ٹیکنالوجی اور خوشی

کیا خوش رہنے کے لئے دولت کی ضرورت ہوتی ہے؟ اس کا سادہ سا جواب ہے جی ہاں ہوتی ہے۔ تو پھر اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں تمام دولت مند لوگ سب سے زیادہ خوش رہتے ہیں تو اس کا جواب ہے نہیں۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ برطانیہ میں لوگوں کی اکثریت دولت یا بہت زیادہ دولت نہ ہونے کے باوجود خوش رہتی یا خوش رہنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہاں لوگ کسی کے مال و دولت کو دیکھ کر نہ تو بہت زیادہ مرعوب اور نہ ہی کسی احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ جو لوگ بے روزگار ہیں اور سرکاری امداد پر گزارہ کرتے ہیں وہ بھی اپنی زندگی سے خوشیاں کشید کر لیتے ہیں۔ یونائیٹڈ کنگڈم اور یورپ کے بیشتر خوشحال ملکوں میں دولت اور وسائل پر کسی ایک طبقے کی اجارہ داری نہیں۔ سیاستدان دولت مند نہیں ہیں یعنی ان کی اکثریت اپنی تنخواہ پر گزارہ کرتی ہے اور جتنی تنخواہ انہیں ملتی ہے اس سے زیادہ انہیں کام کرنا پڑتا ہے اور جب یہ سیاستدان تھک جاتے ہیں یا عوامی خدمت کرنے یا اپنے پارلیمانی حلقے کے لوگوں سے رابطے میں رہنے کے اہل نہیں رہتے تو سیاست سے دستبردار ہو کر کسی نوجوان سیاستدان کو آگے آنے کا رستہ دے دیتے ہیں۔ برطانیہ میں زیادہ امیر کبیر لوگ تاجر یعنی بزنس مین اور پروفیشنلز ہیں لیکن یہ لوگ بھی دولت کو صرف جمع کرنے اور اپنی ذات تک محدود رکھنے کے عادی نہیں ہیں۔ تجارت پیشہ لوگ ٹیکس دیتے اور اپنے ملازمین کی ہر طرح کی ضرورت کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کی کمپنیز ترقی کرتی ہیں اور ان کے تجارتی اداروں میں مزید لوگوں کے لئے روزگار کی گنجائش پیدا ہوتی رہتی ہے۔برطانوی لوگوں کی اکثریت اپنے آپ کو خوش رکھنے اپنی زندگی کو سہل بنانے اور کسی قسم کا روگ نہ پالنے کی پوری کوشش کرتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر میاں بیوی کے درمیان ہم آہنگی برقرار نہ رہ سکے تو وہ پوری زندگی کڑھنے، سسکنے اور سمجھوتہ کرنے کی بجائے فوراً علیحدگی اختیار کر کے ہر طرح کی مصلحت کی قید سے خود کو آزاد کر لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان یا دیگر ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک میں دولت اور ملکی وسائل پر صرف سیاستدانوں کی اجارہ داری ہے اور یہی سیاسی لوگ ملک میں بڑے بڑے تجارتی اداروں اور کمپنیز کے بھی مالک ہیں یا پھر جاگیردار ہیں۔ ہمارے یہ تاجر پیشہ سیاستدان اربوں کھربوں روپے کے مالک ہو کر بھی خوش نہیں رہ سکتے اور اپنی دولت کو چھپاتے پھرتے ہیں۔ دولت کے انبار جمع کر کے بھی پریشان اور پشیمان رہتے ہیں۔ اگر دولت سے صحت، خوشیاں اور اطمینان خریدا جا سکتا تو آج دنیا بھر میں سب سے زیادہ صحت مند اور خوشحال ہمارے ملک کے سیاستدان ہوتے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ دولت سے قیمتی اور آرام دہ بستر تو خریدا جا سکتا ہے لیکن نیند نہیں خریدی جا سکتی۔ اعلیٰ اور لذیذ خوراک تو خریدی جا سکتی ہے لیکن صحت نہیں خریدی جا سکتی۔ خوش رہنے کے جواز توجمع کئے جا سکتے ہیں لیکن خوشی نہیں خریدی جا سکتی۔ پاکستان اور برطانیہ کے دولت مندوں میں ایک بڑا فرق یہی ہے کہ وطن عزیز کے ارب اور کھرب پتی مال داروں کی حرص ختم نہیں ہوتی اور وہ اپنی ذاتی دولت سے کسی کی فلاح وبہبود کا سوچ بھی نہیں سکتے البتہ یہ تاجر پیشہ سیاستدان جب اقتدار میں آ جاتے ہیں تو سرکاری وسائل کی بندربانٹ کرنے میں بہت فراخ دل ہو جاتے ہیں اور جب یہ سیاستدان حزب اختلاف میں ہوں یا اقتدار سے محروم ہو جائیں تو اپنی جیب سے کسی کو ایک دھیلے کی امداد تک نہیں دیتے بلکہ سیلاب زدگان کی امداد کے لئے پارٹی کو ملنے والے کروڑوں روپے بھی ہضم کر جاتے ہیں۔ وزارت خزانہ سے وزارت اعلیٰ اور صدارتی منصب پر فائز رہنے والے ہمارے پاکستانی سیاستدان اور حکمران اقتدار سے محروم ہو کر جس طرح دنیا بھر میں پناہ کے لئے مارے مارے پھرتے رہے ہیں اور اب تک پھر رہے ہیں یہ ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک و قوم کے وسائل کو غصب کر کے وہ خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔

بہرحال حقیقت یہی ہے کہ جو سیاستدان اور حکمران اپنے عوام کو سکھ چین آرام اور خوشی نہ دے سکیں وہ خود بھی کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ پریشانی اور پشیمانی ان کا مقدر بنی رہتی ہے۔ خوشی اور اطمینان اسے نصیب ہوتا ہے جو اللہ کے کرم پر شکرگزار رہے۔ رب کائنات کی ذرا ذرا سی نعمت کو اپنے لئے خیر وبرکت کا باعث سمجھے۔ جس شخص کو بھوک لگتی اور نیند آتی ہو اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس پر اللہ کا کرم ہے وگرنہ دنیا میں کروڑوں انسان ایسے ہیں جو نیند اور بھوک کو ترستے ہیں۔ اگر انسان اپنی سوچ کو مثبت رکھے اور قدرت نے اسے جو نعمتیں عطا کر رکھی ہیں ان پر غور کرے تو خوش رہنا بہت آسان کام ہے۔ خوشی اور اطمینان لازم و ملزوم ہیں۔ موجودہ دور کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور معلومات کی بھرمار نے ہماری خوشیوں میں اضافہ کیا ہے یا ہماری زندگی کو اطمینان اور سکون سے محروم کر دیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ زندگی کی تیز رفتاری نے ہماری مصروفیت میں کئی گنا اضافہ کر کے ہمارے سکون اور اطمینان کو غارت کر دیا ہے اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے بچوں سے ان کی معصومیت تک چھین لی ہے۔ بچے پہلے ماں بات کی گود میں بیٹھ کر معصوم باتیں اور سوالات کیا کرتے تھے مگر اب وہ موبائل فون تھامے والدین کی معلومات میں اضافہ کرنے لگے ہیں۔ پہلے وقتوں میں بچے بھوک لگنے پر بڑی رغبت سے کھانا کھاتے تھے اور اب جب تک بچوں کے ہاتھ میں موبائل فون یا ٹیبلٹ نہ ہو تو وہ کھانا کھانے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ایک زمانہ تھا کہ قریبی رشے داروں میں غیر مشروط اپنائیت ہوا کرتی تھی اور لوگوں کے دل بھی مہمان نوازی کے لئے کشادہ رہتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میرے بچپن اور لڑکپن کے دنوں میں ہمارے گھر کوئی قریبی رشتے دار پیشگی اطلاع کے بغیر آتے تھے تو انہیں اللہ کی رحمت سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے گھر کے باہر جب کوئی رکشہ آ کر رکتا تھا اور اس میں میرے کوئی ماموں یا پھپھو باہر نکلتے تھے ہم بچے شور مچاتے ہوئے بھاگ کر گھر میں اطلاع دیا کرتے تھے کہ کون مہمان آیا ہے اور ان مہمانوں کی خاطر مدارت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جاتی تھی۔ اب بھی یہ روایت بہت سے خاندانوں میں موجود ہے لیکن اس میں پہلے جیسے رکھ رکھاؤ والی بات نہیں رہی۔ پہلے ہم سکول اور کالج سے گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے رشتے داروں کے گھر جا کر کئی دن تک قیام کرتے تھے اور اپنے کزنز سے ہمارا دوستی کا رشتہ بھی برقرار رہتا تھا اب یہ رواج بھی کم ہو گیا ہے۔ پہلے ہم بچوں کے رسالے اور غیر نصابی کتابیں پڑھنے کے شوقین ہوا کرتے تھے مگر اب یہ عادت بھی موبائل فون نے یکسر بدل دی ہے۔ پہلے اعلیٰ تعلیمی کارکردگی پر والدین بچوں کو سائیکل لے کر دیا کرتے تھے مگر اب طالبعلم اچھے سے اچھے موبائل فون کی فرمائش کرتے ہیں۔ٹیکنالوجی اور خاص طور پر موبائل فون کی فراوانی نے ہماری بہت سی اچھی عادتوں کو ماضی کا قصہ بنا دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب ہر طرح کی معلومات تک رسائی اور تازہ ترین حالات و واقعات سے فوری آگاہی بہت آسان ہو گئی ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کی ترقی کے باعث جہاں جرائم کا پتہ لگانے اور مجرموں تک پہنچنے میں آسانی ہو گئی ہے وہیں جرائم پیشہ لوگ بھی ٹیکنالوجی کو اپنی وارداتوں کے لئے استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں۔ ٹیکنالوجی اور آگاہی کا یہ سیلاب معلوم نہیں ہمارے سکون اور اطمینان کو بہا کر کہاں لے جائے گا؟ اور آنے والے وقتوں میں ہماری یہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ اس بارے میں ہم صرف محو حیرت ہی رہ سکتے ہیں۔ عام طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو روش ہم نے اختیار کر رکھی ہے سارا زمانہ ہی اسی ڈگر پر چل رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ برطانیہ سمیت بہت سے ملکوں او رمعاشروں میں ٹیکنالوجی کو سماجی زندگی کی سہولتوں اور آسانی کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اسے اپنی ذاتی زندگی کی مثبت روایات پر حاوی نہیں ہونے دیا گیا۔ برطانیہ میں آج بھی لاکھوں لوگ بڑے شوق سے نئی کتابیں خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ ہر سال دسمبر کے آخر میں کروڑوں کرسمس کارڈ اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو ڈاک کے ذریعے بھیجتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں کتابیں پڑھنے کا رجحان دم توڑ رہا ہے اور عید کارڈ ارسال کرنے کی روایت تو بہت پہلے سے ہی ختم ہو چکی ہے۔ اب ہم صرف موبائل فون پر ٹیکسٹ میسج کے ذریعے عید مبارک کہنے پر اکتفا کرنے لگے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی مثال ایک چھری کی طرح ہے جو ہر گھر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اس چھری سے حسب ضرورت پھل اور سبزی کاٹ لیں اور اگر چاہیں تو اسی چھری سے کسی کو زخمی کر دیں یا اپنی انگلی کاٹ لیں اس میں چھری کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا قصور آپ کے ذمہ ہو گا۔ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہماری زندگی کو آسانیوں اور سہولتوں سے آراستہ تو ضرور کر دیا ہے لیکن خوشی اطمینان اور سکون میں اضافہ کیا ہے یا نہیں اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

٭٭٭٭