شاعر اور ادیب ہونے کا دعویدار بن گیا اور اسے ذاتی پہچان اور نمود ونمائش کا آسان ذریعہ سمجھ لیا گیا۔ مطالعے اور ریاضت کو غیر ضروری سمجھا جانے لگا۔ تخلیقی جوہر سے عاری لوگوں نے خود کو ادیب اور شاعر ثابت کرنے کے لئے بے تکی شاعری اور بے تاثیر نثر نگاری شروع کر دی اور پھر اس پر مستزاد کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی کتابیں شائع ہونے لگیں اور پھر وہ اپنا تعارف کراتے ہوئے اپنے وزیٹنگ کارڈ کی بجائے اپنی کتاب یا کتابیں ہر ملنے والے کو تھمانے لگے اور اگر ملاقاتی کوئی مشہور شخصیت ہوتو فیس بک کے لئے ایک تصویر بنوانا بھی ناگزیر سمجھ لیا گیا۔ رفتہ رفتہ یہ بدعت پاکستان سے برطانیہ اور ان دیگر ممالک تک بھی پہنچ گئی جہاں پاکستانی تارکین وطن آباد ہیں۔اوورسیز پاکستانیوں میں نام و نمود کے خواہش مند حضرات و خواتین کو شاعری اور افسانہ نگاری کا شوق چرایا تو پہلے انہوں نے پاکستان میں کسی قادر الکلام شاعر یا کسی مستند ادیب کو اپنا استاد بنایا اور ان سے اصلاح کے نام پر غزلیں اور نظمیں لکھوا کر بیرون ملک ہونے والی ادبی تقریبات میں پیش کر کے اپنی پہچان کا چراغ جلایا اور پھر پاکستان میں ایسے شاعروں کی ایک کھیپ نمودار ہوئی جو اوورسیز پاکستانی متشاعروں کو نہ صرف غزلیں نظمیں لکھ کر دینے لگے بلکہ ان کی کتاب کی اشاعت اور اس کی تقریب پذیرائی کا اہتمام بھی کرنے لگے۔ برطانیہ اور یورپ میں درجنوں ایسے متشاعر پائے جاتے ہیں جو وزن میں شعر کہنا تو کجا وزن میں شعر پڑھنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے لیکن وہ کئی کئی شعری مجموعوں کے خالق بلکہ مالک بن چکے ہیں اور اب وہ مشاعروں میں مہمان خصوصی بننے سے کم پر راضی نہیں ہوتے۔ بہت سے متشاعروں کو اس لئے بھی اپنا مجموعہ کلام چھپوانے کی جلدی ہوتی ہے تاکہ انہیںمستند شاعر سمجھا اور زیادہ سے زیادہ مشاعروں میں مدعوکیا جائے ۔ حالانکہ زیادہ سے زیادہ مشاعرے پڑھنا اچھے شاعر ہونے کی دلیل نہیں ہے۔یہ متشاعر خطیر رقم خرچ کر کے اپنی کتابیں چھپواتے اور پھر خود ہی پڑھتے ہیں یا پھر حلقہ احباب میں مفت تقسیم کر کے ان پر اپنی شاعرانہ عظمت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایسے ہی کسی متشاعر نے کسی سخن فہم سے پوچھا کہ آپ کے خیال سے میں کس پائے کا شاعر ہوں تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آپ تو مجھے چوپائے کے شاعر لگتے ہیں۔ آپ جیسے شاعروں کی کتاب چھپنے پر پبلشر کے خلاف محکمہ جنگلات کو مقدمہ دائر کر دینا چاہئے کیونکہ جنگلات کے درختوں کو کاٹ کر کاغذ بنایا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کتابیں شائع ہونے سے کس کا فائدہ ہوتا ہے؟ جس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ پبلشر اور ان استاد شاعروں کو ہوتا ہے جو اپنی تخلیقی اولاد کسی اور کو گود دے دیتے ہیں۔ مجھے امریکہ، کینیڈا یا دیگر ملکوں میں آباد اردو کے شاعروں یا ادیبوں کے بارے میں تو نہیں معلوم لیکن برطانیہ کی حد تک میں جانتا ہوں کہ اس ملک میں مقیم ا ردو کے دو شاعر اور ادیب ایسے تھے جن کی کتابیں اشاعت کے بعد شوق سے پڑھی جاتی تھیں اور ان کے کئی ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک نام ساقی فاروقی اور دوسرا نام عبد اللہ حسین کا ہے ۔ اسی طرح لندن سے اردو کے تیسرے مقبول ادیب اور براڈ کاسٹر رضا علی عابدی ہیں جن کی کتابوں کے درجنوں ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں اور آج بھی ان کی تحریریں ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ نامور برطانوی ادیب اور صحافی محمود ہاشمی مرحوم کی کتاب ”کشمیر اداس ہے“ کے بھی کئی ایڈیشنز چھپ چکے ہیں اور کشمیر کے حوالے سے یہ مقبول ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ یعقوب نظامی بھی برطانیہ میں اردو کے نامور ادیب اور محقق ہیں جن کی نصف درجن سے زیادہ کتابیں شائع ہو کر مقبولیت کی سند حاصل کر چکی ہیں۔ ہر سال مجھ تک درجنوں کتابیں پہنچتی ہیں جن میں سے بیشتر میں خریدتا ہوں اور کئی کتب ان کے مصنفین مجھے تحفتاً بھیجتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کتابوں کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ کتابیں محض رونمائی کی تقریب اور اس کی تفصیلات فیس بک اور سوشل میڈیا کی زینت بنانے کے لئے چھپوائی گئی ہیں ۔ جس کتاب کے پڑھنے سے قاری کی معلومات یا علم میں اضافہ نہ ہو یا اس کے ذوق کی تسکین کا باعث نہ بنے تو اسے محض وقت اور وسائل کو ضائع کرنا ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں اگر سینکڑوں نہیں تو اردو کے درجنوں شاعر و ادیب ایسے ہیں جن کی کتابیں چھپنے کے بعد ان کے گھروں کے سٹوریج کی زینت بنی ہوئی ہیںیا پھر جو کتابیں انہوں نے اپنے کسی ملنے والے کو اعزازی طور پر دی تھیں وہ ری سائیکلنگ سنٹر میں پہنچ چکی ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں ایسٹ لندن میں اپنے گھر کے قریب رات کے وقت گرین سٹریٹ سے گزر رہا تھا کہ ایک بڑے ڈسٹ بن (Dustbin)کے قریب مجھے اردو کی کتابوں کا ڈھیر لگا نظر آیا۔ میں وہ تمام کتابیں اٹھا کر گھر لے آیا۔ ان میں سے بیشتر کتابیں اردو کے برطانوی ادیبوں کی لکھی ہوئی تھیں۔ میں نے ان میں سے غبار خاطر اور کلیات اقبال کا نسخہ اپنے پاس رکھ لیا جبکہ باقی کتابیں احتراماً ری سائیکلنگ سنٹر کے حوالے کر آیا اور مجھے سلیم کوثر کا یہ شعر یاد آتا رہا۔

بے ہنر لوگ کہاں حرف کی سچائی کہاں

اب کتابیں کسی دریا میں بہا دی جائیں

برطانیہ اور یورپ میں آباد اردو کے جن شاعروں اور ادیبوں کو اپنی کتابیں چھپوانے کا بہت زیادہ شوق اور جلدی ہے میری ان سے گزارش ہے کہ وہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی کوشش نہ کریں۔ تخلیقی جوہر ایک بیج کی طرح ہوتا ہے جسے اگنے میں وقت لگتا ہے اور جب اس بیج سے کوئی کونپل نمودار ہو تو اس کو سینچنے اور دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بعد یہ کونپل پودے اور درخت میں تبدیل ہو کر پھل اور پھول دینے کے قابل ہوتی ہے۔ کسی کی نرسری سے خرید کر اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں سجائے جانے والے پودوں یا کسی فلاور شاپ سے لائے جانے والے گلدستے کی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔ برطانیہ میں آباد اردو کے نوآموز شاعروں اور شاعرات کا خیال ہے کہ ان کے مجموعہ کلام کی اشاعت سے دیار غیر میں اردو زبان کو فروغ ملے گا یا کسی یونیورسٹی میں اس پر تھیسس یا مقالات لکھے جانے سے کوئی انقلاب آ جائے گا۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ایسے شعری مجموعوں کی اشاعت سے ان کا اپنا رانجھا تو ضرور راضی ہو سکتا ہے لیکن اردو ادب کے سرمائے میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔جو شاعر اور شاعرات سوشل میڈیا پر اپنی بے وزن اور بے تکی شاعری پر واہ واہ سے کسی مغالطے اور خوش فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ عصر حاضر کے شاعروں ڈاکٹر خورشید رضوی، ریاض مجید، سلیم کوثر، انور شعور، باصر کاظمی، شعیب بن عزیز، فرحت زاہد، عارف امام،قمر رضا شہزاد، ثناءاللہ ظہیر، رحمان فارس، شوکت فہمی،محسن چنگیزی (جو کہ میرے پسندیدہ شاعر ہیں) کی شاعری کو ضرور پڑھیں تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ جدید اردو شاعری کی پرواز کن بلندیوں پر ہے۔ شاعر کتاب چھپوانے سے نہیں اچھا اور دل میں اتر جانے والا شعر کہنے سے معتبر ہوتا ہے۔ ثناءاللہ ظہیر کا ایک شعر ہے۔

تمہارے سامنے سچ بولنے سے رک گئے ہیں

ہمیں بتاﺅ تمہیں اور کیا پسند نہیں

٭٭٭٭